Chitral Times

Feb 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

غیرملکی سازش کے خلاف تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی چیف جسٹس خود کریں، صدر مملکت

Posted on
شیئر کریں:

غیرملکی سازش کے خلاف تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی چیف جسٹس خود کریں، صدر مملکت

اسلام آباد( چترال ٹایمز رپورت )صدر مملکت کا چیف جسٹس کے نام لکھا خط سامنے آگیا، عارف علوی نے کہا ہے کہ غیرملکی سازش کے خلاف تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی چیف جسٹس خود کریں۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے حکومت گرانے کی غیرملکی سازش کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی غرض سے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا تھا جس کا متن سامنے آگیا ہے۔اپنے خط میں صدر مملکت نے لکھا ہے کہ غیر سازش کی تحقیقات اور سماعت کے لیے جوڈیشل کمیشن کی سربراہی ترجیحاً چیف جسٹس خود کریں ہمیں ملک کو سیاسی و معاشی بحران سے بچانے، صورتحال مزید بگڑنے سے روکنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر عارف علوی نے لکھا ہے کہ ملک میں ایک سنگین سیاسی بحران منڈلا رہا ہے، حالیہ واقعات کے تناظر میں پاکستان کے عوام میں بڑی سیاسی تفریق پیدا ہو رہی ہے، تمام اداروں کا فرض ہے کہ ملک کو مزید نقصان اور بگاڑ سے بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کریں، افسوس کہ تبصرے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے جا رہے ہیں جس کے سبب غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں۔صدر مملکت نے تحریر کیا ہے کہ مواقع ضائع ہو رہے ہیں، کنفیوڑن پھیل رہی ہے، معیشت بھی بحران میں ہے، سپریم کورٹ نے ماضی میں قومی سلامتی، سالمیت، خودمختاری اور مفاد عامہ کے معاملات میں عدالتی کمیشن تشکیل دیے، چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن نے 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی انکوائری کی۔صدر مملکت نے لکھا کہ اسی طرح میموگیٹ معاملے کی تحقیقات کے لیے بھی جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا، لاپتا افراد کے لیے ایک فعال جوڈیشل کمیشن موجود ہے جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے جج کررہے ہیں اور اب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کمیشن کے قیام کی خواہش کا اظہار کیا۔خط میں عارف علوی نے کہا ہے کہ قوم سپریم کورٹ کا احترام کرتی ہے، اپنی توقعات پر پورا اترنے کی امید کرتی ہے، کمیشن کو معاملے کی تحقیقات قانون کی تکنیکی بنیادوں پر نہیں بلکہ انصاف کی اصل روح کے مطابق کرنی چاہیے، یہ ہمارے ملک کی بہت بڑی خدمت ہوگی، پاکستانی عوام قومی اہمیت کے معاملے پر وضاحت کی مستحق ہے۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مزید لکھا کہ عالمی تاریخ میں سازشوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کی کارروائیوں کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، میری رائے ہے کہ ریکارڈ شدہ حالات اور واقعات پر مبنی شواہد نتائج کی طرف لے جاسکتے ہیں، درخواست ہے کہ جوڈیشل کمیشن مبینہ سازش کے معاملے کی مکمل تحقیقات کرے۔

 

ایون فیلڈ ریفرنس کیس؛ آئندہ سماعت پر نیب کو متعلقہ ریکارڈ رکھنے کی ہدایت

اسلام آباد(سی ایم لنکس)جسٹس عامر فاروق نے نیب کو ہدایت کی کہ عدالت کے سامنے متعلقہ ریکارڈ رکھیں۔ ہم آج سماعت ملتوی کرتے ہیں مگر آئندہ سے اس کو ریگولر سنیں گے۔ تفصیلات کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سزا کے خلاف مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اپیل پر سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی۔مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے وکلا عرفان قادر اور امجد پرویزجبکہ نیب کی جانب سے عثمان راشد چیمہ اور سردار مظفرعباسی عدالت میں پیش ہوئے۔عرفان قادرایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت نے نیب سے جواب طلب کررکھا ہے۔ نیب مسلسل ٹائم لیتا رہا آج جواب دینا تھا تو نیا وکیل لے آئے۔ مسلسل تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔جسٹس عامر فاروقی نے کہا کہ آپ دلائل نہیں بھی دیں گے تب بھی عدالت نے کیس کے ریکارڈ کا جائزہ لینا ہے۔عرفان قادر ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت سے استدعا ہے تقریباً دلائل مکمل ہوچکے ہیں مزید تاخیر نہ کی جائے۔

عدالت نے کہا کہ امجد پرویزایڈووکیٹ نے دوران ٹرائل ان دستاویزات پر کیوں اعتراض عائد نہیں کیا۔ ایڈووکیٹ امجد پرویزنے جواب دیا کہ احتساب عدالت میں قانون کے مطابق اعتراض اٹھایا گیا تھا۔عرفان قادر نے کہا کہ یہ کیس شواہد نہ ہونے کا کیس ہے۔ سپریم کورٹ کی اس کیس میں بے ضابطگیوں کا بھی ذکرکیا ہے۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ شواہد نہ ہونے کی صورت میں بھی اس کا جائزہ لیں گے۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا معاملہ بالکل الگ ہے۔ مریم نواز کا کیس نوازشریف کے ساتھ دیکھنا ہوگا۔عدالت نے کہا کہ یہ دیکھنے کے لیے کہ اس کیس میں کوئی شواہد نہیں آیا تب بھی عدالت کو ریکارڈ کا مکمل جائزہ لینا ہوگا۔عرفان قادر نے کہا کہ اپنی درخواست میں اس کیس سے متعلق سپریم کورٹ کی بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔جسٹس عامرفاروق نے نیب کو ہدایت کی کہ عدالت کے سامنے متعلقہ ریکارڈ رکھیں۔ ہم آج سماعت ملتوی کرتے ہیں مگر آئندہ سے اس کو ریگولرسنیں گے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آج اس اپیل کی 26 ویں سماعت ہے۔ کیس کے دلائل شروع کریں گے تو ہی کیس ختم ہوگا۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ عدالت نے ابھی تک چیدہ چیدہ کیس کے ریکارڈ کا جائزہ لیا ہے۔ آپس میں طے کرلیں اس کیس کو کیسے لے کرآگے چلنا ہے۔ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے، یہ اپیلیں اتنے عرصہ سے پڑی ہوئی ہیں۔عدالت نے کہا کہ کوشش کریں گے جون میں اس کیس کو شروع کریں اور دو تین ہفتوں میں مکمل کرلیں۔وکیل عرفان قادرنے عدالت سے استدعا کی کہ اگرنوازشریف کو comfort دے دیا جائے تاکہ وہ آئیں اور پیش ہوں۔نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ معاملہ ابھی عدالت کے سامنے ہے ہی نہیں مناسب نہیں اس طرف جانا۔عدالت نے کہا کہ نوازشریف کی اپیلوں کا معاملہ ابھی الگ اوپن رکھا ہوا ہے.اسلام آباد ہائی کورٹ نے مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اپیل پر سماعت دو جون تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ نیب نے مریم نواز کی اپیل پربیرسٹرعثمان جی راشد کی خدمات دوبارہ حاصل کیں او انھیں فیلڈ اپیلوں پر دوبارہ نیب پراسیکیوشن ٹیم کا سربراہ مقررکیاَ۔

 


شیئر کریں: