Chitral Times

Oct 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ملک کے بہتر مفاد میں فوج کو سیاسی گفتگو سے دور رکھا جائے، آئی ایس پی آر

Posted on
شیئر کریں:

ملک کے بہتر مفاد میں فوج کو سیاسی گفتگو سے دور رکھا جائے، آئی ایس پی آر

راولپنڈی( چترال ٹایمز رپورٹ)آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ملک کے بہترین مفاد میں مسلح افواج کو سیاسی گفتگو سے دور رکھا جائے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی گفتگو میں دانستہ طور پر پاکستان کی مسلح افواج اور ان کی قیادت کو ملوث کرنے کی کوششیں کی گئیں، یہ کوششیں مسلح افواج کے ساتھ ساتھ ان کی اعلیٰ قیادت کے حوالے سے ہیں۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ کوششیں براہ راست یا بالواستہ عوامی فورمز اور سوشل میڈیا سمیت مختلف فارمز پر کی گئیں، سیاسی رہنما، صحافی اور تجزیہ کاروں کی جانب سے غیر مصدقہ، ہتک آمیز اور اشتعال انگیز بیانات کا یہ عمل انتہائی نقصان دہ ہے۔اپنے بیان میں آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج سب سے توقع کرتی ہیں کہ وہ قانون کی پاس داری کریں اور مسلح افواج کو ملک کے بہترین مفاد میں سیاسی گفتگو سے دور رکھیں۔

 

وزیرِ اعظم نے چیئرمین واپڈا کا استعفی منظور کر لیا

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین کا استعفیٰ منظور کر لیا۔چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین نے گزشتہ روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔اس حوالے سے مزمل حسین کا کہنا تھا کہ اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو بھجوا دیا ہے، استعفیٰ دینے کی وجوہات ابھی شیئر نہیں کر سکتا لیکن استعفیٰ منظور ہونے کے بعد وجوہات پر تفصیلی گفتگو کروں گا۔مستعفی چیئرمین واپڈا نے یہ بھی کہا تھا کہ میں نے اپنی تعیناتی کے دوران متعدد اہم آبی وسائل پر کام کیا، واپڈا کو اپنے پاو?ں پر کھڑا کر کے دکھایا۔

 

منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی، سپریم کورٹ کل پھر سماعت کرے گی

اسلام آباد(سی ایم لنکس)سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت کل ہو گی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ صدارتی ریفرنس پر سماعت کرے گا۔ پانچ رکنی لارجر بینچ میں چیف جسٹس پاکستان کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، مظہر عالم میاں خیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی شامل ہوں گے۔مسلم لیگ ن کے وکیل مخدوم علی خان نے بیرون ملک ہونے کے باعث سترہ مئی کے بعد تک کیس سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا کر رکھی ہے. عدالت انہیں ویڈیو لنک پر بھی دلائل دینے کا کہہ سکتی ہے یا عدالت پی ٹی آئی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان سمیت دیگر فریقین کے وکلا کو دلائل دینے اور جواب الجواب کا کہہ سکتی ہے۔ اس وقت تک مخدوم علی خان بھی وطن واپس آسکتے ہیں۔صدارتی ریفرنس پر اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور دیگر سیاسی جماعتوں کے وکلا کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب نئے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کا تقرر بھی ہو چکا ہے۔اٹارنی جنرل نئی حکومت کا موقف سپریم کورٹ میں پیش کریں گے۔یاد رہے کہ صدر مملکت نے منحرف اراکین سے متعلق آرٹیکل63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس دائر کر رکھا ہے۔سپریم کورٹ تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر آرٹیکل 63 اے پر اپنی رائے دے گی۔تحریک انصاف چاہتی ہے کہ منحرف اراکین کو تاحیات نااہل قرار دیا جائے۔

 


شیئر کریں: