Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھڑکنوں کی زبان – “آج کل ملک میں عین جمہوری حکومت ہے “- محمد جاوید حیات 

Posted on
شیئر کریں:

دھڑکنوں کی زبان – “آج کل ملک میں عین جمہوری حکومت ہے “- محمد جاوید حیات

ملک خداداد میں آج کل عین جمہوری حکومت ہے ۔آج اگرامریکہ کے صدر ابراہیم لنکن زندہ ہوتا تو اٹھلا اٹھلا کے اس جمہوری حکومت کی مثالیں دیتا کیونکہ انہوں نے اپنے 1863ٕ کے خطاب میں کہا تھا ۔Democracy …the government of the people ,for the people and by the people..آج کل ملک خداداد کی ہر جمہوری پارٹی حکومت کا حصہ ہے ۔مرکز میں پی ڈی ایم جس میں جماعت اسلامی کے علاوہ سب بڑی پارٹیاں شامل ہیں کی حکومت ہے پنجاب میں ن لیگ صوبہ خیبر پختونخواہ جی بی کشمیر میں پی ٹی آٸی سندھ میں پی پی پی اور بلوچستان میں بھی حکومت ہے ۔عوام خوش ہیں کہ سب کی نماٸندگی ہے ۔ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہوۓ بھی احتیاط کرنا پڑتا ہے کہ ایک جگہ ایک کچھ برا کر رہا ہے تو دوسری جگہ دوسرا کررہا ہے حساب برابر ہے ایک نے قرضہ لیا تو دوسرا بھی لے رہا ہے ایک شورشرابا کر رہا تھا تو دوسرابھی کر رہا ہے دونوں کے ہاں دیر بھی ہے اندھیر بھی ۔۔دودھ کا دھلا کوٸی نہیں۔ عوام کو جواب دہ دونوں نہیں اس لۓ کہ سب کے پیارے اس دھندے میں شامل ہیں ۔

 

اگر اسلام کی بات کرنا ہے تو موقع ہے اگر سود کے خلاف لڑنا ہے تو موقع ہے فحاشی عریانی کو ناپسند کرنے والوں کو اب کس بات کی دیر ہے۔مہنگاٸی کا طوفان روکنے کے لۓ یہ کارخانے دار اپنے کارخانوں کے منہ کیوں نہیں کھولتے ۔ملک کی جی ڈی پی بڑھانے کے لۓ سرماۓ کیوں نہیں لگاتے ۔کرپشن کا رونا رویا جاتا تھا اس کی روک تھام کے لۓ اقدام کیوں نہیں اٹھایا جاتا ۔ملک دیوالیہ ہو رہا ہے ریونیو سورسس ہیں ان کو کیوں نہیں بڑھاتے ۔یہ معاشی ماہرین کی آراءیہ تبصیرے تجزیے یہ مہارتیں یہ کس کام کے ۔یہ ممبروں نماٸندوں وزیروں امیروں کی شاہ خرچیاں کم کیوں نہیں کراٸی جاتیں ۔یہ جمہوریت ہے لوگوں کی لوگوں کے لۓ لوگوں کے زریعے حکومت ہے ۔حکمران عوامی ہیں عوام کا دکھ درد سمجھتے ہیں۔انصاف کا تقاضا ہے کہ کچھ کر دیکھاٸیں اگر ایسا کچھ نہ ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ ہم سب نااہل ہیں کسی بھی جماعت کے پاس حکومت کرنے کی اہلیت نہیں جو بھی اقتدار میں آۓ گا نظام نہیں بدلے گا ۔

عوام پستے رہیں گے۔سیاست اور حمایت بھی نیگیٹیو ہو رہی ہے ضد اور ہٹ دھرمی کی فضا ہے شخصیت پرستی عروج پر ہے ۔پوری دنیا کے سامنے قوم کی سبکی ہو رہی ہے ۔کہیں ہماری آزادی پر حرف نہ آۓ ۔کہ ہم حکمرانی کرنے کے اہل نہیں ہیں ۔ملک کی تاریخ میں کبھی یوں حالات پیدا نہیں ہوۓ تھے ۔سنیٹر کوٸی اور وزیر اعظم کوٸی اور صدر کوٸی اور ۔۔ایک گھر میں آیٸن باٸین شاٸین ۔۔ڈھیڑ اینٹ کی مسجد ۔۔ایک عظیم اسلامی ملک ایک اٹیمی طاقت ۔۔سلام کی نگاہیں اس پر ۔۔دشمن کی آنکھوں میں کھٹکنے کی صلاحیت رکھنے والا ملک ۔ایک بہادر لڑاکو فوج ۔ہھتیاروں سے لیس ۔سرحدیں محفوظ ۔۔بس سنہری پایوں والی کرسی پہ جھگڑا ۔۔۔بے چینی ۔۔جنت نظیر ملک میں آگ خون اور جنون کا کھیل ۔یا اللہ یہ ہم کس دور میں زندہ ہیں ۔اقبال نے کہا ۔۔۔
گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کارے شو
کہ از مغز دو صد خر فکر انسانی نمی أید ۔۔
اگر جمہوریت کچھ یوں ہے تو ہم گریز کرتے ہیں ۔ابراہیم لنکن کو اس کی تھیوری مبارک ہو ۔


شیئر کریں: