Chitral Times

Sep 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وفاقی شرعی عدالت کی حکومت کو سودی نظام ختم کرنے کے لیے پانچ سال کی مہلت

Posted on
شیئر کریں:

وفاقی شرعی عدالت کی حکومت کو سودی نظام ختم کرنے کے لیے پانچ سال کی مہلت

اسلام آباد(سی ایم لنکس)پاکستان کی وفاقی شریعت کورٹ نے جمعرات کو وفاقی حکومت کو پانچ سال کے عرصے میں ملک میں سود کے مکمل خاتمے اور ربا سے پاک بینکاری نظام نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت پاکستان کی ایک آئینی عدالت ہے جو ملکی قوانین کا اسلامی شریعت کے مطابق ہونے کا تعین کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔جمعرات کو وفاقی شرعی عدالت نے 19سال بعد سود کے نظام کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے سود کے لئے سہولت کاری کرنے والے تمام قوانین اور شقوں کو غیر شرعی قرار دے دیا۔ خلاف شریعت قرار دئیے گئے تمام قوانین یکم جون 2022 سے ختم ہو جائیں گے۔عدالت نے فیصلے میں 31 دسمبر 2027 تک تمام قوانین کو اسلامی اور سود سے پاک اصولوں میں ڈھالنے کا حکم بھی دیا۔

شرعی عدالت نے انٹرسٹ ایکٹ 1839 اور یکم جون 2022 سے سود سے متعلق تمام شقوں کو غیر شرعی قرار دے دیا۔شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ معاشی نظام سے سود کا خاتمہ شرعی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ملک سے ”ربا“ کا ہر صورت میں خاتمہ کرنا ہو گا۔ ربا کا خاتمہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔شرعی عدالت کے جسٹس سید محمد انور نے فیصلے میں کہا کہ بینکوں کا قرض کی رقم سے زیادہ وصول کرنا ربا کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ 2 دہائیاں گزرنے کے بعد بھی سود سے پاک معاشی نظام کیلئے حکومت کا وقت مانگنا سمجھ سے بالاتر ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے سود سے پاک بینکنگ کے منفی اثرات سے متفق نہیں۔ سمجھتے ہیں کہ معاشی نظام کو سود سے پاک کرنے میں وقت لگے گا۔ عدالت نے کہا کہ بینکوں کا ہر قسم کا انٹرسٹ ربا ہی کہلاتا ہے۔ ربا مکمل طور پر اور ہر صورت میں غلط ہے۔ سود کے خلاف درخواستیں جماعت اسلامی اور دیگر نے دائر کی تھیں۔فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ ’وفاقی شرعی عدالت نے پاکستان میں سود پر پابندی لگائی ہے جو پہلے سے آئین کا تقاضہ تھا۔‘سراج الحق نے بتایا کہ وفاقی شرعی عدالت نے 1991 میں بھی اس پابندی کا فیصلہ دیا تھا لیکن اس وقت کی وفاقی نے سپریم کورٹ جا کر شرعی عدالت کے فیصلے پر سٹے آرڈر لے لیا تھا۔امیر جماعت کا کہنا تھا کہ ’آج شرعی عدالت کے ججز نے سود کے خلاف متفقہ فیصلہ دیا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگرچہ فیصلے میں حکومت کو تمام قوانین کو بہتر بنانے کے لیے پانچ سال دیے گئے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں ایسا جلد سے جلد کیا جائے۔‘

 


شیئر کریں: