Chitral Times

Oct 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بے روزگاری ایک مصیبت ۔ تحریر: عبدالباقی چترالی

Posted on
شیئر کریں:

ہندوکُش کے دامن سے چرواہے کی صدا
بے روزگاری ایک مصیبت۔تحریر: عبدالباقی چترالی

بے روزگاری ایک مصیبت ہے جو اپنے ساتھ دوسری بہت سی مصیبتیں لے کر آتی ہے۔بے روزگاری، بھوک اور بیماری کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ بے روزگاری کا اثر صرف ایک فرد پر نہیں ہوتا بلکہ پورے خاندان پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ خاندان کے تمام افراد متاثر ہوتے ہیں۔ بے روزگاری کی وجہ سے معاشرے میں بے شمار اخلاقی اور سماجی برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ان میں چوری، ڈکیتی، بے ایمانی اور منشیات فروشی شامل ہیں۔زیادہ عرصہ بے روزگار رہنے کی وجہ سے بعض تعلیم یافتہ نوجوان ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔ اگر ان کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ خاندان اور معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ جب نوجوان کالج یا یونیورسٹی سے فارغ ہوتا ہے تو اس کے سامنے سب سے بڑا مسلہ روزگار کا حصول ہوتا ہے۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے نوجوانوں کو زیادہ پریشانی لاحق ہوتی ہے۔ وہ روزگار کی تلاش میں دن رات مارے مارے پھرتے رہتے ہیں۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد تمام نوجوانوں کی خواہش سرکاری ملازمت کا حصول ہوتا ہے جو کسی بھی ترقی پذیر ملک میں تمام تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمت مہیا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔اکثر والدین اپنے پیٹ کاٹ کر اپنے اولاد کی تعلیم کے اخراجات پوری کرتے ہیں۔ وہ اپنے والدین کی امیدوں کا مرکز ہوتے ہیں۔ مسلسل کوشش کے باوجود روزگار کے حصول میں ناکام ہوتے ہیں تو وہ شدید مایوسی کے عالم میں منشیات فروشی اور دوسرے جرائم کی طرف ان کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ آج کل ملک میں جرائم کی شرح روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ اس کی ایک بری وجہ بے روزگاری، غربت اور ناانصافی ہے۔ہر سال کالجوں اور یونیورسٹیوں سے ہزاروں کی تعداد میں طلباء و طالبات تعلیم مکمل کرکے نکلتے ہیں۔ ان میں سے بہت کم نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور بیشتر نوجوان نوکری کی تلاش میں سال بھر سرگردان رہتے ہیں۔بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں کمی آنے کی بجائے روزبروز اضافہ ہوتا جارہا ہے اور روزگار کا مسلہ تمام نوجوانوں کیلیے خواب بنتا جارہا ہے۔

اس صورت حال کی ایک بڑی وجہ برسوں سے ہمارے ملک میں رائج ناقص تعلیمی نظام ہے۔ ہماری درسگاہوں میں فنی تعلیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔موجودہ حالات میں فنی تعلیم وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس وقت تعلیمی اداروں میں خودروزگار اسکیم کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے تاکہ نوجوان تعلیم سے فارغ ہوکر اپنے لیے خود روزگار کا بندو بست کرسکیں۔ وہ اپنے خاندان، معاشرہ اور ملک پر بوجھ نہ بنے۔ اس وقت ہمارے درسگاہوں سے نوجوان جو ڈگریاں حاصل کرکے فارغ ہوتے ہیں یہ ڈگریاں نہ دنیا کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں اور نہ آخرت میں کسی کام آسکتے ہیں۔یہ ڈگری یافتہ اپنے لیے ایک وقت کا کھانا پیدا کرنے کے قابل بھی نہیں ہوتا۔ لاکھوں روپے خرچ کرکے ایسی ڈگری حاصل کرنا وقت کا ضیاع اور پیسوں کی بربادی کے سوا کچھ نہیں ہے۔موجودہ تعلیمی نظام میں تبدیلی لاکر میٹرک سے بچوں کو فنی تعلیم دینے سے وہ اپنے لیے روزگار پیدا کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے خاندان، معاشرہ اور ملک پر بوجھ بننے کی بجائے اپنے لیے خود روزی کمانے کے قابل ہوجائے گا۔تعلیم میں فنی اور عملی کاموں پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ صرف ان نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم دینی چاہیے جن میں واقع قابلیت اور صلاحیت موجود ہو۔ باقی جوانوں کو دوسرے فنوں میں تربیت دینی چاہیے۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں نوجوان اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نوجونوں کے لیے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔

روزگار کے مواقع پیدا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ملک میں ترقیاتی منصوبے لگانے سے ملک ترقی کرتا ہے اور ملازمت کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اس وقت ملک میں کارخانے، فیکٹریاں اور صنعتیں لگانا تو دُور کی بات ہے، پرانے کارخانے، فیکٹریاں اور صنعتیں بھی مختلف وجوہات کی بناء پر بند پڑے ہیں۔ اس وجہ سے ملک میں بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ موجودہ حکومت بے روزگاری میں کمی لانے میں تاحال کامیاب نہیں ہوئی ہے۔
۸جنوری ۲۲۰۲

 


شیئر کریں: