Chitral Times

Oct 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ نئے جنگلات کا رقبہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

داد بیداد ۔ نئے جنگلات کا رقبہ ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

خیبر پختونخوا کے محکمہ ما حو لیات نے پا کستان کے سب سے بڑے خلا ئی تحقیقی مر کرز سپار کو کے تعاون سے ایک تحقیقی سروے کیا ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبے کے اندر جنگلات کے رقبے میں 846مر بع کلو میٹر کا اضا فہ ریکارڈ کیا گیا، سروے میں ریموٹ سینسنگ کے جدید آلا ت استعمال کئے گئے مو جو دہ دور میں مو سمیا تی تغیر، عالمی حدت، اور جنگلات کے رقبے میں مسلسل کمی کا باربار ذکر کیا جا تا ہے اس صورت حال میں خیبر پختونخوا کے اندر جنگلات کے رقبے کا بڑھنا بہت فخر اور خو شی کی بات ہے اور اس کا سہرا فیصلہ سازوں کے ساتھ ساتھ میدان عمل میں فیصلوں پر عملدرآمد کرنے والے اداروں کے سر ہے دونوں کو اس کا برابر کریڈیٹ دینا چا ہئیے.

ہمارے صوبے میں شجر کاری کے حوالے سے کئی اہم منصوبے آئے 1980ء کی دہا ئی میں مہا جرین کی اباد کاری کے عالمی ادارے UNHCRکے تعاون سے جنگل با نی پر بہت کا م ہوا، پھر واٹر شید منیجمنٹ کے ذریعے محکمہ ما حو لیات نے جنگلات لگا نے کا مر بوط پرو گرام پر کامز ہوا 2014ء میں پا کستان تحریک انصاف کی صو با ئی حکومت نے ایک ارب درخت لگا نے کا بڑا منصو بہ متعارف کرا یا اس کے بعد ملکی سطح پر عمران خا ن کے وژن کے مطا بق دس ارب درخت لگا نے کا پرو گرام دیا گیا جس کو پوری دنیا نے سرا ہا یقینا جنگلا ت کے رقبے میں اگر اضا فہ ہوا ہے تو اس میں ان تما م منصو بوں کا حصہ ہے لیکن مذکورہ سروے کا دائرہ 2007سے 2018

تک گیا رہ سالوں پر محیط ہے اگلا سروے ہو گا تو جنگلات کے رقبے میں مزید اضا فہ سامنے آئیگا ایک عام شہری کے لئے جنگل لکڑی حا صل کرنے کا ذریعہ ہے، کاروبار ی طبقے کے لو گ جنگلات کو قیمتی نبا تات، ادویات، نا یا ب نسل کے جا نوروں، درندوں اور پرندوں کی و جہ سے اہمیت دیتے ہیں سائنسدانوں کا نقطہ نظر سب سے مختلف ہے سائنسدان مشکل زبان، نا ما نوس اصطلاحات اور سائنسی تر کیبات کے ذریعے ہمیں باور کراتے ہیں کہ کرہ ارض پر جاندار اشیا ء کی زندگی کا دارو مدار جنگلا ت پر ہے انسا نی زندگی کے لئے جنگلات متوازن آب و ہوا فراہم کر تے ہیں اور جنگلات نہ ہوں تو انسان کا سانس لینا مشکل ہو جا ئے سائنسدان کہتے ہیں کہ کار خا نوں اور موٹر گاڑیوں میں ایندھن جلتا ہے تو دھواں پیدا ہو تا ہے.

دھواں کے اندر زہریلی گیسوں کی بڑی مقدار ہوتی ہے، اس مقدار کو متوازن بنا نے میں جنگلات مثبت کر دار ادا کر تے ہیں سائنسدانوں نے زہریلی گیسوں کو گرین ہاوس گیس (GHG) کا نا م دیا ہے اس کے مقا بلے میں ایک عنصر کا تعارف کیا ہے یہ عنصر کار بن ہے جو کوئلے میں بڑی مقدار میں پا یا جا تا ہے یہ ایسا عنصر ہے جو خود جلتا ہے لیکن جاندار اشیاء کی زند گی کے لئے کرہ ارض اور سمندر وں کے ساتھ فضا ئے بسیط کی ہوا ووں کو معتدل رکھنے کا کام دیتا ہے سائنسدانوں نے فضا ئی الود گی پر قا بو پا نے اور زہر یلی گیسوں کے مضر اثرات کو قا بو میں رکھنے کے لئے کا بن کے نا م سے معا شی حل پیش کیا ہے حل یہ ہے کہ کاربن فنانسنگ کے نا م سے معا شی حل پیش کیا ہے حل یہ ہے کہ دنیا کے دولت مند لو گ، کار خا نوں کے ما لکا ن تر قی یا فتہ ملکوں کی حکو متیں، اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیمیں اور علا قا ئی تعا ون کی بین لا قوامی تنظیمیں ملکر کا ر بن فنا نسنگ کے نا م سے ایک فنڈ قائم کریں اس فنڈ سے ضرورت منداقوام اور خطرے سے دو چار آبا دیوں کے لو گ وسائل حا صل کر کے جنگلات کے رقبے میں اضا فہ کر سکیں گے اور زہر یلی گیسوں کے مضر اثرات پر قا بو پا نے میں اپنا کر دار ادا کرینگے .

سائنسدانوں نے بر ملا اس بات کا اظہار کیا ہے کہ کار خا نوں اور موٹر گا ڑیوں میں ایندھن جلا نے والے دولت مندوں نے زہریلی گیسوں کے اخراج سے کر ہ ارض اور فضائے بسیط کے علا وہ سمندروں کو بھی آلو دہ کر دیا ہے ان کا فرض ہے کہ اپنی کو تا ہی کا ازالہ کرنے کے لئے کار بن فنا نسنگ میں زیا دہ سے زیا دہ حصہ ڈالیں تا کہ جنگلات کے رقبے میں تیزی کے ساتھ اضا فہ کیا جا سکے، اوزون کی تہہ کو بر بادی سے بچا کر عالمی حد ت اور مو سمیاتی تغیرات کا مقا بلہ کیا جا سکے اس عالمی کو شش میں خیبر پختونخوا کی حکومت نے دبنگ قدم اٹھا تے ہوئے جنگلات کے رقبے میں 846مر بع کلو میٹر کا اضا فہ کیا ہے جو بیحد خو ش آئندہے۔

 


شیئر کریں: