Chitral Times

Sep 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعظم کا پاکستان بھر میں قیدیوں کی سزا میں 2 ماہ کی کمی کا اعلان

شیئر کریں:

وزیراعظم کا پاکستان بھر میں قیدیوں کی سزا میں 2 ماہ کی کمی کا اعلان

لاہور(سی ایم لنکس) وزیراعظم شہباز شریف نے کوٹ لکھپت جیل لاہور کا دورہ کیا اور پاکستان بھر میں قیدیوں کی سزا میں دو ماہ کی کمی کا اعلان کردیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ جو قیدی اپنی سزا مکمل کرلیں ان کو معاشرے کا فعال شہری بنانے میں ہرممکن سرپرستی حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔انہوں نے کوٹ لکھپت جیل حکام کو خصوصی تاکید کی کہ قیدیوں کی سہولت کے لیے دستیاب ذرائع کو مؤثر طریقے سے بروئے کار لایا جائے، اس تناظر میں وزیراعظم نے قیدیوں کے کھانے پینے اور صحت کی سہولیات کو مزید بہتر کرنے کی تاکید کی۔وزیراعظم نے قیدیوں کی ہنر سازی کے لیے بھی دستیاب ذرائع کو موثر طور پر استعمال میں لانے کی خصوصی ہدایت کی تاکہ قیدی اپنے آپ کو سزا کے بعد معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے تیار کرسکیں۔شہباز شریف نے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا جو جیلوں میں قیدیوں کی سہولت اور مجموعی نظام کی بہتری کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرے گی۔ اس کمیٹی میں چاروں صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے افسران شامل ہوں گے۔

 

ملک میں بجلی کا شارٹ فال مزید کم ہوگیا

اسلام آباد( چترال ٹایمز رپورٹ )ملک میں بجلی کا شارٹ فال 2 ہزار 9 سو میگاواٹ رہ گیا ہے۔ گزشتہ روز پاور ڈویڑن کے ذرائع نے بتایا کہ ایندھن کی سپلائی شروع ہوگئی جبکہ بجلی گھروں کے تکنیکی مسائل بھی حل کرلیے گئے ہیں، جس کے باعث شارٹ فال میں کمی ہوئی ہے، اور شارٹ فال کم ہوکر 3 ہزار 900 میگاواٹ رہ گیا ہے، تاہم آج ملک میں بجلی کا شارٹ فال مزید کم ہوکر 2 ہزار 9 سو میگاواٹ رہ گیا ہے۔ذرائع پاور ڈویڑن کے مطابق بجلی کی مجموعی طلب 20 ہزار 5 سو میگاواٹ اورپیداوار 17 ہزار 6 سو میگاواٹ ہے، پن بجلی ذرائع سے 1 ہزار 1 سو میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، سرکاری تھرمل پاور پلانٹس 2 ہزار 5 سو میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں، نجی شعبے کے بجلی گھروں کی پیداوار 14 ہزارمیگاواٹ ہے۔دوسری جانب گرمی اور رمضان کے مقدس ماہ میں عوام کو بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا ہیاور معاملات زندگی متاثر ہونے کے باعث عوام پریشان ہیں۔ پاور ڈویڑن کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں 5 گھنٹے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ آئیسکو ریجن میں ڈیمانڈ 1326 میگا واٹ جبکہ سپلائی 1216 میگاواٹ ہے، آئیسکو ریجن میں 110 میگاواٹ کا شارٹ فال ہے، اور وہاں 4 گھنٹے کی لوڈمینجمنٹ کی جا رہی ہے، آئیسکو کے کشمیر، جہلم اور اٹک ریجن میں 5/6 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔

 

ملک بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا

اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ) ملک بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا۔ شدید گرمی اور روزے میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔حکومت کی جانب سے ملک میں بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق میں کمی کے اعلان کے باوجود لوڈ شیڈنگ میں کمی نہیں آسکی۔ذرائع کے مطابق ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 2 ہزار 9 سو میگاواٹ ہے جبکہ ملک بھر میں بجلی کی مجموعی طلب 20 ہزار 5 سو میگاواٹ ہے اور اس وقت ملک میں بجلی کی پیداوار 17 ہزار 6 سو میگاواٹ ہے۔پن بجلی ذرائع سے ایک ہزار ایک سو میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور سرکاری تھرمل پاور پلانٹس 2 ہزار 500 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں جبکہ نجی شعبے کے بجلی گھروں کی پیداوار 14 ہزار میگاواٹ ہے۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ تھم نہ سکا اور لوڈ شیڈنگ کے باعث روزے داروں کو سحر وافطار کے اوقات میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیسکو کو 800 میگا واٹ بجلی کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔لاہور میں 5 سے 6 گھنٹے جبکہ پنجاب کے دیگر شہروں میں 8 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ذرائع کے مطابق دیہاتوں میں 9 سے 10 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ لیسکو اور دیگر تقسیم کار کمپنیاں سحر و افطار کے دوران بھی بجلی کی بلا تعطل فراہمی میں ناکام ہو گئیں۔ لیسکو کو بجلی کی طلب 4 ہزار 400 میگا واٹ جبکہ سپلائی 3600 میگا واٹ ہے۔ کمپنی کو 800 میگاواٹ شارٹ فال کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق آئیسکو میں بھی بجلی کا شارٹ فال 110 میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے۔ بجلی شارٹ فال کی وجہ سے اسلام آباد اورگردونواح میں 4 سے 6 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ آئیسکو کو بجلی کی طلب ایک ہزار 326 میگاواٹ ہے جبکہ سپلائی ایک ہزار 261 میگاواٹ ہے۔راولپنڈی کے شہری علاقوں میں بھی 2 سے ڈھائی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ راولپنڈی کے مضافاتی علاقوں میں 4 سے 5 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔کوئٹہ میں بھی یومیہ 8 سے 9 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اور طویل لوڈشیڈنگ کے باعث ماہ رمضان میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے باعث سحر اور افطار کی تیاری میں مشکلات ہو رہی ہیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کرنے کے لیے اقدامات کرے جبکہ کیسکو حکام کا کہنا ہے کہ سحری اور افطار کے وقت بجلی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔خیبر پختونخوا کے علاقے بھی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی زد میں ہیں۔ پشاور میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ پشاور کے علاقوں گلبہار، رنگ روڈ، کوہاٹ روڈ میں 10 سے 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے جبکہ صدر، سول کوارٹرز، یونیورسٹی روڈ، بورڈ بازار اور دیگر علاقوں میں بھی کئی کئی گھنٹے سے بجلی غائب ہے۔پاکستان کا معاشی حب کراچی بھی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی زد میں ہے۔ ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق نیشنل گرڈ سے کراچی کے لیے ایک ہزار میگاواٹ بجلی سپلائی کی جا رہی ہے اور بجلی کی اضافی سپلائی سے لوڈشیڈنگ میں بہتری آئی ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق این ٹی ڈی سی سے ملنے والی بجلی صارفین کی طرف بتدریج منتقل کی گئی ہے اور لوڈشیڈنگ سے مستثنٰی علاقوں میں صورتحال پہلے ہی بہتر رہی ہے۔ اب اضافی سپلائی سے غیر مستثنٰی علاقوں میں بھی لوڈ مینجمنٹ کے دورانیہ میں کمی ہوئی تاہم صور تحال میں مزید بہتری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

 


شیئر کریں: