Chitral Times

Oct 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آزادکشمیر میں نوجوانوں کی حالت زار- پروفیسر عبدالشکور شاہ

Posted on
شیئر کریں:

آزادکشمیر میں نوجوانوں کی حالت زار-پروفیسر عبدالشکور شاہ

نوجوان کی عالمی تعریف کچھ یوں ہے: نوجوان ایک ایسا فرد ہے جس کی عمر 15سال سے 30سال ہو۔ اس تعریف میں لڑکے لڑکیاں دونوں شامل ہیں۔ نوجوان کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔شعبہ ہائے زندگی کے تمام افراد نوجوانوں سے امیدیں وابستہ کیے ہوتے ہیں۔نوجوانوں کا معاشرے کی فلاح و بہبود میں کلیدی کردار ہے۔ہم نے تو نوجوانوں کی پارٹیوں پر بوڑھوں کو عہدے دے رکھے۔ موت کی طرح سیاست کی بھی کوئی عمر نہیں ہوتی۔آزادکشمیر میں بچپن سے چند روائیتی پارٹیوں کو دیکھتے آئے ہیں۔ آج تک ان پارٹیوں نے کسی نوجوان کو کوئی قابل قدر عہدہ عنایت نہیں فرمایا۔ کیا یہ جمہوریت ہے؟گود سے گور تک چند افراد اور کچھ پارٹیوں میں ایک ہی فرد قابض رہے کیا یہ جمہوریت ہے؟مسلم کانفرنس اور پی پی کے بعد ن لیگ اور پی ٹی آئی جنم لیا مگر نوجوانوں کو ایک بار پھر دیوار سے لگاتے ہوئے ماضی کی طرح انہیں اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔اسے  آپ نوجوانوں کا احساس کمتری سمجھیں،روائیتی سیاست میں قدم رکھنے کے لیے روائیتی سرمایہ کاری کی کمی، یا غیر سیاسی پس منظر یا ان کی خداداد صلاحیتوں سے خوفزدگی یا بے توقیری یہ فیصلہ آپ تک چھوڑتا ہوں۔ کشمیر میں پی ٹی آئی کی آمد پر نوجوان پھولے نہیں سماتے تھے۔ کچھ نے تو تاو دینے کے لیے موچھیں بھی بڑی کر لیں۔ مگر نوجوانوں کے نام اور نوجوانوں کا نعرہ لگانے والے بھی انہیں شرمدہ کیے بغیر نہ رہ سکے۔

پی ٹی آئی اور ن لیگ نے سابقہ روائیتی سیاست کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نوجوانوں کو پس پشت ڈال کر موروثیت اور سرمایہ داروں کو مسلط کیا۔ اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تونوجوانوں کا کردارایک اٹل حقیقت بن کر سامنے آتا ہے۔ ہم محمد بن قاسم کی مثال تو دیتے کہ وہ سترہ سال کی عمر میں سپہ سالا تھا مگر ہم یہ کیوں بھول جاتے کے ہمارے نوجوان سترہ سال کی عمر میں اس پریشانی میں مبتلا ہو تے کے پڑھ کہ کوئی نوکر ی بھی ملے گی یا نہیں۔تاریخ کے ورق پلٹتے جائیں ہر دور میں نوجوانوں کا کلیدی کردار آشکار ہو تا جائے گا۔ تاریخ کا شاید ہی کوئی صفحہ ایسا ہو جہاں پر کسی نہ کسی نوجوان کا تذکرہ موجود نہ ہو۔آزادکشمیر کی سیاست میں نوجوانوں کو باہر رکھنے کے لیے نوجوان کش حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔یہ سیاہ کاغذ پر سیاہ رنگ سے لکھی ہوئی سیاہ ست کی تاریک تاریخ ہے۔تحریک پاکستان میں نوجوانوں کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ قائداعظم خود نوجوانوں کی جدوجہد کی بے پناہ تعریف کرتے تھے۔ مگرا فسوس ہم نے قائداعظم کو سوچوں سے نکال کر نوٹوں میں ڈال دیا ہے۔

اکیسویں صدی کی تمام بڑی تحریکوں میں نوجوانوں کاکردار اٹل حقیقت ہے۔ مجھے ذاتی حیثیت میں اس جملے پر انتہائی ہنسی آتی ہے کہ ملک کی ترقی میں نوجوان کا ہم کردار ہے۔ یہ ایک سیاسی نعرے کے علاہ کچھ بھی نہیں۔ ہم نوجوانوں سے چاپی کروا کر کہتے نوجوان قوم کا سرمایہ ہیں۔ ہم نوجوانوں کے کندھوں پر سوار ہو کر کہتے نوجوان قوم کی تقدیر بدلیں گے۔ ہم نوجوانوں کا نعرہ لگا کر نوجوانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ کر کرسی پربراجمان ہو جاتے۔آج کے نوجوان کل کے رہنما ہو ں گے۔ واہ اہل دانش کبھی آزادکشمیر میں نوجوانوں کی حالت زار دیکھیں تو یقین کریں آپ اپنے لکھے سارے فلسفے دریا ئے نیلم میں بہانہ پسند کریں گے۔ہم تو یہ جانتے ہیں آج کا نوجوان کل نوکری کے لیے دفتر کے باہر اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری لیے میڑک پاس سے نوکری کی درخواست منظور کر وانے کے لیے بیٹھا ہو گا۔

نوجوانوں کے بارے عالمی بھاشن کی طرف جاتے ہوئے مجھے افسوس ہو تا ہے۔ ہم ہر مسلے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی بات کرتے، نوجوانوں کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادیں ہمیں کیوں بھول جاتیں؟اقوام متحدہ کے دنیا کی آبادی کے اعداد شمار کے تناظر میں اس وقت دنیا میں 15سے 24سال کی عمر کے  لوگوں کی تعداد تقریبا1.3بلین ہے۔ان میں سے تقریبا 01بلین افراد ترقی پزیر ممالک میں بستے ہیں۔یہ افراد دنیا کی کل آبادی کااوسطا 16فیصد ہیں۔دنیا میں نوجوانوں کی تعداد 1.8بلین سے زیادہ ہے اور ان میں سے تقریبا87% نوجوان ترقی پزیر ممالک میں رہ رہے ہیں۔غریب گھرانوں کے 10 میں سے 01 نوجوان بی۔اے تک تعلیم حاصل کر پاتا ہے۔ غریب گھرانوں کے نوجوانوں کے مقابلے میں متوسط گھرانوں کے 28% نوجوان گریجویشن کر پاتے۔ امیر گھرانوں کے نوجوانوں میں یہ شرح 50%ہے۔جو نوجوان غریب علاقوں یا معاشروں میں پروان چڑھتے، ان میں تعلیم حاصل کرنے کے دورانیے میں غیر حاضری کی شرح بہت زیادہ ہے۔غریب گھرانوں کی نوجوان لڑکیوں میں 18سال کی عمر کی 7%لڑکیوں کی شادی کر دی جاتی ہے جبکہ امیر گھرانوں کی نوجوان لڑکیوں میں اس عمر میں شادی کی شرح 01فیصد ہے۔اقوام امتحدہ کے نوجوانوں کے ایجنڈےWorld Programme of Action for Youth  کے مطابق نوجوانوں کے لیے 15شعبوں میں ترجیحی بنیادوں پر لائحہ عمل طے پایا ہے۔اقوام متحدہ جو مرضی کر لے ہم نے نوجوانوں کے لیے کچھ نہ کر نے کی قسم کھائی ہے۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 100میں سے 29نوجوان ان پڑھ ہیں۔ ہم نے اپنا نام لکھنے پڑھنے کو خواندگی کی تعریف میں شامل کیا ہے پھر تو تقریبا سبھی پڑھے لکھے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں نوجوانوں کو معاشرتی بہتر کے شعبوں میں کم شامل کیا جا تا ہے۔نیلم میں شامل ہی نہیں کیا جاتا۔کر لے قوام متحدہ نے جو کرناہے۔ اقوام متحدہ کو کیا معلوم آزادکشمیر میں نوجوانون کا کیا حال ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو ہر حکومت کی جانب سے نوکری دلاو سکیم میں شامل کیا جاتا ہے اور پانچھ سال کے بعد یہ سکیم پھر سے شرو ع ہو جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق صرف 15%نوجوانو ں کو انٹر نیٹ کی سہولت دستیاب ہے جبکہ صرف 52% نوجوانوں کے پاس موبائل فون موجودہے۔92%نوجوانوں کو لائبریری تک رسائی حاصل نہیں ہے اور 93% کے لیے کھیلوں کی سرگرمی کی کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ کاش اقوام متحدہ کے محققین ڈیٹا جمع کرنے کے لیے آزادکشمیر بالخصوص نیلم کا چکر لگا لیتے تو ان کے اعداد و شمار متذکرہ بالا اعدادوشمار سے بالکل مختلف ہو تے۔نیلم میں نہ کوئی لائبریری ہے اور نہ ہی کھیلوں کے لیے کوئی پروگرام ہے اور یہی حال آزادکشمیر کے دیگر اضلاع کا ہے۔ حکومت کشمیر کی ثقافت کی ترویج پر یقین رکھتے ہوئے چاہتی ہے نوجوان مقامی کھیلوں گلی ڈنڈا، چیتو، کھوتی کھوتی اور دیگر کھیل کھیل کر گزارا کریں کیوں کے تمام حکومتیں ووٹ ووٹ اور حکومت حکومت کھیلنے سے فارغ ہوں تونوجوانو ں پر دھیان دیں۔نوجوان کو ہر حکومت نے ووٹ، نوٹوں اور سیاسی مہمات چلانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

دنیا میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 13فیصد ہے جبکہ آزاد کشمیر میں بے روزگاری کی شرح10.3فیصد ہے۔ اور جنت نظیر نیلم میں بے روزگاری کی شرح29.7% ہے۔جنتیوں کو کون سا روزگار چاہیے؟ پاکستان میں بے روزگاری کی شرح5.8% ہے۔ اس کے مقابلے میں آزاد کشمیر میں دوگنا بے روزگاری ہے۔ اور نیلم میں تین گنا۔ نیلم وہ بد قسمت وادی ہے جو بے روزگاری میں ایشیا میں پہلے نمبر پر ہے۔آزادکشمیر میں نوجوانوں میں سال 2017-18 بے روزگاری کی 25.9% ہے جبکہ سال 2014-15میں یہ شرح 20.8%تھی۔ اس سے یہ حقیقت عیاں ہو تی ہے کہ بے روزگاری میں روز بروز اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔اگر ماضی میں ہونے والے بے روزگاری کی اوسط کو مدنظر رکھا جائے تو سال 2022میں بے روزگاری کی شرح کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ یہ صرف کسی ایک حکومت کا المیہ نہیں ہے بلکہ ہر حکومت کے دور میں بے روزگاری بڑھی ہے کم نہیں ہوئی۔نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں جس خطرناک شرح سے بے روزگاری بڑھ رہی ہے یہ کہیں ہماری نوجوان نسل کو دہشت گردی کی طرف نہ لے جائے۔ قانون، حب الاوطنی اور قانون کی پاسداری کے فلسفے بھرے پیٹ کے ساتھ ہی اچھے لگتے۔ بھوکے کا فلسفہ روٹی ہے۔

دنیا میں بھوک سے بڑی کوئی جنگ نہیں ہے۔ہندکو میں کہتے۔ جس ویلے ٹہیڈے بچ نہ پیون روٹیاں تے سب گلاں کھوٹیاں۔نوجوان خواتین میں تو بے روزگاری ناقابل بیان حد تک زیادہ ہے۔ نوجوانوں خواتین میں بے روزگاری کی شرح30.5%ہے۔ نوجوانوں کو تو پھر بھی کوئی نہ کوئی روزگار کشمیر سے باہر مل جاتا ہے مگر خواتین کے لیے تو وہ بھی ممکن نہیں ہے۔ دی پاکستان بیور آف سٹیٹسٹکس کی آزاد کشمیر پر جاری کر دہ رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں بے روزگاری میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 20سے 24سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح باقی عمر کے افراد کی نسبت زیادہ ہے۔اس عمر کے افراد میں مجرمانہ سرگرمیوں میں بھی آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ نوجوان قانون کے مجرم بنتے مگر ان کے ووٹ سے بننے والی حکومتیں انکی مجرم ہیں ان پر قانون لاگو کیوں نہیں ہوتا؟ اگر بے روزگاری کی وجہ سے کوئی جرم کر تا ہے تو اس مجر م کے حلقے کے ایم ایل اے کو جوابدہ ہو نا چاہیے جو اقتدارکی کرسی پہ بیٹھ کر نوجوانوں کے لیے کچھ نہیں کر تا۔ سنگین جرائم میں ملوث نوجوانوں کی تعداد 51% ہے۔روزنامہ ڈان کی 3مارچ 2019کی جاری کر دہ رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں 100میں سے 30پڑھ لکھ سکیں گے،100میں سے صرف 6 انٹر میڈیٹ تک تعلیم حاصل کر سکیں گے،29تعلیم سے سے محروم رہیں گے،100میں سے 94 کو لائبریری تک رسائی نہیں ہو گی۔100میں سے صرف 10کے پاس موٹر سائیکل ہو گی، 100میں سے صرف 01کے پاس گاڑی ہو گی۔نوجوانوں میں سیاستدانوں پر اعتماد کا یہ عالم ہے کہ صرف 15%نوجوان یہ کہتے ہیں کہ وہ سیاستدانوں پر اعتماد کر تے ہیں۔ یہ 15فیصد کیوں کہتے یہ میری سمجھ سے بالاتر ہے۔اس ساری صورتحال کے باوجود 90% مرد اور 55%خواتین کی رائے ہے کہ وہ اگلے الیکشن میں ووٹ ڈالیں گے۔ کس کے کہنے پہ کس کو ڈالیں گے یہ قارئین کو بخوبی علم ہے۔ آزادکشمیر میں خواتین کے ووٹ پر مرد وں کی منوپلی ہے۔ہمیں بے روزگاری کو قابو میں کرنے کے لیے روزگار کے نئے زرائع پر کام کر نا ہے۔ ہر حکومت 5سالوں میں 4سال تک چکر لگوا لگوا کر بے حال کر دیتی ہے جس کی ہمت اور حوصلہ جواب دے جاتا وہ ہلکان ہو کر روزگار کے چکر میں کشمیر سے باہر مزدوری کرنے چلا جاتا۔ جو بہت ہی حوصلے اور سیاسی اثر رسوخ اور فاطمہ کے بھائی صاحب کو ساتھ رکھتا وہ کسی نہ کسی نوکری پر ہاتھ صاف کر جاتا۔

کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں نوجوانوں کوکلیدی کردار حاصل ہے اور یہ حقیقت ساری دنیا تسلیم کر تی ہے۔ اقوام متحدہ  1965میں نوجوانوں کے اس کردار کو دستاویزات کے زریعے تسلیم کر چکی ہے۔دو عشروں بعد 1985میں اقوام متحدہ نے بین الاقوامی سال برائے نوجوانان منایا جو پوری دنیا میں نوجوانوں کے انتہائی اہم کردار کا ثبوت ہے۔ اقوام متحدہ نے 1995میں سال برائے نوجوانان کے موقع نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔سال 2000اور اس کے بعد کے عرصہ میں نوجوانوں  کے مسائل کے حل کے لیے دنیا کی توجہ مبذول کی اور نوجوانوں کے مسائل سے نپٹنے کے  لیے اقدامات کیے گئے۔ دسمبر1999کی  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 54/120 نے نوجوانوں کے لیے جو ترجیحات طے پائیں تھیں آزاد کشمیر میں تو ان کی خبر تک بھی نہیں ہے۔ ہمارے نوجوان اپنے حقوق اور اپنے لیے عالمی قوانین سے ہی بے خبر ہیں۔اس قرار داد کے زریعے دنیا بھر کے وزراء برائے نوجوانان کو نوجوانوں کی تعمیر و ترقی اور ان کی فلاح و بہبود کا پابند بنایا گیا ہے۔ 12اگست کو یو م نوجوانان کے طور پر منانا جاتا ہے اور ہمارے ہاں یوم نان کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2009میں 25 ویں انورسری کے موقعہ پر قراردا د نمبر 64/134پاس کی جس میں دنیا بھر کی حکومتوں اور سول سوسائیٹیز کو نوجوانوں کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں تمام سہولیات فراہم کر نے کی منظوری دی گئی۔2015میں اقوام متحدہ نے متفقہ طور پرقرارداد نمبر 2250 منظور کی جو دنیا بھر کی حکومتوں کو اس بات کا پابند بناتی ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے ایسا نظام وضع کر ے جو ان کے حقوق کا ضامن ہو تا کہ نوجوان معاشرے میں اپنا مثبت کردار اداکر سکیں۔

 


شیئر کریں: