Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جامعہ چترال میں دوبارہ احتجاج اور امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان،آل ایمپلائز وٹیچرز ایسوسی ایشن

شیئر کریں:

جامعہ چترال میں دوبارہ پُر امن احتجاج  اور امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان،آل ایمپلائز وٹیچرز ایسوسی ایشن

چترال ( چترال ٹایمز رپورٹ ) جامعہ چترال کے آل ایمپلائز ایسوسی ایشن اور ٹیچرز ایسوسی ایشن کے ایک مشترکہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ
جامعہ چترال میں جاری  بے قاعدگیوں کے حوالے سے رواں ماہ کے شروع میں تمام پیشرو ملازمین نے ایک پر امن احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ مذکورہ احتجاج پانچ دنوں تک جاری رہا اور پروفیسر جمیل چترالی، جو کہ پورے پاکستان کے جامعات کی اساتذہ تنظیموں پر مشتمل فیڈریشن کے صدر ہیں، کی آمد اور کامیاب ثالثی کی بدولت اور جامعہ چترال کے وائس چانسلر کی طرف سے ملازمین کے قانونی مطالبات کو ماننے اور نوٹیفائی کرنے کی یقین دہانی کے بعد وقتی طور پر 13 اپریل کو برخاست کیا گیا تھا۔ مگر آج دس دن گزرنے کے باوجود نہ ہی اُن مطالبات بارے کوئی نوٹیفیکیشنز جاری کیے گیے اور نہ ہی یونیورسٹی انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ جامعہ کے اندر جاری  بے قاعدگیاں دور ہو جائیں اور پیشرو ریگولر ملازمین کے جائز اور قانونی مطالبات حل ہو جائیں۔

پریس ریلیز کے مطابق مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ ملازمین کے جن جائز اور قانونی مطالبات کے حوالے سے تمام پارٹیز کی موجودگی میں 13 اپریل کو جو مفاہمت طے پائی تھی، اُس مفاہمت کے مِنٹس میں ردوبدل بدل کیا گیا ہے، اور بعض فیصلوں سے تو قطعاً انکار ہی کیا جا رہا ہے کہ ایسے فیصلے نہیں ہوئے تھے۔

 

پریس ریلیز میں مذید کہا گیا ہےمذکورہ بالا افسوسناک صورتحال کے پیشِ نظر آج جامعہ کے آل ایمپلائز ایسوسی ایشن اور چترال یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کی مشترکہ ہنگامی میٹنگ کے بعد پر امن احتجاج کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جن مطالبات پر 13 اپریل کی مفاہمت کے بعد جو فیصلے ہوئے تھے، جب تک وہ سارے مطالبات پورے نہیں ہوتے اور وہ سارے فیصلے نوٹیفائی نہیں ہو جاتے اس وقت تک جامعہ کے پیشرو ملازمین کا پر امن احتجاج جاری رہے گا۔ اسی دوران جامعہ میں ہونے والے امتحانات کا بھی مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔اور اس پُر امن احتجاج کے دوران قوم کے بچوں اور بچیوں کی تعلیمی سرگرمیوں کے متاثر ہونے کی ذمہ داری جامعہ چترال کی انتظامیہ پر پڑے گی۔ قوم ان سے جواب طلبی کرے۔

 

درین اثنا یونیورسٹی آف چترال کے آفیشل ویب سائٹ میں ہڑتال کی خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں تدریسی اور انتظامی امور حسب معمول جاری رہیں گے اور امتحانات بھی، اگر کوئی ہوں، منعقد شیڈول کے مطابق منعقد ہوں گے۔ نوٹس کے عنوان سے اس پوسٹ میں تنبیہہ کی گئی ہے کہ کسی کو ہڑتال کرکے یونیورسٹی کی تعلیمی فضا کو مکدر کرنے اور انتظامیہ کو بلیک میل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

chitraltimes university of chitral employees protest


شیئر کریں: