Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوائے سُرود – ہجومِ کرگساں – شہزادی کوثر  

Posted on
شیئر کریں:

نوائے سُرود – ہجومِ کرگساں – شہزادی کوثر

 

رمضان کے آتے ہی رحمتِ خداوندی کی بارش تمام مخلوقات پر برستی ہے۔ اس با برکت مہینے میں رزق میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، جہنم کے دروازے بند ، بہشت کے کھول دئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے۔ ثواب کمانے اور گناہ بخشوانے کے لئے اس سے بہتر مہینہ شاید ہی میسر آئے،  اس ماہ مبارک میں انسان بڑا حریص بن جاتا ہے یعنی نیکیاں کمانے کے معاملہ مین حریص۔۔۔ وجہ یہ ہے کہ ایک اچھے کام کا ثواب باقی دنوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے فرض نمازوں کے علاوہ نفل نمازوں اور تہجد کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ ذکر اذکار سے ہر ایک کی زبان تر رہتی ہے۔ صدقہ دینے اور دوسرے کی مدد کا جزبہ بھی زیادہ ہوتا ہے، ہر ایک اپنی استطاعت کے مطابق دوسروں کو اپنی خوشیوں اور افطاری میں شریک کرنے کی کوشش کرتا ہےاس سے غریب پروری اور ہمدردی کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔ اگر دوسرے زاویے سے دیکھیں تو مسلمانوں کے دنیاوی فائدے کا اس سے بہتر مہینہ کوئی نہیں ہو سکتا، کیونکہ منافع خوروں کی کمائی اس مہینے میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔دیگر مذاہب کے مذہبی تہواروں اور مقدس مہینوں میں اشیاٰء خوردونوشاور اسبابِ ضروریہ کی قیمتیں گرائی جاتی ہیں جبکہ مسلمان تاجر اور دکان دار کی بات ہی نرالی ہے گراں فروشی کو اپنے اوپر فرض کیا ہوا ہے مگر رمضان آتے ہی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوتا ہے۔  سبزیوں کو پر لگ جاتے ہیں ،جو چیز عام دنوں میں قوت خرید میں آتی تھی اب وہ بھی اڑان بھرنے میں مصروف ہیں ۔

بنیادی ضروریات کی چیزیں ہی اگر دسترس سے باہر ہوں تو تعیش کی بات کرنا خام خیالی ہو گی ۔چیزوں کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ کہین اس کے اندر سے مہنگائی کا جن نمودار ہو کرکلائی سمیت ہاتھ ہی نہ کاٹ کھائے۔ سوچ کر دل دکھتا ہے کہ غریب اور متوسط طبقےکے سفید پوش روزانہ کتنی آزمائشوں سے گزرتے ہوں گے۔ انُ کے گھر کی خواتین کا بھی دل کرتا ہو گا کہ افطاری پہ کئی قسم کے پکوان سے دستر خوان سجائی جائے۔ کوئی معصوم جو پہلی بار اپنے فرض روزے رکھ رہا ہو اپنے سوکھے حلق سے کسی اچھی غذا کا ذائقہ اتارنا چاہتا ہو گا۔ گرمی میں جوس اور پھلوں کی طلب کسے نہیں ہوتی؟ گوشت، ڈیری مصنوعات کسے نہیں پسند؟ لیکن یہ سب اب دیوانے  کا خواب بنتے جا رہے ہیں۔ غریب آدمی حاؒلات سے مجبور ہو کر مانگے  گا نہیں تو اور کیا کرے گا؟ لیکن اس وقت سفید پوش طبقہ سب سے زیادہ اذیت ناک مرحلے سے گزر رہا ہے، ایک طرف خود داری اسے دستِ سوال دراز کرنے سے روکتی ہے دوسری طرف فاقے دروازے پر دستک دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں ۔ اگر کشکول ہاتھ میں اٹھاتا ہے تو ساری عمر کی کمائی گئی عزت کا جنازہ نکلنے کا اندیشہ ہے ،حلال تنخواہ سے ضروریات پوری نہیں ہوتیں ۔ آگے کنواں پیچھے کھائی والا معاملہ ہے۔

صرف ہاتھوں کو نہ دیکھوں کبھی آنکھیں بھی پڑھو

کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں

رمضان میں نیکیوں کی حرص جائز ہے ۔ناجائز منافع خوری درست نہیں۔ لیکن ان کا کاروبار اس ماہ مقدس میں چمکتا ہے ۔ سال بھر میں جتنی کمائی ہوتی ہے اس سے زیادہ رمضان میں بٹورنے کی کوشش ہوتی ہے۔ دنیاوی فائدے کے لئے آخرت کو قربان کرنا کتنے گھاٹے کا سودا ہے لیکن اس بارے میں کون سوچتا ہے۔ہماری مسلمانی صرف فرض نماز کی ادائیگی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے کہ جس نے نماز پڑھ لی اس کی تمام ذمہداریاں پوری ہو گئیں باقی معاملات سے کسی کو کوئی غرض نہیں ہوتی حالانکہ دین عبادات اور معاملات کے مجموعے کا نام ہے اور ہم ان سے ہاتھ کھینچے بیٹھے ہیں ۔ حضرت علی سے کسی نے کہا کہ فلاں شخص بہت نیک ،پرہیزگار اور تہجد گزار شخص ہے ،تو حضرت علی مرتضیٰ نے فرمایا کہ اس بات کو چھوڑو کہ وہ نماز روزے کا کتنا پابند ہے یہ بتاو کہ وہ معاملات میں کیسا ہے ؟ ۔۔۔۔۔  عبادت ذاتی ہوتی ہے جبکہ معاملات  کا تعلق دوسرے لوگوں سے ہوتا ہے ،اس کی جزا و سزا بھی  زیادہ ہوتی ہے حقوق العباد میں کوتاہی  اور انہیں مصائب میں مبتلا کرنا  قابل سزا جرم ہے۔ لیکن جہاں دولت کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر دے وہاں لوگوں کی مصیبتیں نظر نہیں آیا کرتیں ۔

اگر ہمیں کسی مشکل میں مبتلا انسان ،تکلیف سے بلکتے لوگ ، فریاد کرتی مخلوق دکھائی دیتی تو ہم دنیا کی دوسری قوموں کو انصاف ،مساوات اور غمخواری کا صرف درس ہی نہ دیتے بلکہ ان کی رہنمائی کرنے والے بن چکے ہوتے۔ دوسروں کے لئے تنگی پیدا کر کے ، انسانوں کی زندگی مشکل بنا کے جنت کے دعوی دار بنے بیٹھے ہیں ۔ رحمتوں سے اپنی جھولی بھرنے کے بجائے جیب گرم کرنے کی فکر کرنے والوں پر افسوس ہے۔ ایسے لوگوں کا وقت برباد، موقع ضائع اور کمائی گئی دولت رائیگاں جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اصل سے دوگنی قیمت وصول کر کے مخلوقِ خدا کی زندگی دوبھر کرنے والوں کی مثال کرگس کی ہے جس کی نظر صرف مردار پہ لگی رہتی ہے۔ یہ ہجوم کرگساں عام دنوں میں بھی پائے جاتے ہیں لیکن رمضان کے آتے ہی غول در غول نمودار ہوتے ہیں ،شاید ہر انسان کے اندر ایک گدھ چھپا ہوا ہے جو موقع ملتے ہی نمودار ہوتا اور اپنی اصل شکل میں سامنے آتا ہے۔ روزے کا مقصد ہمیں بھوکا پیاسا رکھنا نہیں بلکہ کوتاہیوں اور بشری کمزوریوں پر قابو پانے اور حکم الہی پر عمل کرنے کے لیے ہماری تربیت ہوتی ہے پھربھی ہم مردار کھانے سے باز نہیں آتے۔۔۔

 

 

20.4.2022


شیئر کریں: