Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبے میں قائم کسی بھی پناہ گاہ یا لنگر خانے کوبند نہیں ہونے دیا جائے گا۔وزیراعلیِ محمود خان

Posted on
شیئر کریں:

صوبے میں قائم کسی بھی پناہ گاہ یا لنگر خانے کوبند نہیں ہونے دیا جائے گا۔وزیراعلیِ محمود خان

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے پناہ گاہوں اور لنگر خانوں کے قیام کو پی ٹی آئی حکومت کا ایک فلاحی اور غریب پرور اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں قائم کسی بھی پناہ گاہ یا لنگر خانے کوبند نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اگر وفاقی حکومت پناہ گاہوں کو چلانے کیلئے اپنے حصے کا تعاون نہ بھی فراہم کرے تو صوبائی حکومت اپنے وسائل سے ان پناہ گاہوں کو چلائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوںنے پیر کے دن وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں صوبے میں پناہ گاہوں اور لنگر خانوں سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود انور زیب، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگشاور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان کے علاوہ سیکرٹری سوشل ویلفیئر ، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ، ڈائریکٹر پاکستان بیت المال اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت پناہ گاہوں اور لنگر خانوں کو چلانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر وسائل فراہم کرے گی ۔ اُنہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت ان پناہ گاہوں اور لنگر خانوں کو مستقل بنیادوں پر چلانے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ اُنہوں نے پناہ گاہوں کو مستقل بنیادوں پر چلانے کیلئے متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم کرنے جبکہ کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کو دوبارہ فعال بنانے کیلئے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ قبل ازیں اجلاس کو صوبے میں قائم پنا ہ گاہوں اور لنگر خانوں کی تازہ صورتحال کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کے اپنے وسائل سے اس وقت صوبے میں 10 پناہ گاہیں فعال ہیں، جن میںپشاور، چارسدہ ، مردان، بنوں ، صوابی ، ایبٹ آباد ، مانسہرہ، درابن کلاہ، سوات اور کوہاٹ شامل ہیں۔ ان پناہ گاہوں میں مجموعی طور پر تقریباً500 افراد کیلئے رات کو قیام کرنے کی گنجائش موجود ہے ۔ ان پناہ گاہوں میں مسافروں اور مستحق افراد کو تین وقت کا کھانا مفت فراہم کیا جا تا ہے ۔ گزشتہ تین مہینوں کے دوران 45 ہزار سے زائد افراد ان پناہ گاہوں سے مستفید ہو چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں پناہ گاہوں کو مزید بہتر انداز میں چلانے کیلئے ایک منصوبہ منظور ہو چکا ہے ۔ علاوہ ازیںپاکستان بیت المال اور صوبائی حکومت کے اشتراک سے بھی صوبے میں آٹھ احساس پناہ گاہیں فعال ہیںجن سے اب تک مجموعی طور پر چھ لاکھ سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں۔


شیئر کریں: