Chitral Times

Oct 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دیامیربھاشاڈیم کی تکمیل سے سستی بجلی کی پیداورکے ساتھ ساتھ زرعی پیداواراورسرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا،وزیراعظم

Posted on
شیئر کریں:

دیامیربھاشاڈیم کی تکمیل سے سستی بجلی کی پیداورکے ساتھ ساتھ زرعی پیداواراورسرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا،وزیراعظم
منصوبہ مستقبل میں پاکستان کی معیشت کیلئے اہمیت کا حامل ہے، وزیراعظم محمد شہبازشریف

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وزیراعظم محمدشہبازشریف نے کہاہے کہ دیامیربھاشاڈیم کی تکمیل سے سستی بجلی کی پیداورکے ساتھ ساتھ زرعی پیداواراورسرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، یہ منصوبہ مستقبل میں پاکستان کی معیشت کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔وزیراعظم نے یہ بات اتوار کو دیامیربھاشاڈیم کی تعمیراتی سائیٹ پربریفنگ کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہی۔وزیراعظم نے کہاکہ 4500میگاواٹ بجلی کی پیداوارکایہ منصوبہ ملکی معیشت کیلئے انتہائی اہمیت کاحامل منصوبہ ہے، وزیراعظم نے یہ بات زوردیکرکہی کہ منصوبہ نظام الاوقات کے مطابق 2029 سے پہلے مکمل ہونا چاہئیے، میرا اصرار ہے کہ منصوبہ 2029 کی بجائے 2026-27 میں اگرمکمل ہوجائے یہ یہ ایک معجزہ ہوگا، اس دنیا میں کوئی چیز بھی ناممکن نہیں ہے،اگرہم اتفاق واتحاد کامظاہرہ کریں تو یہ ہدف حاصل ہوسکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ انہیں خوشی ہے کہ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے 2016 میں اس منصوبہ پرکام کاآغازکیا اورمسلم لیگ ن کی حکومت نے اراضی کے حصول کیلئے فنڈزفراہم کئے۔وزیراعظم نے کہاکہ یہ ایک بڑاہدف ہے اورمنصوبہ کی جلد از جلد تکمیل کیلئے وفاقی حکومت مکمل تعاون فراہم کرے گی۔وزیراعظم نے مستقبل میں منصوبہ کی فنڈز ریزنگ کیلئے بین الاقوامی سرمایہ کاری کوراغب کرنے کی تجویز دی،

وزیراعظم نے 13 کلومیٹرطویل بابوسرٹاپ ٹنل کی تعمیر کے منصوبہ کااعلان بھی کیا تاکہ سارا سال مانسہرہ اورچلاس کے درمیان ٹریفک کی روانی کاتسلسل برقرارکھا جاسکے، وزیراعظم نے اس ضمن میں حکام کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 4 برسوں میں جوکچھ ہوا وہ بدقسمتی تھی، اس ڈیم کی جلد تعمیرایک اچھی علامت اورملکی تاریخ میں سنگ میل ہوگی، یہ بات افسوسناک ہے کہ سالانہ 125سے لیکر130 ملین ایکڑفٹ پانی میں سے ہم محض 25 سے لیکر30 ملین ایکڑفٹ پانی بچاتے یااستعمال میں لاتے ہیں ِ،اگر اس پانی کو بچایاگیا تویہ ہماری بڑی کامیابی ہوگی۔ دیامیربھاشاڈیم سے نہ صرف ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی استعدادمیں اضافہ ہوگا بلکہ اس سے تربیلہ ڈیم کو مٹی جمع ہونے سے بچایا جائیگا جس سے تربیلہ ڈیم کی عمر میں 35 سال کااضافہ ہوگا۔وزیراعظم نے کہاکہ اس ڈیم سے سیلابوں سے بچاوممکن ہوگا، زرعی پیداربڑھے گی۔اس کے علاوہ روزگارکے مواقع فراہم ہوں گے جس سے علاقہ میں اقتصادی خوشحالی آئیگی۔

وزیراعظم نے کہاکہ وہ گزشتہ 4 سالوں کا ذکرنہیں کرنا چاہتے لیکن اس عرصہ میں بجلی کے شعبہ کے ساتھ جوکچھ کیاگیاہے وہ قوم کے ساتھ ظلم اورناانصافی ہے، 6 سے لیکر7 ہزارمیگاواٹ اضافی بجلی کی استعدادکے باوجود تیل اورگیس سے چلنے والے پاورپلانٹس بندکردئیے گئے ہیں، بطورخادم پاکستان قوم سے جھوٹ نہیں بولوں گا اورنہ ہی حقائق چھپاؤں گا۔ تاہم حقائق کوسامنے آنا چاہیے۔وزیراعظم نے کہاکہ اس علاقہ میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے، بطوروزیراعلیٰ پنجاب، میں نے گلگت کیلئے سکیننگ مشین کاعطیہ دیاتھا۔ انہوں نے علاقہ میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے جدید سہولیات اورآلات سے مزین اسپتال کی تعمیر کیلئے متعلقہ حکام کو ایک ہفتہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔قبل ازیں چئیرمین واپڈا لیفٹننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے منصوبہ کے بارے میں وزیراعظم کوبریفنگ دی۔شاہدخاقان عباسی، خواجہ محمدآصف اور مسلم لیگ ن کی ترجمان مرہم اورنگزیب بھی اس موقع پرموجودتھیں۔چئیرمین واپڈا نے وزیراعظم کوبتایا کہ اس وقت 2.6 ٹریلین روپے کی لاگت سے دیا میربھاشا، داسو اورمہمندڈیم کے منصوبے مکمل ہورہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ منصوبہ میں 8.1 ملین ایکڑفٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے.اس سے 1.23 ملین ایکڑاراضی کوپانی کی فراہمی ممکن ہوگی۔ اس منصوبہ سے سالانہ 18100 گیگاواٹ آورز بجلی پیداہوگی۔یہ منصوبہ 2029 میں مکمل ہوگاجبکہ اس سے روزگارکے 16500 مواقع پیداہوں گے۔بعدازاں وزیراعظم نے قراقرم ہائی وے، 3میگاواٹ تھک پاورپراجیکٹ اورچلاس کیڈٹ کالج منصوبوں کافضائی جائزہ بھی لیا۔

 

chitraltimes pm pak visit Bhasha dam3 chitraltimes pm pak visit Bhasha dam 1 chitraltimes pm pak visit Bhasha dam


شیئر کریں: