Chitral Times

Sep 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایف پی سی سی آئی پاک افغان ایکسپو کے جلد انعقاد کے لیے پر امید ہے، ریجنل کو آرڈینیٹر سرتاج احمد خان

Posted on
شیئر کریں:

ایف پی سی سی آئی پاک افغان ایکسپو کے جلد انعقاد کے لیے پر امید ہے، ریجنل کو آرڈینیٹر سرتاج احمد خان

یہ تاریخی ایکسپو ہوگا جسکے انعقاد سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط اور تجارتی سرگرمیاں مکمل فعال ہوجائینگی، ویڈیو لنک اجلاس میں بات چیت۔

پشاور (نمائندہ چترال ٹایمز) ایف پی سی سی آئی کے ریجنل کو آرڈینیٹر سرتاج احمد خان نے کہا ہے کہ ان شاء اللہ پاک افغان ایکسپو بہت جلد منعقد کیا جائیگا جسکے لیے رابطے جاری ہیں، یہ تاریخی ایکسپو ہوگا جس سے دونوں بردار ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوطی اور تجارت کو فروغ ملے گا، تاہم اسکے لیے ضروری ہے کہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ ہمارے اس مجوزہ منصوبے پر فنڈز کی منظوری کو جلد یقینی بنائے تاکے اس خواب کو حقیقیت کا روپ دیا جاسکے۔ پاک افغان ایکسپو کے حوالے سے گزشتہ روز ایک اہم ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان سبز علی، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈز کی جانب سے سمیع اللہ خان اور ایف پی سی سی آئی کے ریجنل کوآرڈینیٹر سرتاج احمد خان شریک ہوئے۔ اس اجلاس میں ایف پی سی سی آئی کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کی بزنس کمیونٹی کی ایکسپو کے انعقاد کی خواہش اور اس حوالے سے مجوزہ پروپوزل پر بات چیت کی گئی۔ سرتاج احمد خان نے بتایا کہ پاک افغان ایکسپو کے لیے افغانستان کے سفیر سمیت موجودہ حکومت سے بات چیت سمیت دیگر متعلقہ ذمہ دار اداروں اور افسران سے بھی مشاورت کی جا چکی ہے اور ایف پی سی سی آئی نے اس پر بہت محنت کرکے اسے یقینی بنانے کے لیے اپنا ہوم ورک مکمل کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ایکسپو کو لے کر دونوں جانب سے بزنس کمیونٹی کافی پر امید ہے کہ مستقبل میں اسکے اثرات خطے کے لیے شاندار ہونگے جس سے نہ صرف یہ کہ معاشی ترقی ہوگی بلکہ تعلقات بھی مذید مضبوط اور مستحکم ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے افغانستان ایمبیسی اور چیمبر کے نمائندوں سمیت پاکستان کے بھی مختلف چیمبرز، صوبائی حکومت اور تاجر و کاروباری تنظیموں سے بات چیت ہو چکی ہے۔ افغانستان کی صورتحال مکمل تبدیل ہوچکی ہے لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ وہاں کی موجودہ حکومت کے ساتھ بھی ماحول مکمل طور پر سازگار اور خوشگوار ہے جسکا فائدہ دونوں ملکوں اور ان کی عوام کو ہونا چاہیے۔

سرتاج احمد خان کا کہنا تھا کہ اس تاریخی اہمیت کے حامل منصوبے کو تجویز کیے دو سال کا عرصہ گزر چکا تاہم ای ڈی ایف کی جانب سے تاحال عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جو دونوں ممالک کے ترقی و خوشحالی کے اس منصوبے کے لیے نیک شگون نہیں، لیکن ہم نا امید نہیں ہیں اور امید بحال ہے کہ پاک افغان ایکسپو کا انعقاد رواں سال میں جلد یقینی ہو پائے گا۔ہم دونوں ریجنز میں کاروبار کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قدر تگ ودو کے بعد ایک جامع روڈ میپ ای ڈی ایف کو دیا گیا تھا لیکن اس پر کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ اس موقع پر ٹی ڈی اے پی کے ڈائریکٹر سبز علی نے بتایا کہ انکے محکمے کی جانب سے کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہوگی تاہم انکا کردار اس وقت شروع ہوگا جب ای ڈی ایف اس کے لیے فنڈز کی منظوری سے متعلق حتمی فیصلہ دے دیگا۔ ای ڈی ایف کے ذمہ دار نمائندوں نے اجلاس میں یقین دلایا کہ اس منصوبے میں اب مذید کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونے دی جائیگی تاہم پروپوزل میں گزرنے والے وقت اور دونوں ملکوں کی بدلتی صورتحال کے بعد اسے نظر ثانی کی ضرورت ہوگی تاکہ کسی قسم کی کوئی کمی بیشی نہ رہ جائے۔

 


شیئر کریں: