Chitral Times

Sep 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تہذیب و اخلاقی اقدار کی شہادت -قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

Posted on
شیئر کریں:

تہذیب و اخلاقی اقدار کی شہادت ۔۔۔  قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

آپ نے اکثر و بیشتر بازاروں ، میلوں ٹھیلوں میں بھگدڑ مچتے تو دیکھی ہوگی، بھگدڑ مچنے سے ان کا دل و دماغ کی کیا حالت ہوتی ہے لیکن اس کا خیال کسی نے بہت کم کیا ہوگا کہ بھگدڑ مچتی کیسے ہے ؟ اس کا ایک طریقہ بڑا آسان ہے ، ایک شخص بھاگنا شروع کردیتا ہے ، بھاگتا چلا جاتا اور چلّاتا ہے کہ ’’ آگئے آگئے ‘‘ ، اس کے پیچھے اور لوگ بھاگنا اور ’’ آگئے آگئے ‘ کا شور شروع کردیتے ہیں ، بس دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف سے لوگ بھاگنا شروع کردیتے ہیں اور اس طرح بھگدڑ مچ جاتی ہے ، کوئی کسی سے نہیں پوچھتا ( نہ ہی خود کھڑے ہوکر سوچتا ہے ) کہ لوگ کیوں بھاگ رہے ہیں ، کون آگئے ہیں ، یہ پریشانی کیوں ہے ؟۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جیسے منقود و مفلوج ہوجاتی ہے۔
بعض اوقات ٹریفک جام کے دوران بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ اچانک کوئی شخص گاڑی واپس گھما لیتا ہے، پھر دیکھتے ہی دیکھتے بیشتر لوگ گاڑیوں کو دوسری سمت میں لے جانے کے لیے الٹے سیدھے طریقے سے یو ٹرن لینے لگتے ہیں اورآناً فاناً َ ٹریفک جام ہوجاتا ہے ۔ اب نہ تو گاڑیاں آگے جا سکتی ہیں اور نہ پیچھے مڑ سکتی ہیں ، کسی ایک فرد کی جلد بازی پورے ٹریفک کے نظام کو منجمد کردیتی ہے۔ عموماً یہ بھی مشاہدہ کیا ہوگا کہ مرکزی سڑک سے گاڑیاں اچانک گلیوں میں جانا شروع ہوجاتی ہیں ،موٹر سائیکل والے زیادہ تر فٹ پاتھ یا قریبی کسی گلی میں جلد جانے کے لیے یا پھر کسی دور یا نزدیک سے افتاد دیکھنے یا سننے کے بعد جوق در جوق انجانے راستوں میں در آتے ہیں ، ان کے دیکھا دیکھی کچھ اور سوار ،یہاں تک کہ کاریں اور ہیوی گاڑیاں بھی کسی انجانے معاملے سے بچنے کے لیے بلا سوچے سمجھے خود کو بند گلی میں پھنسا لیتے ہیں۔ ایسی بھگدڑ جہلا میں مچا کرتی تھی لیکن ہمارے بدقسمتی کہ اب ہمارے علمی ، سیاسی اور عوامی طبقوں میں بھی اس قسم کی بھگدڑ مچنا شروع ہوچکی ہے۔
اگر کوئی شخص پاکستان کی سیاسی تاریخ کو ایک فقرہ میں سمجھنا چاہے تو کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے سیاسی رہنمائوں نے پہلے نو برس آئین پاکستان کی چادر بُننے میں صرف کردیئے اور دسویں برس سے اُسے ادھیڑنے میں مشغول ہوگئے۔صدر اسکندر مرزا کی توثیق کے بعد23 مارچ 1956کو آئین پاکستان نافذالعمل کیا گیا تھا ، یہ آئین صرف 2سال 6مہینے ہی چل سکا اور 7اکتوبر 1958کو مارشل لا کے تحت ختم کردیا گیا ۔ 8جون 1962کو ایک نیا آئین ’ بیسک ڈیموکریسی ‘ نافذ کیا لیکن 25مارچ1969 کو جنرل ایوب خان نے اپنا بنایا ہوا آئین منسوخ کرکے ، حکومت جنرل یحییٰ خان کے حوالے کردی اور پھر1970میں ون یونٹ توڑ دیا گیا ۔مارشل لا ء اٹھنے کے بعد پارلیمانی نظام کے تحت آٹھ مہینے کمیٹی نے دن رات محنت کرکے رپورٹ کی تیاری میں صرف کئے اور بالآخر 10 اپریل 1973کو وفاقی اسمبلی نے135 مثبت ووٹوں کے ساتھ اسے منظور کر لیا اور 14 اگست 1973 کو یہ آئین پاکستان میں نافذ کردیا گیا ۔ اسے اسلامی جمہوریہ پاکستا ن کا آئین مجریہ 1973 بھی کہتے ہیں۔
پاکستان میں 73کا آئین نافذ العمل ہے تاہم اس کے ساتھ کھلواڑ مختلف حکومتوں میں بھی کیا جاتا رہا اور ترمیمات کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔ آئین شکنی بھی ہوتی رہی اور یہ سب عوام کے حقوق کے نام پر ارباب اختیار کرتے رہے ۔ 10اپریل2022 کو جب اسی آئین کے تحت تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت ہٹائی گئی تو ایک ایسا ناقابل برداشت رویہ سامنے آیا جس میں کچھ حلقوں نے پاکستانی پاسپورٹ ، پرچم اور سر زمین کی بے حرمتی کی اور جو کچھ کہا گیا ، چاہے وہ جذبات میں تھا یا پھر کسی ممکنہ سازش کے تحت ، انتہائی قابل مذمت رہا ، عسکری اداروں اور عدلیہ کو جس توہین آمیز رویئے کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ، اس کی مثال ملکی تاریخ میں کبھی نہیں ملتی ۔ یہ سب کیوں ہوا اور ایسا رویہ کس کے کہنے پر اختیار کیا گیا ، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی ۔
آئین میں کئی معاملوں میں ابہام یا وضاحت نہیں ہے اس لیے کہ یہ انسانی ہاتھوں سے مرتب کردہ ہے جس میں کئی اہم امور کو قصداً یا نادانستگی میں چھوڑ دیا گیا یا پھر اس کی تشریح کی ضرورت اُس وقت آئی جب معاملہ درپیش ہوا۔ اس دستور کی ترتیب و تدوین پر فتح و کامرانی کے شادیانے بجائے گئے تھے اور قوم سے کہا جاتا ہے کہ تمہیں اور تمہاری آنے والی نسلوں کو زیر بار احسان رہنا چاہیے کہ ہم نے تم کو اس قسم کا دستور مرتب کرکے دیا ۔ اب اس تگ و تاز میں بعض عناصر مصروف رہے کہ جو کچھ بنایا گیا تھا، اب اسے کس طر ح بگاڑا اور جو کچھ بسایا تھا ،اُسے کس طرح اجاڑا جائے ۔ ہم میں تشتت و افتراق کے بجائے اتحاد و ائتلاف پیدا ہونا چاہیے تھا ، اتحاد و اتفاق کی جانب جو قدم بھی اٹھے درخور ِ صد تبریک اور سزا دارِ ہزار تہنیت ہوتا ہے ۔آسمان کی آنکھ نے اس سے زیادہ عبرت انگیز اور تاسف خیز منظر شاید ہی کبھی دیکھا ہو کہ ملک کے بجائے کسی ایک فرد کے اقتدار سے ہٹنے کی بنا پر وطن ِ عزیز کے خلاف اس قدر نفرت انگیز مہم کو چلائی گئی اور بعض عناصر کی جانب سے اس کی حوصلہ افزائی بھی ہوئی۔
المیہ یہی ہے کہ ایسے عناصر کی عصبیت جاہلیہ کو اپنی تسکین ، فروعی مفاد کے نزدیک ملک اور ملت کی بہبود سے کوئی واسطہ نہیں، مُردہ بہشت میں جائے یا دوزخ میں ، ان کی بلا سے ، انہیں اپنے حلوے مانڈے سے کام ہے ۔ کسی نے ٹرک کی سرخ بتی کے پیچھے لگا دیا اور حقیقت تک رسائی ہونے سے پہلے ہی افراتفری اور خلفشار کا ماحول پیدا ہوا کہ جس کا جدھر منہ اٹھے وہاں بھاگتا دکھائی دیتا ہے، ہمارے جسد ِ سیاست کا یہ ایک ایسا مستقل ناسور ہے جو سارے جسم کو زہر آلود کررہا ہے، بلکہ کرچکا ہے ۔ ہمارے نوجوان ہی نہیں بلکہ بزرگ بھی بھگدڑمیں بھاگ رہے ہیں انہیں یہ نہیں معلوم کہ ہوا کیا ہے، بس اپنے تئیں ایک ایسا فیصلہ کرلیا جس میں وہ خود ہی منصف ہیں کہ کسی کو بھی سزا دے ڈالیں ، چلیں یہاں تو ٹھیک کہ سیاسی وابستگیوں میں جذبات کا عنصر غالب آجاتا اور غصہ عقل کھا جاتا ہے لیکن وطن عزیز کے خلاف ایسی سازشوں اور دشنامی طرز عمل کو کوئی بھی کرے ، وہ ملک و قوم کا خیر خواہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔

شیئر کریں: