Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبرپختونخوااسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعلیٰ محمودخان کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی

شیئر کریں:

 

خیبرپختونخوااسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعلیٰ محمودخان کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی

پشاور(چترال ٹایمزرپورٹ)خیبرپختونخوااسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعلیٰ محمودخان کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی۔پیر کو جب صوبائی اسمبلی کااجلاس سپیکرمشتاق احمدغنی کی زیرصدارت شروع ہوا تو اے این پی کے پارلیمانی لیڈرسردارحسین بابک نے کہاکہ خبریں آرہی تھیں کہ صوبائی اسمبلی کو تحلیل کیاجارہاہے ملکی صورتحال کودیکھتے ہوئے اپوزیشن نے مناسب سمجھاکہ تحریک عدم اعتمادجمع کرائی جائے ہماراحکومت گرانے کاکوئی ارادہ نہیں اب حکومت کی جانب سے وضاحت چونکہ آچکی ہے لہذاہم نے تحریک عدم اعتمادواپس لے لی ہے۔اسمبلی کو تحلیل سے بچانے کیلئے آئین نے ایک راستہ دیاہے انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کی دیگرجماعتوں کیساتھ نہیں تھی تاہم اسمبلی تحلیل کے نکتے کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتیں متحدہیں انہوں نے ہاؤس میں وزیراعلیٰ کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپناموڈآف نہ کریں ہماری تعداداتنی نہیں نہ ہی ہماراکوئی حکومت گرانے کاارادہ ہے

 

خیبرپختونخوااسمبلی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمودخان پراعتمادکے اظہارکیلئے پیش کردہ قراردادبھاری اکثریت سے منظورکرلی

پشاور(سی ایم لنکس)خیبرپختونخوااسمبلی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمودخان پراعتمادکے اظہارکیلئے پیش کردہ قراردادبھاری اکثریت سے منظورکرلی پیر کے روز صوبائی اسمبلی اجلاس میں پی ٹی آئی رکن سلطان محمد نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ قائدایوان باعزت شخصیت کے مالک ہیں ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں تحریک انصاف مکمل متحد ہے ہم عمران خان اور وزیراعلیٰ محمودخان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اس موقع پررولزریلکس کرتے ہوئے انہوں نے اپنی قراردادپیش جس کے متن کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمودخان پرمکمل اعتماد کااظہارکرتے ہیں اور صوبے کیلئے شبانہ روز کام کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں وزیراعلیٰ نے عمران خان کی قیادت میں صوبے کی خدمت کی ہے جس کو برسوں یاد رکھاجائے گا اپنے دور حکومت میں وزیراعلیٰ نے صوبے کو قابل ذکر ترقی دی ہے بالخصوص قبائلی اضلاع میں انتظامی امور اور انفراسٹرکچرمیں بے مثال ترقی ہوئی ہم اراکین وزیراعلیٰ کی قائدانہ صلاحیتوں کو قدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں بحیثیت لیڈرآف دی ہاؤس ان پرمصمم اورغیرمتزنزل اعتمادکااظہار کرتے ہیں سپیکرنے جب قراردادپر ووٹنگ کرائی تھی توقراردادکے حق میں 88اورمخالفت میں تین ووٹ آئے جماعت اسلامی اوردیگرجماعتوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ ن لیگ اور اے این پی نے قراردادکی مخالفت کی اس دوران اپوزیشن رکن سرداربابک نے ووٹنگ کے عمل پراعتراضات اٹھائے جن کاموقف تھاکہ وہ نشست پر مخالفت کیلئے نہیں بلکہ بولنے کیلئے اٹھے تھے لہذادوبارہ صحیح ووٹنگ کرائی جائے جس پر ایوان میں ہلڑبازی شروع ہوگئی اور ایوان میں بد نظمی دیکھنے میں ا?ئی،ہنگامہ آرائی اور نعرہ بازی میں سپیکرمشتاق احمدغنی نے اجلاس 10مئی تک کیلئے ملتوی کردیا۔


شیئر کریں: