Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیرِ اعظم کا انتخاب، شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی کے کاغذاتِ نامزدگی جمع

Posted on
شیئر کریں:

وزیرِ اعظم کا انتخاب، شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی کے کاغذاتِ نامزدگی جمع

ا سلا م آ با د (سی ایم لنکس)قائدِ ایوان (وزیر اعظم) کے انتخاب کے لیے مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے گئے۔میاں محمد شہباز شریف نے خود وزارتِ عظمی کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے۔خواجہ آصف اور رانا تنویر شہباز شریف کے تائید کنندہ اور تصدیق کنندہ ہیں۔شہباز شریف کے کاغذاتِ نامزدگی ان کے ہمراہ شاہد خاقان عباسی، نوید قمر، محسن داوڑ، ایاز صادق، سعد رفیق اور خواجہ آصف نے جمع کرائے۔اس سلسلے میں میاں شہباز شریف نے خود بھی دیگر ارکان کے ساتھ سیکریٹری قومی اسمبلی سے ملاقات کی ہے۔متحدہ اپوزیشن کی جانب سے 13 کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے گئے ہیں۔دوسری جانب شاہ محمود قریشی کے 4 فارمز قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائے گئے ہیں۔عامر ڈوگر اور علی محمد خان ان کے تائید کنندہ اور تصدیق کنندہ ہیں۔نئے قائدِ ایوان (وزیرِ اعظم) کے انتخاب کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے اور جانچ پڑتال کے اوقات میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔ترجمان کے مطابق کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کا وقت دوپہر 2 بجے کے بجائے سہ پہر 4 بجے کر دیا گیا ہے۔ادھر کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال بھی اب سہ پہر 3 بجے کے بجائے شام ساڑھے 4 بجے تک کی جائے گی۔

دوسری جانب قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے کل (11 اپریل کو) ہونے والے اجلاس کا وقت تبدیل کر دیا گیا ہے۔قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کو دوپہر 2 بجے ہو گا۔اس سے پہلے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی صبح 11 بجے طلب کیا گیا تھا۔گزشتہ شب قومی اسمبلی نے عمران خان پر عدم اعتماد کر دیا جس کے بعد عمران خان پاکستان کے وزیرِ اعظم نہیں رہے۔تحریکِ عدم اعتماد کی قرار داد کے حق میں 174 ووٹ آئے، پی ٹی آئی کے منحرف ارکان نے ووٹ نہیں ڈالا۔پارلیمنٹ نے عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے فارغ کر دیا۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کرائی تھی۔تحریکِ عدم اعتماد ناکام بنانے کے لیے اپنائے گئے تمام غیر آئینی حربے ناکام رہے۔عمران خان تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے نکالے جانے والے ملک کے پہلے وزیرِ اعظم بن گئے۔

 

برطانوی نشریاتی ادارے کی خبر جھوٹ کا پلندہ ہے، آئی ایس پی آر

راولپنڈی(چترال ٹایمز رپورٹ) آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بی بی سی اردو کی شائع ہونے والی خبر سراسر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی اس پی آر) نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی اردو) کی شائع ہونے والی خبر سراسر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے، عام پروپیگنڈا کہانی میں کوئی معتبر، مستند اور متعلقہ ذریعہ نہیں، یہ بنیادی صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ جعلی کہانی میں کوئی حقیقت نہیں اور واضح طور پر منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ لگتا ہے، یہ معاملہ بی بی سی حکام کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے۔

 

پی ٹی آئی کے منحرف ارکان قومی اسمبلی کے خلاف ریفرنس غیر مؤثر ہونے کا امکان

اسلام آباد(سی ایم لنکس)تحریک انصاف نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ میں حصہ نہ لے کر منحرفین کو محفوظ راستہ فراہم کردیا، اور پی ٹی آئی کے 20 منحرف ممبران قومی اسمبلی کے خلاف ریفرنس غیر موثر ہونے کا امکان ہے۔ عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد منظرعام پر آنے والے تحریک انصاف کے 20 منحرف ممبران قومی اسمبلی کے خلاف پی ٹی آئی کی جانب سے گزشتہ روز ریفرنس دائر کیا گیا تھا، آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت ریفرنس اسپیکر اسد قیصر کے حوالے کیا گیا تھا، تاہم اب وہ ریفرنس غیر موثر ہونے کا امکان ہے۔گزشتہ رات عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ہونے والی ووٹنگ میں پی ٹی آئی نے حصہ نہ لے کر 20 منحرف اراکین کو بھی محفوظ راستہ فراہم کردیا، اپوزیشن کی تعداد پوری ہونے پرایوان میں عدم اعتماد کے خلاف ووٹنگ میں منحرفین کے ووٹ کی ضرورت ہی نہ پڑی، اور گزشتہ رات بھی منحرفین نے بھی کسی کو ووٹ نہیں دیا۔سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد خان کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کا اطلاق 20 منحرف ممبران پر نہیں ہوسکتا، پارٹی پالیسی سے اختلاف پر ڈیفیکشن کلاز نہیں لگتی، ڈیفیکشن کلاز کا اطلاق پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے پرہوتا ہے، جس کا ارتکاب منحرف ممبران نے نہیں کیا۔

 

عمران خان نے بطور وزیراعظم آخری کام کون سا کیا؟

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ) پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر شہباز گل نے بتایا ہے کہ عمران خان نے بطور وزیراعظم آخری کام کون سا کیا۔ڈاکٹر شہباز گل نے ٹوئٹر پر بتایا کہ وزیر اعظم نے دفتر سے جانے سے پہلے اپنا آخری حکم اپنے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی درخواست پر انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن رپورٹ کرنے کا کیا۔شہباز گل نے مزید کہا انہوں نے (عمران خان نے) اعظم خان کی پیشہ ورانہ قابلیت کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے پوری ایمانداری اور محنت سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔واضح رہے کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی، جس کے بعد عمران خان اب وزیراعظم نہیں رہے۔ اسپیکر اسد قیصر کے مستعفی ہونے کے بعد قائم مقام اسپیکر ایاز صادق نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی کارروائی مکمل کی۔تحریک عدم اعتماد کی حمایت میں 174 ووٹ ڈالے گئے، جس کے بعد عمران خان ملک کے وزیراعظم نہیں رہے جبکہ پی ٹی ا?ئی کے منحرف اراکین نے عدم اعتماد کی کارروائی میں ووٹ کاسٹ نہیں کیے۔


شیئر کریں: