Chitral Times

Sep 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

الیکشن جائزہ – تحصیل کونسل دروش آز: ظہیر الدین

شیئر کریں:

الیکشن جائزہ – تحصیل کونسل دروش آز: ظہیر الدین

chitraltimes ppp jalsa drosh khalid pervaz

دروش کو تحصیل کا درجہ ملنے کے بعد پہلی مرتبہ منعقد ہونے والی الیکشن میں چیرمین تحصیل لوکل گورنمنٹ کے لئے پی پی پی اور پی ٹی آئی کے امیدواروں میں سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا جس میں پی پی پی میں نئی شمولیت اختیار کرنے والے شہزادہ پرویز کو صرف 110ووٹوں سے پی ٹی آئی کے حاجی سلطان پر برتری حاصل ہوئی۔ تحصیل دروش کے حدود میں کیسو اور اس سے نیچے ارندو تک تمام علاقے شامل ہیں جہاں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 63ہزار 864ہے جن میں سے 36ہزار389نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ فارم XXکے مطابق امیر نوراب خان (آزاد) نے 1053، خدیجہ بی بی (اے این پی) 5930، سلطان محمد (پی ٹی آئی) 8438، شہزادہ خالد پرویز (پی پی پی) 8548، شہزادہ شوکت الملک (مسلم لیگ۔ن اور جے یو آئی کا مشترکہ امیدوار) 1662، شیر محمد (جے یو آئی کے ناراض گروپ اور جماعت اسلامی کا مشترکہ امیدوار) 7574اور عباد الرحمن (آزاد) نے 423ووٹ حاصل کی۔

chitraltimes khadija sardar visit madaklasht drosh tehsil9

تحصیل دروش کو انتخابی نتائج کے تجزئیے کی خاطر چار بڑے علاقوں شیشی کوہ/ مداک لشٹ، دروش خاص (شاہ نگار سے لے کر جنجریت تک بمعہ بیوڑی اور کال کٹک)، عشریت اور دمیڑ ارندو میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ حتمی نتائج کے مطابق اے این پی کے امیدوار خدیجہ بی بی نے عشریت میں سب پر سبقت حاصل کی جس کے چار پولنگ اسٹیشنوں میں کاسٹ ہونے والے 2492ووٹوں میں سے 906ووٹ حاصل کی جبکہ شیر محمد کو 589، شہزادہ خالد پرویز کو 351اور حاجی سلطان کو 305ووٹ ملے جبکہ اس علاقے میں جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے ناراض گروپ کی اکثریت بتائی جاتی تھی۔

wazir zada shishikoh visit

دمیڑ ارندو کے 14پولنگ اسٹیشنوں میں پڑنے والے 9130ووٹوں میں سے مقامی امیدوار حاجی سلطان نے 3340ووٹ لے کر سبقت حاصل کی جس کے بعد شہزادہ خالد پرویز نے 2309لے سکے جبکہ شیر محمد نے 1430اور خدیجہ بی بی نے 833ووٹ اس علاقے سے حاصل کی۔ اس علاقے میں حاجی سلطان نے توقع کے برعکس بہت کم ووٹ حاصل کی جوکہ ان کی شکست کا باعث ثابت ہوا اور اپنے واحد مقامی امیدوار ہونے اور وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی وزیر زادہ کے یہاں سخت محنت اور سرتوڑ کوشش کا ذیادہ فائدہ نہ اٹھاسکے جوکہ یہاں 3500ووٹ لینے کی صورت میں کامیاب ہوسکتے تھے جبکہ وہ صرف 110ووٹوں سے ہارگئے ہیں۔

pti damail jalsa wazir zada1

دروش خاص میں پول ہونے والے 13ہزار723ووٹوں میں سے پی پی پی اور اے این پی کے درمیاں کانٹے دار مقابلہ دیکھنے میں آیا جہاں شہزادہ خالدپرویز نے 3745اور خدیجہ بی بی نے 3055ووٹ حاصل کیا۔ پی ٹی آئی کو اس علاقے میں مایوس کن ووٹ ملے جوکہ 2403تھے حالانکہ ان کا دمیڑ ارندو کے بعد اس علاقے پر ذیادہ انحصار تھا۔ شیر محمد کو اس علاقے میں 2065ووٹ ملے جبکہ مسلم لیگ۔ن اور جے یو آئی کا مشترکہ امیدوار ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی امیدوار ہونے کے باوجود شہزادہ شوکت الملک کو اس علاقے میں 948ووٹ ملے جبکہ جے یو آئی کے سینئر رہنما قاری جمال عبدالناصر کے ‘ابابیل’بھی یہاں غائب رہے۔ اسی طرح دروش کے نواحی گاؤں سویر کے دوپولنگ اسٹیشنوں میں پول ہونے والے 1288ووٹوں میں سے شیر محمد نے 516، شہزادہ خالد پرویز 234، خدیجہ بی بی 197 اورحاجی سلطان 168 ووٹ لے سکے جبکہ اے این پی کے قدیم ترین رہنماؤں (جان فیملی) کی وجہ سے اس علاقے میں اے این پی کے امیدوار کی سبقت کے لئے پیشگوئی کی جارہی تھی۔

chitraltimes sher muhammad drosh and ji

 

شیشی کوہ مدک لشٹ کے 12پولنگ اسٹیشنوں میں پڑنے والے6932ووٹوں میں سے مقامی امیدوار ہونے کے ساتھ ساتھ جے یوا ٓئی کے ناراض رہنماؤں اورجماعت اسلامی کے مشترکہ امیدوار شیرمحمد نے اگرچہ 2088ووٹوں سے دوسروں پر سبقت حاصل کی لیکن یہ تعداد ان کے لئے خاصی ناکافی ہے۔ شیر محمد اس علاقے سے پہلے بھی دو دفعہ ضلع کونسل کا ممبر رہ چکا ہے اور دو جماعتوں کا مشترکہ امیدوار ہونے کے ناطے اگر اپنے آبائی علاقے میں ووٹوں کی تعداد کو صرف 3000تک بڑہاسکتے توان کی کامیابی یقینی تھی جوکہ جیتنے والے امیدوار سے 974ووٹوں سے کم ہیں۔ شیشی کوہ میں دوسرے نمبر پر شہزادہ خالد پرویز رہے جس نے 1466ووٹ حاصل کی جبکہ حاجی سلطان نے 1610ووٹ پول کیا جن میں مدک لشٹ کے ایک ہی پولنگ اسٹیشن میں 1100میں سے 801ووٹ شامل ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ باقی گیارہ پولنگ اسٹیشنوں میں ان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر رہی یعنی اسطاً ہر پولنگ اسٹیشن 50کے لگ بھگ ہے جبکہ یہاں معمولی سی بہترکارکردگی سے وہ شہزادہ پرویز کو پیچھے چھوڑ سکتے تھے۔ خدیجہ بی بی کو اس علاقے سے صرف491ووٹ ملے۔

chitraltimes jui drosh

اس تحصیل میں اے این پی کا نامزد امیدوار خدیجہ بی بی قابل ذکر ہے جوکہ چترال میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون امیدوار کی حیثیت سے تحصیل یا ضلع لیول پر عہدے کے لئے انتخاب لڑرہی تھی اورصوبے کے اٹھارہ اضلاع میں دوسرے مرحلے کے لوکل باڈیز پول میں بھی واحد خاتون امیدوار تھی۔ چترا ل میں قومی یا بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں خدیجہ بی بی نے پہلی مرتبہ اے این پی کی ووٹ بنک میں حیرت انگیز اضافہ کیا یعنی پول شدہ ووٹوں کا 17فیصد تک لے گئی جبکہ اس حلقے میں کامیاب امیدوار نے25فیصد ووٹ حاصل کی ہے۔ اگر شیشی کوہ اور دمیڑ ارندو میں ذیادہ محنت کی ہوتی تو ان کی کامیابی کی راہیں ہموار ہوسکتی تھیں جبکہ دروش خاص میں انہوں نے حکمران جماعت پی ٹی آئی سے بھی آگے نکل گئی اور علاقے کی بااثر ترین سیاسی خاندان کے چشم چراغ اور میدان سیاست کے داو پیچ کے ماہر کھلاڑی شہزادہ پرویز کو tough timeدے دی۔ اپنی محنت کے بل بوتے پر قابل ذکر تعداد میں ووٹ حاصل کرکے انہوں نے اپنی قابلیت کا لوہا منوالیا اور سیاست میں قدم رکھنے والے دوسری بہنوں اور بیٹیوں کے لئے میدان ہموار کرلی کیونکہ انہوں نے انگریزی کے اس محاورے کو غلط ثابت کیا کہFrailty, Thy Name is Woman۔

chitraltimes khadija sardar visit madaklasht drosh tehsil31

 


شیئر کریں: