Chitral Times

Feb 27, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پاکستان کو لیڈروں سے بچاؤ – گل عدن

Posted on
شیئر کریں:

پاکستان کو لیڈروں سے بچاؤ – گل عدن

تقسیم ہند سے پہلے منٹو نے ہندوستان کو لیڈروں سے بچاؤ کے عنوان سے ایک تحریر لکھی تھی جو ہو بہو ان حالات کی ترجمانی کر رہا ہے جن حالات سے آج ہمارا ملک پاکستان دوچار ہے۔پچھلے تیس سالوں کی سیاست کو اور پچھلے تین سالوں کی سیاست کو بھی آپ پس پشت ڈال کر صرف حالات حاضرہ کو سامنے رکھ کر بتائیں کیا پاکستان کو ان لیڈروں کی ضرورت ہے؟ اس ایک ہفتے میں حکومت وقت اور اپوزیشن نے ملکر جس طرح جمہوریت کی دھجیاں اڑادیں،آئین کو ایک مذاق بنا دیا۔قانون کو سوالیہ نشان بنا یا۔پاکستان کی تضحیک کی اقوام عالم کے سامنے ۔ کیا اس ملک کو ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے؟؟ ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر فیصلہ کریں کہ کیا یہ جنگ جو اپوزیشن اور حکومت کے درمیان چھر گئی ہے ‘ اس ملک کی امن و سلامتی کی جنگ ہے؟؟ میں برملا کہتی ہوں نہیں! یہ جنگ صرف اور صرف “کرسی” کی جنگ ہے “اقتدار ” کی جنگ ہے۔اس جنگ میں عوام کا اور پاکستان کا کوئی مفاد نہیں ہے ۔ یہاں کوئی بھی پاکستان کی سالمیت اور بقا کی جنگ نہیں لڑ رہا۔کوئی اقتدار پانے کے لئے لڑ مر رہا ہے اور کوئی اقتدار کو ہاتھ سے جاتا دیکھ کر مرنے مارنے پر اتر آیا ہے ۔ہر چیز کو پس پشت ڈال کر ان سیاسی جماعتوں کے لیڈروں سمیت انکے اراکین اور انکے سپوٹرز کی زبان کی شائستگی ملاحظہ کیجیے ۔کیا آپ تصور بھی کرسکتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح اپنی خطاب میں اپنے سیاسی حریفوں کو گدھا، لومڑی، گیدڑ، محلے کی ماسی جیسے القابات سے نوازتے یا ان کے سپورٹرز سیاسی جماعتوں سے وابستگی کی آڑ میں اخلاقیات سے اتنے گر جائیں کہ انکی زبانیں غلیظ ہوجائیں ۔جتنی غلاظت پچھلے کچھ عرصے میں ہمارے نام نہاد لیڈرز اور انکے اعلی تعلیم یافتہ سپورٹرز نے دکھائی ہے۔۔کیا پاکستان کی ترقی ایسے لوگوں سے ہوگی؟ جو قوم اپنی زبان کی گندگی کو صاف نہیں کرسکتی وہ کرپشن کی گندگی کیسے صاف کر پائے گی۔

میں یہاں منٹو کی تحریر کا کچھ حصہ آپکے ساتھ شئر کر رہی ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ آج ہمیں اس تحریر کی ضرورت ہے کہ اسے سنا جائے۔سنایا جائے اور ایک دوسرے تک پہنچایا جائے۔گو کہ منٹو نے اس تحریر کو اس دوڑ میں لکھا تھا جب قلم تلوار کی حثیت رکھتا تھا جبکہ آج تلوار بھی اپنا مقام کھو چکا ہے۔خیر جانے دئجیے تحریر پڑھ لیں ۔

“ہم ایک عرصے سے ایک شور سن رہے ہیں کہ ہندوستان کو اس چیز سے بچاؤ، اس چیز سے بچاؤ ۔مگر واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان کو ان لوگوں سے بچانا چاہیے جو اس قسم کا شور پیدا کررہے ہیں ۔یہ لوگ شور پیدا کرنے کے فن میں ماہر ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں ۔مگر انکے دل اخلاص سے بلکل خالی ہیں ۔رات کو کسی جلسے میں گرم گرم تقریر کرنے کے بعد جب یہ لوگ اپنے پرتکلف بستروں میں سوتے ہیں۔تو انکے دماغ بلکل خالی ہو جاتے ہیں۔انکی راتوں کا خفیف ترین حصہ بھی اس خیال میں نہیں گزرا کہ ہندوستان کس مرض میں مبتلا ہے۔دراصل وہ اپنے علاج معالجے میں اس قدر مصروف رہتے ہیں کہ انہیں اپنے وطن کے مرض کے بارے میں غور کرنے کا موقع نہیں ملتا ۔یہ لوگ جو اپنے گھروں کا نظام درست نہیں کرسکتے ۔یہ جن کا کریکٹر انتہائی پست ہے جنکو عرف عام میں لیڈر کہا جاتا ہے ۔یہ جو سیاست اور مذہب کو لولا لنگڑا اور زخمی آدمی تصور کرتے ہیں۔جسکی نمائش سے ہمارے ہاں گداگر بھیک مانگتے ہیں ۔سیاست اور مذہب کی لاش ہمارے یہ نام نہاد لیڈر اپنے کاندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں ۔اور سیدھے سادھے لوگوں کو جو ہر بات مان لینے کے عادی ہوتے ہیں ‘یہ کہتے ہیں ہم اس لاش کو نئے سرے سے زندگی بخش رہے ہیں ۔ہندوستان کو ان لیڈروں سے بچاؤ جو ملک کی فضا بگاڑ رہے ہیں ۔اور عوام کو گمراہ کر رہے ہیں ۔آپ نہیں جانتے مگر یہ لیڈر اپنی اپنی بغل میں ایک صندوقچی دبائے پھر رہے ہیں جس میں یہ عوام کی جیبوں سے کتر کتر کر روپیہ جمع کرتے ہیں ۔انکی زندگی ایک لمبی دوڑ ہے،سرمائے کے پیچھے۔

ہندوستان کو بے شمار لیڈروں کی ضرورت نہیں ہے جو نئے سے نئے راگ الاپتے ہیں ۔ہمارے ملک کو صرف ایک لیڈر کی ضرورت ہے۔خو حضرت عمر رضي الله عنها کا سا اخلاص رکھتا ہو۔جسکے سینے میں اتاترک کا سپاہیانیہ جذبہ ہو۔جو برہنہ پا اور گر سنہ شکم آگے بڑھے۔اور وطن کے بے لگام گھوڑے کے منہ میں باگیں ڈال کر اسے آزادی کے میدان کیطرف مردانہ وار لے جائے۔یاد رکھیں وطن کی خدمت شکم سیر لوگ کھبی نہیں کرسکیں گے ۔”

اسی طرح ایک اور تحریر میں منٹو لکھتے ہیں جو عین حق ہے اور ان الفاظ کو اس تحریر کیساتھ نہ جوڑنا نا انصافی ہوگی ۔کہتے ہیں ” حکمران جن کے سر پہ کھبی مکھی نہیں بیٹھتی وہ معاشرے کے ننگے بھوکے غلاظت کے ڈھیر پر بیٹھے لوگوں کا درد کیسے سمجھیں گے ۔”سوال یہ ہے کہ
کتاب کے نام پر ووٹ دینے والے، بھٹو کے عشق میں زرداری پر جانثار ہونے والی عوام ۔چار سڑکیں بنانے پر کسی بھی سیاسی جماعت پر لٹو ہونے والی عوام کھبی منٹو کی تحریر کو سمجھ پائیں گے؟؟


شیئر کریں: