Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

الیکشن کمیشن نے فوری طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیوں کے کام کا آغاز کر دیا

شیئر کریں:

الیکشن کمیشن نے فوری طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیوں کے کام کا آغاز کر دیا، عام انتخابات کے لئے مکمل ایکشن پلان بھی طلب

اسلام آباد(سی ایم لنکس)الیکشن کمیشن نے فوری طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیوں کے کام کا آغاز کر دیا ہے جبکہ 13 اپریل تک عام انتخابات کے لئے مکمل ایکشن پلان بھی طلب کر لیا،پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے فوری انعقاد کیلئے وفاقی سیکرٹری خزانہ اور چیف سیکرٹری پنجاب کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، این اے 33 ضلع ہنگو میں ضمنی انتخاب کے لئے پولنگ 10 اپریل کی بجائے 17 اپریل کو ہو گی۔الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس جمعہ کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں ہوا جس میں الیکشن کمیشن کے ممبران اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ الیکشن کمیشن نے ملک کی سیاسی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ڈیجیٹل مردم شماری جس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکااس کااتنظار کئے بغیر 2017 کی مردم شماری کیاعدادوشمار کی بنیاد پر فوری طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام حلقہ جات کی حلقہ بندی کے کام کا آغاز کردیا ہے۔کمیشن نے حکم دیا کہ یہ کام ہنگامی بنیادوں پر 4 ماہ کے اندر اندر مکمل کیا جائے۔

کمیشن نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو تحریر کیاجائے کہ تقشہ اور دیگر اعدادوشمار فوری طور پر الیکشن کمیشن کو مہیا کریں تاکہ الیکشن کمیشن اس کی تکمیل یقینی بنائے۔الیکشن کمیشن نیسیکرٹری کمیشن اور سپیشل سیکرٹری کمیشن کو حکم دیاکہ وہ 13 اپریل کو الیکشن کمیشن کے سامنے عام انتخابات کے لئے مکمل ایکشن پلان پیش کریں تاکہ تمام امور کی مانیٹرنگ اور بروقت تکمیل یقینی بنائے۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ ملک میں بہتری،جمہوری عمل کے تسلسل، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے لئے اپنا آئینی کردار ادا کر رہیہیں اور آئندہ بھی اسے یقینی بنائیں گے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے حکومت پاکستان اور خزانہ ڈویڑن کو صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے ضروری فنڈز کے لئے مراسلہ تحریر کیا کیونکہ بلدیاتی انتخابات پہلے ہی تاخیر کا شکار ہو چکے ہیں اس کا مزید التوا ء آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہو گی۔فنانس ڈویڑن کے مشورے کے مطابق الیکشن کمیشن نے ای سی سی کی منظوری کے لئے ضمنی گرانٹ کی سمری بھیجی جو ای سی ی نے منظوری کے بعد کابینہ کو منظوری کے لئے بھجوائی۔

کابینہ نے اس کی منظوری دی اور فنانس ڈویڑن نے فنڈز کی منظوری کا مراسلہ بھی الیکشن کمیشن کو ارسال کر دیا کہ الیکشن کمیشن کی ضرورت کے مطابق ضروری فنڈز مہیا کئے جائیں گے لیکن الیکشن کمیشن کے افسران نے فنانس ڈویڑن کے افسران سے فنڈز جاری کرنے کے لئے رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ حکومت پنجاب نے اپنے حصہ کے فنڈز کے لئے ضروری این او سی جاری نہیں کیاجس کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کے لئے مطلوبہ فنڈز الیکشن کمیشن کو فراہم نہیں کئے جاسکتے۔الیکشن کمیشن نے اس بات کا سختی سے نوٹس لیا اور کہا کہ آئینی اورقانونی طورپر الیکشن کمیشن مالی اور انتظامی اعتبار سے خودمختار ادارہ ہیاور حکومت پاکستان اور تمام صوبائی حکومتیں مکمل مالی اور انتظامی تعاون کی پابند ہے لیکن مختلف وجوہات کو جواز بنا کرالیکشن کمیشن کو اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔الیکشن کمیشن نے مذکورہ بالا وجوہات اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے فیصلہ کیا کہ وفاقی سیکرٹری خزانہ اور پنجاب کے چیف سیکرٹری کو طلب کر کے ان دونوں کو سننے کے بعد کوئی مناسب فیصلہ کرے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ این اے 33 ضلع ہنگو کے ضمنی انتخاب کے لئے 10 اپریل 2022 کو ہونے والی پولنگ اب 17 اپریل کو ہو گی۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیاگیا کہ عام انتخابات کے لئے انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی کا کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

 

4 ماہ کے اندر حلقہ بندیاں مکمل کی جائیں، الیکشن کمیشن

اسلام آباد(سی ایم لنکس)الیکشن کمیشن نے 4 ماہ میں حلقہ بندیاں مکمل کرنے کا حکم دیا ہے اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر تمام اعداد وشمار فراہم کریں۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیرصدارت الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس ہوا جس میں ممبران الیکشن کمیشن اور سینئرافسران نے شرکت کی۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر کو بریفنگ دی گئی کہ 2017 کی مردم شماری کیتحت اسمبلیوں کی حلقہ بندی کا آغاز کردیا گیا جس پر چیف الیکشن کمشنر نے 4 ماہ میں حلقہ بندیاں مکمل کرنے کا حکم دیا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو بھی ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ فوری طور پر تمام اعداد وشمار فراہم کریں۔ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے 13 اپریل کو تمام متعلقہ حکام سے عام انتخابات کیلیے مکمل ایکشن پلان بھی طلب کرلیا ہے اور تمام امور کی مانیٹرینگ بروقت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے حکومت سے فنڈز فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ بلدیاتی انتخابات پہلے ہی تاخیر کا شکار ہیں مزید التوا آئین وقانون کی خلاف ورزی ہوگی۔الیکشن کمیشن کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک میں جمہوری عمل اور شفافیت کے لیے اپنا آئینی کردار ادا کر رہے ہیں اور الیکشن کمیشن آئندہ بھی آئینی کردارادا کرنے کو یقینی بنائے گا۔


شیئر کریں: