Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ میں صرف الزامات ہیں کوئی فائنڈنگ نہیں، چیف جسٹس

Posted on
شیئر کریں:

ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ میں صرف الزامات ہیں کوئی فائنڈنگ نہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ) چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ عدالت پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ فیصلہ نہیں کر رہی، یک طرفہ فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں؟۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے اسپیکر رولنگ از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔وکیل ن لیگ اعظم نذیر تارڑ نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی اسپیکر نے آج شام اجلاس بلایا ہے، لیکن اسمبلی کا عملہ ڈپٹی اسپیکر کا حکم نہیں مان رہا، لاہور میں حالات کشیدہ ہیں، لگتا ہے آج بھی وزیراعلی کا الیکشن نہیں ہو سکے گا،چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی طور پر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں، عدالت پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ فیصلہ نہیں کر رہی، یک طرفہ فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں؟۔تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا مشکور ہوں کہ قوم پر مہربانی کرتے ہوئے نوٹس لیا، درخواست گزار اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا رولنگ میں دیا گیا حوالہ نظرانداز کیا جائے اور عدالت ان کے حق میں فوری مختصر حکمنامہ جاری کرے، کیس میں جس برطانوی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا وہ کیس میں لاگو نہیں ہوتا، کیا سندھ ہاؤس اور آواری ہوٹل لاہور میں جو کچھ ہوا اسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ نیشنل سیکورٹی کونسل اجلاس کے منٹس کدھر ہیں،

ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ میں بظاہر الزامات ہیں کوئی فائنڈنگ نہیں، کیا اسپیکر حقائق سامنے لائے بغیر اس طرح کی رولنگ دے سکتا ہے؟ یہی آئینی نقطہ ہے جس پر عدالت نے فیصلہ دینا ہے، کیا اسپیکر آرٹیکل 95 سے باہر جا کر ایسی رولنگ سے سکتا ہے جو ایجنڈے پر نہیں، ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ میں نتیجہ اخذ کیا ہے، ڈپٹی اسپیکر نے کس مواد پر اختیار استعمال کیا، ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کیا اسپیکر کو اختیار ہے کہ وہ ہاؤس میں ایجنڈے سے ہٹ کر کسی facts پر جا سکے، اگر ایسا کوئی مٹیریل موجود ہے؟ ایک آئینی طریقہ ہے جس کو بالکل سائیڈ لائن کر دیا جائے، کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ آپ نے یہ بھی بتانا ہے، فیصلہ کرنے سے پہلے جاننا چاہتے ہیں کہ سازش کیا ہے جس کی بنیاد پر رولنگ دی گئی۔بابر اعوان نے بتایا کہ سفارتکار نے دوسرے ملک کی نیشنل سکیورٹی کونسل کا پیغام تین افراد کو پہنچایا، ایمبیسی کے ذریعے ہیڈ آف مشن، ڈپٹی ہیڈ آف مشن اور دفاع اتاشی کو پیغام دیا گیا، ہمارے سفارتکاروں کی بیرون ملک ملاقات کے بعد سات مارچ کو مراسلہ آیا، ہمارا فارن آفس اس پر نظر ڈالتا ہے۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ فارن پالیسی کا معاملہ ہے، میں چاہتا ہوں کہ یہ بات ایک پولیٹیکل پارٹی کی جانب سے نہ آئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل کا نکتہ بھی صحیح ہے، ہم بھی فارن پالیسی کے معاملات میں نہیں پڑنا چاہتے۔

بابر اعوان نے درخواست کی کہ کیا کچھ باتیں ان کیمرا ہو سکتی ہیں؟ فارن آفس نے جو بریفنگ دی وہ عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ عدالت نے بابر اعوان کی ان کیمرا بریفنگ کی استدعا مسترد کردی۔وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ مراسلے میں چار چیزیں سامنے آئیں، فارن آفس نے مراسلہ دیکھ کر وزیراعظم اور وزیر خارجہ کیساتھ میٹنگ کی، میں بات اشاروں میں بتا رہا ہوں، فلاں فلاں مسئلے پر وہ ملک اس ملک کے پرائم منسٹر سے ناراض ہے، تحریک عدم اعتماد اگر کامیاب نہ ہوئی تو پھر ڈیش ڈیش ہے، اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو پھر سب ٹھیک ہے، آٹھ مارچ کو تحریک عدم اعتماد کو تحریک عدم اعتماد آ جاتی ہے جس کا ذکر کہیں اور سے آیا۔بابر اعوان نے ترجمان پاک فوج کی نجی ٹی وی سے گفتگو بھی عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ترجمان پاک فوج نے کہا قومی سلامتی کمیٹی میٹنگ کے اعلامیہ سے متفق ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کابینہ نے وزارت خارجہ کی بریفنگ پر کیا فیصلہ کیا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کوئی شبہ نہیں ہر شہری کو ریاست کا وفادار ہونا چاہیے، جن پر الزام لگایا گیا ان کیخلاف کیا ایکشن لیا گیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر عمران خان کمیشن بنانا چاہتے ہیں تو مطلب ہوا کہ انہیں معلوم نہیں کون ملوث ہے؟۔ بابر اعوان نے جواب دیا کہ وزیراعظم کو جو علم ہے وہ ملکی مفاد میں بولنا نہیں چاہتے، وزیراعظم تفتیش کار نہیں اس لئے یہ کام متعلقہ لوگوں کو کرنے دیا جائے۔

 

ایوانِ صدر کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے خط بھیج دیاگیا

اسلام آباد(سی ایم لنکس)ایوانِ صدر کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے خط بھیج دیاگیا ہے۔ بدھ کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق خط میں الیکشن کمیشن کو قومی اسمبلی کی تحلیل کے 90 دن کے اندر الیکشن کرانے کیلئے تاریخ دینے کا کہا گیا ہے۔آئین کے آرٹیکل 48 5(A) اور آرٹیکل 224 (2) کے تحت صدر مملکت عام انتخابات کرانے کی تاریخ مقرر کریں گے۔خط میں کیاگیاکہ قومی اسمبلی کے انتخابات کیلئے اسمبلی کی تحلیل کے 90 دن کے اندر اندر انتخابات کرانا ہوتے ہیں۔عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کیلئے الیکشن ایکٹ، 2017 ء کے تحت الیکشن کمیشن سے مشاورت ضروری ہے


شیئر کریں: