Chitral Times

Oct 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ماڈل فارم سروسز سنٹر کا قیام۔۔۔زرعی شعبے میں انقلاب ۔  تحریر: شہزاد ایوب ایگریکلچر افیسر

شیئر کریں:

ماڈل فارم سروسز سنٹر کا قیام۔۔۔زرعی شعبے میں انقلاب ۔  تحریر: شہزاد ایوب ایگریکلچر افیسر

ماضی میں زمینداروں کی فلاح و بہبود اور زراعت کو ترقی دینے کے کے واسطے بہت سے منصوبے اور اسکیمیں متعارف کئے گئے،ئے جن میں ”ماڈل فارم سروسز سنٹر“ بھی محکمہ زراعت کے تحت جاری کیا گیا ایک انتہائی منفرد اور سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ زمینداروں کو زراعت سے متعلقہ تمام سہولیات ایک جگہ پر فراہم کی جائیں (جسے جدید اصطلاح میں ”ون ونڈو آپریشن“ بھی کہا جاتا ہے)؛ زمینداروں اور اداروں کے روابط کو مضبوط کیا جائے؛ زمینداروں کے مسائل محکمہ جات تک پہنچیں اور وسائل کا رخ بے جا منصوبوں کی بجائے زمینداروں کے حقیقی مسائل کے حل کی طرف منتقل ہوں۔ ماڈل فارم میں کچھ ریوالونگ فنڈ بھی ہے جس کے ذریعے زمینداروں کو مصنوعی کھاد اور دیگر ضروریات معیار کو برقرار رکھتے ہوئے مناسب قیمت (جس کا تعین مینیجمنٹ کمیٹی کرتی ہے) پر مہیا کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ماڈل فارم چترال کے پاس کچھ مشینریاں بھی ہیں جن کے ذریعے زمینداروں کو سبسیڈائزد ریٹ پر سروسز مہیا کی جاتی ہیں۔

ماڈل فارم سروسز سنٹر ”ماڈل فارم سروسز سنٹر ایکٹ ۲۰۱۴“ کے تحت محکمہ زراعت، شعبہ توسیع کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے۔ جو زمیندار محکمہ زراعت کے ساتھ ۶۰۰ روپے کے عوض رجسٹریشن کرتے ہیں وہ ماڈل فارم کے رجسٹرڈ ممبر کہلاتے ہیں۔ تمام رجسٹرڈ ممبرز ماڈل فارم کی جنرل باڈی کہلاتی ہے جو ایلیکشن کے ذریعے اپنے لیے نمائندے چنتی ہے۔ جنرل باڈی کی اس نمائندہ جماعت کو مینیجمنٹ کمیٹی کہا جاتا ہے۔ مینیجمنٹ کمیٹی کے تمام ممبران کو ”ایگزیکٹیو باڈی“ کہا جاتا ہے جو کہ تمام رجسٹرڈ ممبران کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہوتی ہے۔ ماڈل فارم سروسز سنٹر ایکٹ ۲۰۱۴ کی شق نمبر ۱۱ میں مذکور ہے کہ سیکریٹیری ایگریکلچر کے تحت جتنے محکمے ہیں وہ سب اس کے پابند ہونگے کہ وہ اپنے تمام ترقیاتی منصوبوں کی تیاری اور اجرا میں مینیجمنٹ کمیٹی کو اعتماد میں لیں تاکہ وسائل حقیقی معنوں میں زمینداروں کے مسائل کے حل میں استعمال ہوں اور ماڈل فارم کی ممکنہ استعانت کرے گی۔

ماڈل فارم کے تحت صرف سال ۲۰۲۱ میں 4000 بوری کیمیاوی کھاد زمینداروں کو مہیا کی گئی، مینیجمنٹ کمیٹی اور محکمہ زراعت نے مشترکہ طور پر چترال کے طول و عرض میں ماڈل فارم کی آفادیت اور زمینداروں کے حقوق و ذمہ داریوں کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی، اور ۲۰۰ کے قریب زمیندار مشینری سے مستفید ہوئے۔ چترال کے محل وقوع کے لحاظ سے ان اعدادو شمار میں یقینا بیت بہتری لائی جاسکتی ہے، اور بہتری لانے کی اشد ضرورت بھی ہے۔ مگر یہ زمیندار برادری کے تعاون، فعال کردار اور منظم ہوئے بغیر ناممکن ہے۔

ماڈل فارم چترال لوئر میں صرف ۲۴۰۰ زمیندار اس ادارے کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جن میں اکثریت فعال نہیں ہیں۔ اپنی ذات میں یہ ایک انتہائی کامیاب سکیم ہے۔ مگر کیا چترال میں یہ کامیاب ہو پائے گی؟ اس کا دارومدار زمینداروں کا اس ادارے میں دلچسپی لینے اور آگے بڑھ کر اس میں فعال کردار ادا کرنے پر منحصر ہے۔ یہاں پر یہ بات بتانا مناسب ہوگا کہ حکومت اب زیادہ سے زیادہ منصوبوں میں وسائل کی تقسیم رجسٹرڈ ممبرز کی تعداد کی بنیاد پر کر رہی ہے۔ مستقبل قریب میں کافی پراجیکٹس جاری ہونے جارہے ہیں جس میں ایک میگا پراجیکٹ بھی شامل ہے، جن میں وسائل کو رجسٹرڈ ممبرز کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا عندیا مل چکا ہے، کیونکہ کسی علاقے میں زمینداروں کی زمینداری سے دلچسپی کو ماپنے کے لیے حکومت کے پاس اہم ذریعہ رجسٹرڈ ممبرز کی تعداد ہے۔ لہذا چترال کے تمام کاشتکار بھائیوں سے گذارش ہے کہ اپنے رجسٹریشن کے ذریعے اس ادارے کا باقاعدہ حصہ بنیں اور اس میں اپنا فعال کردار ادا کرکے اس کو کامیاب بنایئں۔ اس کے علاوہ جو ممبرز پہلے سے رجسٹرڈ ہیں وہ محکمہ زراعت کے ساتھ اپنا ریکارڈ ایک دفعہ درست ضرور کرلیں۔ چترال میں زراعت کے حوالے سے جو استعداد موجود ہے وہ پوری دنیا جانتyی ہے مگر اس کو بروئے کار لانے کے لیے اور حکومتی وسائل کو بھرپور استعمال کرنے کے لیے زمینددار برادری کو خود حرکت میں آنا ہوگا، اپنی برادری کو منظم کرنا ہوگا اور اداروں کو بھی حرکت میں لانا ہوگا


شیئر کریں: