Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صدرپاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے وفاقی کابینہ تحلیل کردی‘عمران خان کام جاری رکھیں گے

Posted on
شیئر کریں:

صدرپاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے وفاقی کابینہ تحلیل کردی‘عمران خان کام جاری رکھیں گے

اسلام آباد( چترال ٹایمزرپورٹ)قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کو رولنگ مسترد کرنے کے بعد اسمبلی میں اپوزیشن نے احتجاج کیا جس کے بعد عمران خان اچانک سرکاری ٹیلی ویڑن پر نموار ہوئے اور انہوں نے مختصرخطاب کے بعد بتایا کہ انہوں نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے ایڈوائس صدر مملکت کو بجھوادی ہے.صدارتی حکم نامے کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ تحلیل کردی گئی ہے جبکہ صدر مملکت نے عمران خان کو عبوری حکومت قائم ہونے تک کام جاری رکھنے کا کہہ دیا ہے. ادھر سابق وزیرمملکت فرح حبیب نے ٹوئٹرپر بتایا ہے کہ 90دن کے اندر نئے انتخابات ہونگے.ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کا ایک مقصد غیرملکی مراسلے کو ریکارڈ کا حصہ بنانا تھا اسی لیے حکمت عملی کے تحت فواد چوہدری نے ایوان میں انتہائی نپے تلے اندازمیں خطاب کرتے ہوئے دھمکی آمیزمراسلے سے ایوان کو آگاہ کیا قانون کے مطابق قومی اسمبلی کے فلور پر کہی بات پر قانونی گرفت نہیں ہوسکتی لہذا تحریک انصاف نے حکمت عملی بنائی جس کے تحت وزیرقانون فواد چوہدری نے مبینہ غیرملکی سازش سے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا.آئینی وقانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری نے مراسلے کے مندرجات سے آگاہ کیا اور اگر حزب اختلاف سپیکر کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جاتی ہے تو عمران خان کے لیے انتہائی آسان ہوگا کہ وہ دھمکی آمیزمراسلے کو عدالت میں پیش کردیا جائے گا جو کسی صورت بھی اپوزیشن کے حق میں نہیں ہوگا.

 

اپوزیشن کو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی ہے اْن کیساتھ ہوا کیا ہے، وزیراعظم

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی ہے اْن کیساتھ ہوا کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی ہے اْن کیساتھ ہوا کیا ہے، کل شام کو آپ کے پاس آیا تو مجھے آپ لوگوں کو کہنا پڑا گھبرانا نہیں ہے، یہ آپ کو کل نہیں بتا سکتا تھا، ورنہ اپوزیشن آج اتنی شاکڈ نہ ہوتی۔عمران خان نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تھی جس میں آرمی چیف سمیت تمام سروسز چیفس موجود تھے، جو پیغام ہمارے سفیر کو دیا گیا تھا وہ سلامتی کی میٹنگ میں زیر بحث آیا، پاکستانی سفیر کی امریکی اہلکار ڈونلڈ لو یا جو بھی اس کا نام تھا سے ملاقات ہوئی، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے واضح طور پر کہا لیٹر اور عدم اعتماد میں بیرونی سازش ہے۔انہوں نے کہا کہ تصدیق کی گئی کہ باہر سازش بنی اور پاکستان میں مداخلت کی گئی، لیکن اپوزیشن نے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے کو اہمیت ہی نہیں دی، ملک کی اعلیٰ ترین باڈی جب یہ کنفرم کر دیتی ہے تو پھر عدم اعتماد اور نمبر کا کوئی مقصد ہی نہیں رہتا۔وزیراعظم نے کہا کہ عدم اعتماد بیرونی سازش تھی، جس میں حکومت تبدیلی کی کوشش کی گئی، ہمیں چھوڑنے والے منحرف ارکان سے سفارتخانے کے لوگ مل رہے تھے، سفارتی اہلکار ملک کے سربراہوں سے ملتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ملنے کا کیا مقصد تھا۔

 

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی قرارداد مسترد کردی

اسلام آباد( چترال ٹایمز رپورٹ) تحریک عدم اعتماد کیخلاف رولنگ دیتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد مسترد کردی۔تفصیلات کے مطابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے اپنی رولنگ میں کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک آئین کی رو کے منافی ہے۔قبل ازیں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون فواد چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 7 مارچ کو ایک میٹنگ ہوتی ہے اور اس کے ایک روز بعد 8 مارچ کو وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی ہے جب کہ ہمارے سفیر کو 7 مارچ کو ایک میٹنگ میں طلب کیا جاتا ہے، اس میں دوسرے ممالک کے حکام بھی بیٹھتے ہیں، اس میں ہمار ے سفیر کو بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جاری ہے، اس وقت تک پاکستان میں بھی کسی کو پتہ نہیں تھا کہ تحریک عدم اعتماد آ رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے سفیر کو بتایا جاتا ہے کہ پاکستان سے ہمارے تعلقات کا دارومدار اس عدم اعتماد کی کامیابی پر ہے، اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو آپ کو معاف کر دیا جائے گا لیکن اگر اعتماد کامیاب نہیں ہوتی تو آپ کا اگلا راستہ بہت سخت ہو گا، یہ غیر ملکی حکومت کی جانب سے حکومت کی تبدیلی کی بہت ہی متاثر کوشش ہے، بدقسمتی سے اس کے ساتھ ہی اتحادیوں اور ہمارے 22 لوگوں کا ضمیر جاگ جاتا ہے اور معاملات یہاں تک آ پہنچتے ہیں۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی اجلاس سے متعلق اہم دستاویزات پہنچائی گئیں، قومی اسمبلی میں آج کے اہم اجلاس سے متعلق اہم دستاویزات پہنچائی گئی ہیں، اس موقع پر سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے، دستاویزات بنڈل کی شکل میں اسمبلی لائی گئیں، جس میں آج کی کارروائی سے متعلق نکات درج تھے۔گذشتہ روز وزیراعظم نے انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ہمارے جو لوگ بھاگ گئے ہیں اگر یہ آجائیں تو ہم حکومت نہیں چلا سکتے، بے شک ہمیں اکثریت مل بھی جائے، اگر ہم عدم اعتماد میں کامیاب ہوجاتے ہیں توپاکستان کیلئے اچھا ہوگا ہم الیکشن میں چلے جائیں اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا،یہ پلندا اکٹھا ہوکر حکومت کیسے چلائیں گے؟فضل الرحمان کو صدر،شہباز شریف وزیراعظم اور مریم، بلاول کوبھی کچھ بنادیں گے، یہ ملک کیسے چلے گا، بندربانٹ ہورہی ہے۔

 

 

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع

اسلام آباد(سی ایم لنکس)قومی اسمبلی میں حزب اختلاف نے وزیراعظم عمران خان کے بعد اب اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کروادی گئی ہے. اپوزیشن کی جانب سے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کا یہ اقدام آج اس وقت اٹھایا گیا کہ جب کچھ ہی دیر بعد وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونی ہے.تحریک مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی کی جانب سے جمع کرائی گئی اپوزیشن کی جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پر 100 سے زائد اراکین قومی اسمبلی کے دستخط موجود ہیں.مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد تیار ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ اسپیکر اسد قیصر کے خلاف تحریک جمع نہ کرواتے تو اپوزیشن کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے تھے، تحریک جمع ہونے کے بعد اب اجلاس 7 روز تک ملتوی نہیں کیا جا سکتا.ادھر ماہرین کا کہنا ہے رولزآفس بزنس کے تحت چونکہ سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایسے وقت میں جمع کروائی گئی ہے جس وقت قومی اسمبلی میں آج وزیراعظم کے خلاف عدم اعتمادتحریک پر ووٹنگ ہونے جارہی ہے اس لیے سپیکر کے خلاف عدم اعتماد پر آج بحث نہیں ہوسکے گی. ان کا کہنا ہے کہ ایجنڈے میں سپیکر کے خلاف تحریک موجود نہیں ہے اگر رائے شماری ہوئی تو وزیر اعظم سے پہلے سپیکر کے خلاف عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی مگر سپیکر کی صوابدید ہے اور اگر سپیکر کے خلاف عدم اعتماد سے فرق نہیں پڑے گا جب تک معاملہ ایجنڈے پر نہیں آجاتا دوسری صورت میں ڈپٹی سپیکر موجود ہیں وہ معاملات کو دیکھیں گے۔


شیئر کریں: