Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

موبائل فوبیا کی وجوہات اور تدارک – پروفیسرعبدالشکورشاہ

Posted on
شیئر کریں:

موبائل فوبیا کی وجوہات اور تدارک – پروفیسرعبدالشکورشاہ

نوموفوبیا کی اصطلاح موبائل فون سے دور رہنے کے خوف کے لیے استعمال ہو تی ہے۔ دنیا میں پہلا آئی فون 2007میں استعمال ہوا اور تب سے اس کا استعمال مسلسل بڑھتا چلا جا رہا ہے۔اب تو سمارٹ فون ہماری زندگی کا لازمی جز بن چکا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے ہم اپنے جوتے پہنے بغیر جانے کا تصور کر سکتے ہیں مگر اپنے سمارٹ فون کے بغیر جانا بہت مشکل کام ہے۔ نوموفوبیا کی لت نے ہماری زندگیوں کو مشکل میں مبتلا کر رکھا ہے۔ 2022میں تو ہم موبائل فون کے ساتھ کچھ یوں چپک چکے ہیں اگر ہم اس سے جان چھڑانا بھی چاہیں تو یہ ہماری جان چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ نوموفوبیا کی لت کی وجہ سے ہم بے شمارمسائل و مصائب کا شکار ہو چکے ہیں۔ بے خوابی، پریشانی، بے چینی، دباو، تناو، اداسی، چڑچڑاپن، جذباتیت اور بے سکونی نے ہمیں گھیر رکھا ہے۔ اس وقت دنیا کی 66%آبادی نوموفوبیا کا شکار ہے۔ تناسب کے لحاظ سے ایک فرد دن میں تقریبا 3گھنٹے موبائل فون استعمال کرتا ہے۔ موبائل فون استعمال کرنے والے دن میں تقریبا2,617بارکلک، ٹیب یا سوائپ کر تے ہیں۔50%سے زیادہ افراد اگراپنا موبائل فون گھر بھول جائیں تو وہ بے چینی محسوس کر تے ہیں۔

کاروں کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں سے 26%حادثات دوران ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ موبائل فون کی اس لت سے نکلنے کے لیے58%لوگ کوشش کر رہے ہیں تاہم ان میں سے محض41%ہی کسی حد تک موبائل فون کے استعمال کو کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ 87%موبائل فون استعمال کنندگان سونے اور جاگنے سے پہلے اور بعد میں اپنے موبائل فون چیک کر تے ہیں۔ 69%افراد جاگنے کے پہلے 5منٹ میں اپنا موبائل فون چیک کرتے ہیں۔ عام افراد میں سے 40%جبکہ18-34سال عمر کے60% موبائل فون کی غیر ضروری لت میں مبتلا ہیں۔ ایک تناسب سے ایک فرد موجودہ تخمینے کے مطابق اپنی زندگی کے 6سال سمارٹ فون پر ہی گزار دے گا۔ روزانہ 5گھنٹے سے زیادہ وقت سمارٹ فون پر گزارنے والے نوجوانوں میں خودکشی اور جرائم کا رجحان 71%تک بڑھ چکا ہے۔47%والدین جبکہ67%اساتذہ اس بات پر متفق ہیں کے بچے سمارٹ فون کی خطرناک لت کا شکار ہو چکے ہیں اور یہ ان کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ 22%طلبہ ہر منٹ بعد اپنے موبائل فون کو چیک کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

نوجوان لڑکے اور لڑکیاں روزانہ تقریبا ایک گھنٹہ اپنے موبائل فون کو تنہائی میں استعمال کر تے ہیں جبکہ 33%سمارٹ فون کو دوستوں کے ساتھ رابطے کے لیے استعمال کر تے ہیں۔52%جوان لڑکے اور لڑکیاں کافی دیر تک خاموشی سے اپنے موبائل کے ساتھ چپکے رہنے کے عادی ہیں۔ اوسطا ایک سمارٹ فون استعمال کرنے والا دن میں 150بار فون لاک اور ان لاک کر تا ہے۔50%سے زیادہ سمارٹ فون استعمال کرنے والے کبھی بھی اپنا فون بند نہیں کرتے 70%سمارٹ فون استعمال کرنے والے اپنے سمارٹ فون اپنے پاس رکھ کر سونے کے عادی ہیں۔ 40%نوجوان واش روم میں بھی اپنا موبائل استعمال کر تے ہیں۔ دوستوں یا رشتہ داروں کے ساتھ ایک فرد اوسطا دن میں تقریبا63بار اپنا موبائل چیک کرتا ہے۔ 86%افراد اپنے خاندان یا دوستوں کے ساتھ موجودگی میں موبائل فون کو بار بار نکال کر دیکھتے ہیں۔ سال 2020میں کوووڈ19کے سبب موبائل فونز کے استعمال میں بڑی تیزی دیکھنے کو ملی۔ نوموفوبیا کی اس لت سے بچنا بہت ضروری ہے۔

ہم اپنے سمارٹ فون استعمال کے وقت کے دورانیے کو کم کرنے کی کوشش کر کے اس سے جان چھڑا سکتے ہیں۔ ایسے ایپس موجود ہیں جو آپ کے روزانہ کے سمارٹ فون کے استعمال کو محدود کرنے میں مدددیتے ہیں۔ہم اپنے موبائل فونز پر سمارٹ فون نہ استعمال کرنے والے اوقات کا الارم لگا کر اس سے بچ سکتے ہیں۔ ہم اس کی سکرین ٹائمینگ کم کرسکتے ہیں، ہم اسے فلائٹ موڈ پر لگا سکتے ہیں۔ ہم اس کی کلر سیٹنگ کو بلیک اور وائیٹ میں تبدیل کر کے اس لت سے بچ سکتے ہیں۔ اپنے گھر، دفتر، سکول، کالجز وغیر ہ میں ایک نو موبائل زون بنا دیا جائے جہاں پر موبائل کا استعمال ہر گز نہ کیا جائے۔ موبائل نے ہمیں اپنے خاندان سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ ہم جسمانی طور پرموجود ہو نے کے باوجود اپنے بہن بھائیوں ماں باپ بیوی بچوں اور دیگر قریبی عزیزوں سے کٹ کر روبوٹس والی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔مائنڈ کنٹرولنگ تکنیک کے زریعے ہم سکرولنگ کو کم کر سکتے ہیں۔ اپنے سمارٹ فون کے استعمال کے اوقات کار مقرر کرنے کے بعد ان پر سختی سے عمل کرنے کی کوشش کریں۔ سمارٹ فون کی لت کی ایک بڑی وجہ ان کا ضرورت کے بجائے عادتا استعمال ہے۔ اس کا حل بھی بہت آسان ہے۔ ہم ان تمام ایپس کو ان انسٹالڈ کر دیں جو ہمارے روز مرہ استعمال میں نہیں آتے اور تمام غیر ضروری پلیٹ فارمز کے نوٹیفیکیشنز کو بند کر دیں۔

کم از کم کھانے پینے، فیملی کے ساتھ،بیڈ رومز میں سمارٹ فون کے استعمال کی عادت کو ختم کر دیں۔ یہ بھی ایک غور طلب بات ہے کہ آیا لوگ ان سمارٹ فونز کے ساتھ کیوں چپک گئے ہیں جبکہ ریڈیو ٹی وی اور دیگر ڈیوائیسس کے ساتھ تو معاملہ یکسر مختلف ہے۔ اس کی یقنیا بہت سی وجوہات ہیں۔ موجودہ پریشان کن دنیا میں لوگ حقیقت سے بچنے کے لیے، سماجی عدم تحفظ، دباؤ، بے چینی، لالچ، عزت نفس کی کمی اور شناخت کے احساس کی کمی کی وجہ سے ان سمارٹ فونز کا سہارا  لیتے ہیں۔عملی زندگی میں عدم برداشت، تعریف اور حوصلہ افزائی کی کمی، سماجی روابط میں کمی اور دوری، دوسروں کی جانب سے توجہ اور پسند وغیرہ کی کمی کی وجہ سے بھی ہم سمارٹ فون کی لت کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہمیں ٹیکنالوجی کو صحت مند انداز میں استعمال کرنا ہے اسے اپنے لیے مصبیت نہیں بنانا۔ شخصی اور انفرادی آزادی جو ہمیں عملی زندگی میں دیکھنے میں بہت کم ملتی ہے وہ ہمیں سمارٹ فونز میں مختلف گیمز کے زریعے دستیاب ہے۔ آن لائن زندگی آف لائن زندگی سے یکسر مختلف ہے جہاں ہمیں کافی حد تک آزادی اور چوائس موجود ہوتی ہے۔ جب ہماری معاشرتی اور سماجی ضروریات پوری نہیں ہوتی تو ہم ان کی تکمیل کے لیے سمارٹ فونز کے زریعے آن لائن پوری کرنے کی کوشش کر تے ہیں۔ سمارٹ فونز کی لت کی وجہ سے ہم بہت سے مصائب کا شکار ہوچکے ہیں۔

ہمارا حافظہ، ہماری توجہ، ہماری مہارتیں اورہمارے غلط فیصلوں کے زریعے سامنا کر رہے ہیں۔ کوشش کریں موبائل کے غیر ضروری استعمال کے اوقات کار میں کوئی متبادل سرگرمی اختیار کی جائے تاکہ سمارٹ فونز کی لت سے جان چھڑائی جا سکے۔ بجائے ایک جگہ بیٹھنے کے چلیں پھریں، فیملی یا دوستوں کو وقت دیں، کوئی جسمانی سرگرمی کاتعین کر لیں۔ کم از کم دن میں 30منٹ کی فون بریک لینے کی عادت اپنائیں۔ کوئی ایسا وقت یا جگہ جہاں پر آپ موبائل فون کے استعمال سے بچ نہیں سکتے اس جگہ اور وقت تبدیل کرنے کی کوشش کریں اس کے سیاق و سباق کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے ڈیٹا لمٹ کو محدود رکھا جائے تاکہ غیر ضروری انٹر نیٹ دستیابی کی وجہ سے سمارٹ فونز کا غیر ضروری استعمال کم کیا جا سکتے۔

 


شیئر کریں: