Chitral Times

Oct 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھڑکنوں کی زبان – “پر امن ‘ کامیاب الیکشن کے پیچھے کس کا کردار ہے “۔محمد جاوید حیات

Posted on
شیئر کریں:

دھڑکنوں کی زبان – “پر امن ‘ کامیاب الیکشن کے پیچھے کس کا کردار ہے “۔محمد جاوید حیات

جب سے پاکستان بنا ہے اس ملک میں الیکشن ہوتے رہے ہیں اس کے لۓ الگ محکمہ الیکشن کمیشن کے نام سے موجود ہے ۔وہ انتظامات کرتا ہے لیکن اس کھٹن اور مشکل ترین عمل کو کامیاب بنانے والے اور بھی ہیں اس میں انتظامیہ’ پولیس ‘ فوج اساتذہ دوسرے محکے کے لوگ صحافی سب شامل ہیں ۔ہمارے ہاں الیکشن بہت ٹنشن لاتا ہے عوام بے شعور ہیں نمایندے ہر حربہ استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے ان کے ذہنوں میں بس کامیابی معیارہے صاف شفاف مفروضے ہیں ۔کھوکلے نعروں سے ایک بے چینی کی فضا پیدا کی جاتی ہے۔ انا کا مسلہ منایا جاتاہے۔اگر انتخابات میں معیار پیدا کیا جاۓ تو یہ ٹنشن کسی حد تک دور ہو سکتی ہے ۔مثلا نمایندہ کے لۓ تعلیم معیار رکھا جاۓ ۔فیس بڑھایا جاۓ کم از کم کوٸی اہل بندہ سامنے أجاۓ گا جس کی کامیابی کے لۓ جد و جہد بھی ایک لحاظ معنی رکھتا ہو ۔

ایسا نہیں ہوتا ۔ہر ایک نمایندہ بن کر میدان میں اترتا ہے ہر کوٸی الیکشن لڑنے کا جنون رکھتا ہے تب قربتیں بڑھتی ہیں اور ایک ہلاگلا ہوتا ہے ۔حالیہ بلدیاتی انتخابات بھی ایسے پیچیدہ عمل سے گزرے لیکن بہت پر امن رہے جو اس عمل کا حصہ تھے ان کو پتہ ہے کہ انتخابات کے انعقاد میں کتنی محنت کرنی پڑی ۔ضلعی انتظامیہ پولیس محکمہ تعلیم کے دفاتر ایک مہینے تک کھلے رہے اور ان محکموں کا عملہ دن رات کام کرتا رہا ۔الیکشن کے لیۓ مواد لانا’ پولینگ سٹیشنوں کا انتخاب’ انتخابی فہرست’ انتخابی عملے کی تربیت کے لیے ماسٹر ٹرینروں کی تربیت پھر ان سے الیکشن عملے کی تربیت کرانا پھر الیکشن سے دو دن پہلے سامان اور عملہ پولنگ سٹیشنوں تک پہنچانا وہاں پر عملہ کی محنت ساری رات جاگنا بغیر کچھ کھاۓ پیے وقت گزارنا پولیس کی ساری رات سکیورٹی دینا ریٹرننگ أفسروں کا مسلسل رابطے میں رہنا پل پل کی خبر لینا اور مساٸل حل کرنایہ بظاہر ناممکن کام ہیں ان کو ممکن بنانا کسی معجزے سے کم نہیں لیکن ممکن بنایا گیا بنایا جاتا رہا ہے ۔اس الیکشن میں بھی یہ معجزہ دکھایا گیا اورآخر عملے کے ہاتھوں میں 4500روپے تھما کر ان کورخصت کیا گیا ۔زمہ دار قوم یا حکومت یا کسی کم از کم جیتے ہوۓ نمایندے نے سوشٸل میڈیامیں بھی شکریے کے دو لفظ نہ لکھے کہ بڑا کام احسن طریقے سے انجام پایا ۔میں اپر چترال کے ایک دور سٹیشن میں تھا ۔میرا عملہ جاگتا رہا میری پولیس میرے ساتھ مستعد رہی بلکہ پولیس کانسٹبل منور جو 22 سال کا جوان رغنا تھا

صبح سویرے سب سےپہلے میرےجوتے پالش کرتا افرین ہے چترال پولیس کی تربیت پر ۔۔پولس حوالدار ایک شریف ترین انسان تھے قربان نظر بیگ جیسی شخصیت چترال پولیس کی شان ہوگی ۔میرا عملہ’ گاوں کے لوگ جھنوں نے بڑے اچھے کردار کا مظاہرہ کیا ڈرائیور مجیب جو میرے ساتھ ڈیوٹی پر تھا ایک زمہ دار انسان تھا ۔سب کہنے کا مطلب ہے یہ کہ اس مشکل کام کو آسان بنانے میں ان سب کا کردار ہے ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں بیٹھے عملے کی شرافت دیدینی تھی الیکشن کے سامان تقسیم کرتے وقت اور وصول کرتے وقت وہ جس شرافت کا مظاہرہ کر رہے تھے اس کی مثال نہیں ملتی ۔میرے سٹیشن تریج پائین کے لوگوں نے امن کی مثال قائم کی ہمارے ساتھ بھر پور تعاون کیا ۔مجھے یہ سب اچھا لگا دو دن مسلسل محنت کے بعد تھکن محسوس نہیں ہوٸی۔

صبح نو بجے تھے کہ ٹی ایم او شفیق کے دفتر بونی پہنچے انھوں نے مجھے بیٹھایا اور اس کے عملے نے خود میرے سامان اٹھا کر جمع کیا مجھے اچھا لگا میں نے Ac صاحب سے چند منٹ مانگے کہ مذید مجھے معلومات فراہم کرے تاکہ میں اور بھی کارکردگیاں گنوا سکوں اور ان کی شاندار خدمات لوگوں تک پہنچا سکوں تاکہ عوام ان پہ فخر کرے ۔۔لیکن Ac صاحب کے پاس وقت نہیں تھا ۔۔بڑے لوگوں کے پاس چھوٹوں کو دینے کے لۓ صرف وقت ہوتا ہے اور چھوٹوں کے پاس بڑوں کو دینے کے لۓ احترام عزت اور دعا کے علاوہ نیک خوہشات ہوتی ہیں ۔وہ چھوٹے خوش قسمت ہیں جن کے حصے میں بڑوں کا کوٸی پانچ منٹ آۓ ۔میں Ac صاحب کے آفس میں چند منٹ بیٹھا رہا پھر باہر نکلا ۔۔کاش رب نواز صاحب کے پانچ منٹ میرے حصے میں آتے ۔۔۔مجھے اس سارے عمل میں سرگرم لوگوں پر فخر ہے ۔جیتنے والے نمایندوں کو تہنیت اور ہارنے والوں کو حوصلے کی نصیحت ہے ۔۔کیونکہ زندگی جد و جہد کا نام ہے اس لۓ اس کی منزل جیت نہیں ہار ہے ۔۔۔۔

 


شیئر کریں: