Chitral Times

Oct 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مکتب تعلیم القرآن کے تجویدی حلقے کی اہمیت – تحریر :محمد نفیس دانش

Posted on
شیئر کریں:

مکتب تعلیم القرآن کے تجویدی حلقے کی اہمیت – تحریر :محمد نفیس دانش ۔ شیخوپورہ

کراچی علم اور تہذیب کا گہوارہ ہے. عمل اور جدوجہد کا اس شہر میں الھلال سوسائٹی بالمقابل عسکری پارک میں مستقل تجویدی حلقہ کا انعقاد یقیناً ہماری قرآنی اور فکری صحت کے لیے ایک خوشگوار جھونکا ہے، جس پر میں تمام شرکاء منتظمین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں!
علم تجوید کی عمل تجوید کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کے لیے پاکستان کے ہر کونے سے علماء کرام اور قراء کرام اپنے پیاس بجھانے کے لیے یہاں کا رخ کر رہے ہیں اور پورا سال علماء کرام کا سینکڑوں کے حساب سے تانا بانا لگا رہتا ہے۔اس کورس کا نام ہی “نورانی قاعدہ اور قرآن کریم ایک مرتبہ اچھے مقری کو سنانا ہے”
ایک عالم دین جب رسمی طور پر اپنی تعلیم مکمل کر کے عملی میدان میں کام کر رہا ہوں اور پھر یہاں جب عملی تجوید کے لیے آئے اور اس کے ہاتھ میں بخاری شریف کی بجائے نورانی قاعدہ تھما دیا جائے اور
 “ا، ب،ت،ث………ی اور ے” سے مشق شروع کروا دی جائے تو یقیناً یہ صرف مشکل ہی نہیں بہت ہی زیادہ مشکل ہے اور پھر پہلی تختی پر پورے کا پورا ہفتہ لگا دیا جائے یہ تو اونٹ کو رکشے میں بٹھانے کے مترادف ہو جاتا ہے لیکن حقیقت میں یہی وہ مشق ہے جو سونے کو کندھن بنا رہی ہوتی ہے.
حضور سونا تو ہے بس اسے
آزمائش کی بھٹی سےکندھن بنا دیجئے
 مکتب تعلیم القرآن کراچی کے مرکز میں قاری لقمان صاحب تجوید کا حلقہ لیتے ہیں اور ان کے ساتھ معاون اساتذہ کرام میں سے مولانا فضل الرحمن صاحب، مولانا دانیال صاحب اور مولانا امتیاز صاحب ہیں. قاری لقمان صاحب جوان ہیں باکردار، بااخلاق، با صلاحیت اور تقویٰ اور خشیت کی وجہ سے بارعب شخصیت ہیں جب تک ان سے مناسبت پیدا نہ ہو اس وقت تک ان کو سبق سنانے کے لیے ڈر ہی لگا رہتا ہے کیونکہ میرے ساتھ ایسا معاملہ ہوا ہے اس لیے یہ الفاظ استعمال کر رہا ہوں لیکن قاری صاحب کی درست ادائیگی، لہجہ، مشق، اخلاق، اخلاص اور آواز کی کشش انسان کو ان کی غلامی پر مجبور کردیتی ہے یہی وجہ ہے کہ بڑی بڑی عمر کے حضرات بھی ان کے سامنے دو زانو ہو کر اپنے قرآن کی درستگی کروانے کو فخر سمجھ رہے ہوتے ہیں.
میں بھی اسی سلسلہ میں شعبان کے مہینے میں ایک ماہ کے لیے آیا ہوں. الحمد للہ ابھی نورانی قاعدہ مکمل ہونے والا ہے۔یہاں سب سے بڑا فائدہ مجھے یہ ہوا کہ علم تجوید کی عمل تجوید کے ساتھ کچھ نا کچھ مطابقت پیدا ہو گئی ہے اور اب غلطیوں کی نشاندہی تو کر سکتا ہوں لیکن تصحیح کروانے کا ابھی ملکہ پیدا نہیں ہوا.
میں ابھی قرآن مجید کی درست ادائیگی کے ساتھ تلاوت تکلف کے ساتھ کر رہا ہوں لیکن یہ تکلف سے ہٹ کر پڑھنا اس وقت ممکن ہو سکتا ہے جب میں اس کی بار بار مشق کروں گا اور پورا قرآن ایک اچھے قاری کو سناؤں گا۔چنانچہ ہماری اس اجتماعی کمزوری کو دور کرنے کے لیے مکتب والوں نے ہر سال ایک ماہ کے لیے قرآنی مشق کے لیے ہمیں کراچی بلاتے ہیں اور پرسکون ماحول، اچھی رہائش، بہترین کھانے اور سب سے بڑھ کر ہماری شخصیت سازی اور تربیت کا وسیع انتظام کرتے ہیں۔میرا ارادہ نہیں بلکہ عزم ہے کہ میں ہر سال کراچی میں ایک ماہ کے لیے قاری صاحب کے تجویدی حلقہ میں شریک ہو کر پورا قرآن سبقا سبقا قاری لقمان صاحب کو سناؤں گا ان شاء اللہ۔
تجویدی حلقہ کا ماحول 
یہاں ماحول بھی ایسا ہے کہ ہر مزاج اور طبیعت کے مناسب ہے کیونکہ انسان کی ذہنی تشکیل اورشخصیت کی تعمیر میں ماحول کا بڑا حصہ ہے ، انسان کو اگر اچھا ماحول اور موافق گردوپیش میسر آجائے تو اس کی شخصیت بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کرتی ہے ، بہتر ماحول علم وعمل کی کمی کی بھی تلافی کر دیتا ہے ، یعنی علم وعمل میں انسان نسبتاً کمزور ہو ، لیکن اسے موافق ماحول اور اچھی صحبت مل جائے تو علم وعمل کی کمی کے باوجود وہ اپنا مقام بنا لیتا ہے۔
 تجویدی حلقہ کے شرکاء کے چند تاثرات :
مولانا بلال صاحب۔مانسہرہ 
الحمداللہ مکتب تعلیم القرآن کے تجویدی حلقہ میں، میں تیسری مرتبہ شریک ہوا ہوں۔پہلے میں نے قاعدہ مکمل کیا اور اپنے علاقے میں جاکر تجویدی حلقہ کا آغاز کیا اور اساتذہ کرام اور معلمات پر صحیح ادائیگی کے حوالہ سے محنت کی جس میں مستقل 30 اساتذہ کرام اور 20 معلمات نے قاعدہ مکمل کیا اور اسی طرح مدرسہ تعلیم القرآن کے تمام درجات یعنی اولی سے سادسہ تک تجوید کی عملی مشق کا ایک گھنٹہ خاص کیا جس میں تقریبا 80 طلبا شریک ہیں اور اپنی ادائیگی پر محنت کر رہے ہیں، صبح فجر کے بعد عوامی حلقہ لگتا ہے جس میں محلے کے لوگ شریک ہوتے ہیں. ادائیگی کا جو صحیح معیار ہے اس میں ابھی بھی تشنگی باقی تھی جس وجہ سے میں دوسری اور پھر تیسری مرتبہ یہاں تشریف لایا تو یہ احساس پیدا ہوا کہ جب تک جسم میں روح ہے اس وقت تک ہر سال ایک مرتبہ اپنی ادائیگی کی اصلاح کے لیے تجویدی حلقہ میں شرکت واجب کروں گا ان شاء اللہ!
مولانا سبحان علی۔صوابی 
ہم اچھے لہجہ میں تلاوت تو کرتے تھے لیکن ہمیں یہ پتا نہیں چلتا تھا کہ اس حرف کا مخرج اصلی کیا ہے اور اس کی صحیح ادائیگی کس طرح ہوگی.؟ تجویدی حلقہ میں شریک ہوا تو قاری لقمان صاحب نے ہماری غلطیوں کی نشاندہی کی. گزشتہ سال قاعدہ مکمل کر کے اپنے علاقے میں تجوید کا حلقہ لگایا جس سے بہت لوگ مستفید ہوئے ۔ابھی کراچی میں دوبارہ آیا ہوں اور یوں محسوس ہو رہا ہے کہ مجھے تو سورۃ الفاتحہ بھی صحیح طرح نہیں آتی تھی اور دل ہی دل میں شرمندہ بھی ہوں کہ اس کی طرف ہماری پہلے کسی نے رہنمائی کیوں نہیں کی..؟ اپنی غلطیوں کا احساس ہونے کے بعد اب ان کے لیے محنت شروع کی ہوئی ہے۔
مولانا محمد عاقل ۔ملتان 
میں تجویدی حلقہ میں پہلی مرتبہ آیا ہوں اور ذہن میں بہت بڑا بھوت سوار تھا کہ “ہم چوں ما دیگرے نیست” لیکن یہاں تو پہلے دن ہی تعوذ اور تسمیہ میں 20 غلطیاں آ گئیں جس پر مجھے بہت شرمندگی ہوئی۔مخارج اور صفات کے ساتھ ادائیگی سکھانے کا انداز بہت نرالا ہے
مولانا عمیر ۔لاہور 
درس نظامی کے دوران تجوید کی کتابیں جمال القرآن، فوائد مکیہ تیسیرالتجوید وغیرہ پڑھی تھیں لیکن وقت کی قلت کی وجہ سے عملی مشق میں کمزوری رہ گئی تھی جو یہاں شرکت کے باعث الحمد للہ وہ کمی دور ہو گئی ۔ الفاظ کی رعایت اور صفات کا خیال کیسے رکھنا ہے اور صحیح ادائیگی کیسے ممکن ہے یہاں عملی مشق سے معلوم ہوا ۔
مولانا مقصود۔حیدرآباد
فن تجوید میں سبقا سبقا کافی کتابیں پڑھی ہیں لیکن عمل تجوید اور مشق میں بہت کمزوری رہ گئی تھی اب اسی کمزوری کو دور کرنے کے لیے مکتب کے تجویدی حلقہ میں شرکت کی ہے، جس نے بہت زیادہ متاثر کیا ہے ۔
یہ چند علماء کرام کے کچھ تاثرات ہیں جن کو بیان کیا گیا ہے.
قاری نذیر صاحب کا حلقہ 
جمعہ والے دن عصر کی نماز کے بعد سے عشا تک قاری لقمان صاحب کے عظیم استاد قاری نذیر صاحب بھی تجوید کا حلقہ لینے کے لیے یہاں تشریف لاتے ہیں۔اس ماہ وہ پنجاب کے دورہ پر تھے جس وجہ سے میری موجودگی میں وہ ایک مرتبہ تشریف لائے۔ ہم سے تعوذ اور تسمیہ سننے کے بعد ہمیں سورۃ الفاتحہ کی مشق کرواتے ہوئے تجوید کی ممکنہ غلطیوں کی نشاندہی بھی کرواتے رہے اور یوں 25 منٹ میں ایک سورت کی مشق کروائی. اگرچہ قاری نذیر صاحب ہمارے استاد محترم قاری لقمان صاحب کے استاد ہیں لیکن دونوں حضرات کے تدریسی انداز اور روک ٹوک کے مزاج میں بہت زیادہ مطابقت ہے استاد اور شاگرد کا فرق محسوس ہوتا ہی نہیں البتہ استاد بزرگ ہیں اور داڑھی بھی سفید ہو چکی ہے لیکن شاگرد ابھی جوان ہے. مزاج اور انداز میں مطابقت اسی وقت ممکن ہو سکتی ہے جب استاد کی خاص توجہ شاگرد پر ہو اور پھر شیخ کا فیض بھی مرید کی طرف منتقل ہو جاتا ہے یقیناً اسی وقت شیخ کا فیض بھی مرید کی طرف منتقل ہو جاتا ہے. قاری نذیر مالکی صاحب کی قرآن سے محبت اس قدر ہے کہ اس اڈھیر عمر میں بھی ماشااللہ سننے سنانے اور مخلتف تجویدی حلقوں کے اندر اپنے آپ کو مصروف رکھ کر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ
میں قرآں پڑھ چکا تو اپنی صورت ہی نہ پہچانی
میرے ایمان کی ضد ہے مرا طرز مسلمانی
دنيا كى خرافات ميں مغرور ہوئے ہیں
ہم لوگ تلاوت سے بہت دور ہوئے ہیں
گھر گھر نظر آتے ہیں طاقوں ميں قرآن
ہم کیسے مسلمان ہیں ہم کیسے مسلمان ؟​
مکتب تعلیم القرآن افراد سازی اور لیڈر شپ کی
ایک ایسی فیکٹری ہے جو دن رات محنت کرنے کے باوجود ماشاء اللہ تھکتی ہی نہیں کیونکہ ان کی منزل کا ہدف یہ ہے کہ
قدم ہیں راہ الفت میں تو منزل کی ہوس کیسی
یہاں تو عین منزل ہے تھکن سے چور ہو جانا
اگر اسی طرح تجوید کی محنت اور تگ و دو جاری رہی تو وہ دن دور نہیں کہ دنیا کے کونے کونے میں قرآن پاک کے حلقے اور ان حلقوں سے قرآن کی مشق کی آوازیں مدینے کی سرزمین کی طرح گونجنی شروع ہو جائیں گی اور صحابہ کے دور کی یاد تازہ ہو جائے گی ان شاء اللہ…!
مے بھی تو، مینا بھی تو، ساقی بھی تو، محفِل بھی تو

شیئر کریں: