Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

 یہ بعد از مرگ کے قصیدے ۔ فرہاد خان

Posted on
شیئر کریں:

 یہ بعد از مرگ کے قصیدے ۔ فرہاد خان

 

بجا ہوگا کہ اسے بھی قومی المیہ کہا جائے  کہ ہم کسی کی تعریف اس کے جیتے جی اس کی زندگی میں  نہیں کیا کرتے بلکہ ہمارے یہان تو تعریف سننے کے لئے آخر مر ہی جانا پڑتا ہے۔ تب جاکے کسی کی شان میں دو میٹھے بول بولے جاتے ہیں۔ایک دو دن خوب مدح سرائی ہوتی ہے ۔پھر کام ختم۔ یہان کبھی یہ نہیں ہوا کہ کوئی اپنی زندگی  ہی میں اپنی تعریف کے دو میٹھے بول سنے اور دل ہی دل میں خوش ہوجائے کہ آخرکار کسی نے اس کی تعریف تو کی ۔کسی نے تو اس کی کاوشون کو تحسین پیش کیا۔ اور کسی نے تو دل کھول کر اس کی مدح سرائی کی۔ مگر افسوس صد افسوس، کہ زندگی میں ہم کھلے دل سے اور باآوازِ بلند  کسی کی تعریف نہیں کیا کرتے بلکہ اس کے ہزار اچھائیوں کو پس پشت رکھ کر اس کی ایک غلطی پر اسمان سر پہ اٌٹھا لیتے ہیں۔ اور باتون کا بتنگڑ بناکر معاشرے کی نظرون میں اسے قصوروار ٹھہرانے میں دیر نہیں کرتے۔

 

انسان کو چونکہ قدرت نے سرتاپا محبت اور سرچشمہ محبت بنایا ہے۔ مگر گھریلو تربیت اور  اردگرد کے معاشرتی مختلف النوع حالات و واقعات اسے اپنے رنگ میں ڈھال لیتے ہیں۔ اور پھر اسی تربیت کے نتیجے میں ہمارے عادات و اطوار و چال چلن ترتیب پاتے ہیں۔پھر جس برے یا اچھے تربیت کے عناصر ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں ہماری زندگی اسی سانچے میں ڈھلنا شروغ ہوجاتاہے۔  ”صحبت صالح ترا صالح کند صحبت طالح ترا طالح کند“ کے مصداق معاشرے کے انہی رویون اور صحبت کی بنا پر ہمارے خیالات پروان چڑھتے ہیں۔زرا سوچئیے،ہمارے اردگرد ایسے ہی سینکڑون ہزارون ہیرے موجود تھے جو کہ  معاشرے کے لئے بہت کچھ کر گزرنے کے باوجود تعریف کے دو میٹھے بول کے لئے ترسے ہم سے رخصت ہوگئے اور شہرِخموشان جابسے۔ مگر مجال ہے کہ تعریف کے دو بول سنتے جاتے۔ گاون سے شہر اور پھر پورے ملک کا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے ہیرون کی قدر زندگی میں کبھی نہیں کی ۔اس کی سب سے بڑی مثال چند مہینے پہلے فوت ہونے والے ہمارے ایٹمی پروگرام کے ھیرو ڈاکٹر عبدالقدیر ہے جس کے ساتھ اس کی زندگی میں کیا کچھ نہیں ہوا۔عرصہ دراز سے گمنامی کی زندگی گزارنے والے ہمارے اس ھیرو کی جب کوچ کرجانے کی خبر آن پہنچی تو تعریف کے ختم نہ ہونے والے کلمات شروغ ہوگئے۔سلامی دی گئی اور سرکاری پروٹوکول میں تدفین کی گئی اور ہر کسی کے زبان پر اس عظیم سائنسدان کا نام تھا۔مگر مرنے کے بعد.

 

مرنے سے پہلے دوران علالت سرکار کو خبر تک نہ ہوئی اور سلامی کے آرڈر دینے والے بھی پاس آنے سے کتراتے رہے۔اسی طرح کے ہزارون مثالیں موجود ہیں جو ہماری اجتماعی بےحسی کے ثبوت ہیں ۔ہمارے اردگرد آج بھی ایسے ہزارون ہیرے انہی دو بول تعریف کے لئے ترسے موجود ہیں مگر ہم اب بھی صرف ان کے مرنے کے انتظار میں ہیں۔ اور جونہی ان کے یہان سے کٌوچ کرنے کی خبر سنتے ہیں تو ان کی واہ واہ اور مدح سرائی شروغ ہوجاتی ہے ۔زندگی میں جن کی برائیان ڈھونڈ ڈھونڈ نکال کر جنہیں رسوائے زمانہ کرنے کے درپے تھے آج گزرجانے کے بعد اِن کی خوبیون کا پرچار واااہ ۔

 

خٌدارا اپنے اردگرد موجود ان ہیرون کو ان کی زندگیوں میں ہی وہ مقام دین جن کے وہ مستحق ہیں اور ان کی کاوشون اور گرانقدر خدمات کے عوض اگر کچھ دے نہین سکتے تو ان کی مدح سرائی میں ایک دو میٹھے بول بول کر ان کی قدر افزائی کریں۔کیونکہ  مرنے کے بعد ہزار ہا تعریف کرین ،خوبیان گنوائیں یا تعزیتی کانفرنس منعقد کریں،ان کے مزارون پر چادر چڑھائیں یا پھول رکھ دین کچھ حاصل نہیں ہونے والا اور نہ ہی مدفون کو  اس امر سے کچھ فائدہ یا خوشی میسر ہوسکتا ہے۔ کیونکہ قدر کرنی ہو ،مدح سرائی کرنا ہو پھولون کا گلدستہ پیش کرنا ہو تو ان کے جیتے جی کی جائے تو ہزارہا درجہ بہتر ہے۔بعد از مرگ یہ تمام برائے نام عقیدت و مدح سرائی کا کچھ فائدہ نہیں ۔

 


شیئر کریں: