Chitral Times

Oct 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

درجنوں چترالی باشندوں کو نوکری کا جھانسہ دیکر وزٹ ویزے پر دوبیی پہنچادیاگیا، کسمپرسی کی زندگی گزارنے پرمجبور،نوٹس لیا جایے۔اورسیز چترالیز

شیئر کریں:

درجنوں چترالی باشندوں کو نوکری کا جھانسہ دیکر وزٹ ویزے پر دوبیی پہنچادیاگیا، کسمپرسی کی زندگی گزارنے پرمجبور،نوٹس لیا جایے۔اورسیز چترالیز

چترال ( نمایندہ چترال ٹایمز ) چترال کے سادہ لوح بے روزگارنوجوانوں کو بیرون ملک نوکری کا جھانسہ دیکر بعض افراد پیسہ بٹوررہے ہیں جن میں چترال کے چند افراد بھی شامل ہیں۔ جنھوں نے وزٹ ویزے پر بے روزگار افراد کو بیرون ملک بھیج رہے ہیں۔جہاں ایک طرف وہ بے یارومددگار انتہایی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ دوسری طرف جن افراد سے قرضہ لیکر بیرون ملک کیلے ویزہ لگایے تھے وہ لوگ قرضے کی واپسی کیلے  تنگ کررہے ہیں۔ جو گھروالوں کیلے الگ درد سربنا ہوا ہے ۔

ہمارے ذرایع کے مطابق ان بے روزگاروں کو زیادہ تر دوبیی اور عرب ممالک بھیجا جارہا ہے جن میں اکثر ہنرمند نہیں ہوتے ہیں۔ اور جن کے پاس پروفیشنل ڈگری یا تجربہ نہ ہو ان کو الگ سے خواری کا سامنا ہوتا ہے۔ ذرایع نے مذید بتایا کہ دوبیی میں آج کل درجنوں بے روزگار نوجوان  بے یارومددگار پھیررہے ہیں۔ جبکہ جن ایجنٹ کے زریعے وہ بیرون ملک بھیجے گیے تھے وہ پیسہ ہڑپ کرکے اپنا موبایل نمبرز بھی بند کردیے ہیں ۔

اس سلسلے میں جب ہم نے دوبیی میں مقیم چترال کی معروف سماجی شخصیت اور اورسیز چترالیز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی ظفر سے رابطہ کیا تو انھوں نے چترال ٹایمز کو اس بات کی تصدیق کردی کہ چترال کے سادہ لوح لوگوں کو نوکری کا جھانسہ دیکر وزٹ ویزے پر دوبیی پہنچادیا گیا ہے ۔جن میں اکثریت کے پاس کویی پروفیشنل سرٹفیکٹ یا تجربہ نہیں جس کیو جہ سے وہ انتہایی مصایب کا شکار ہیں۔ جبکہ ان سےتین لاکھ روپے تک وزٹ ویزے کیلے بٹورے گیے ہیں۔ اوران کو ایک سے دوسرے کو بیچا گیا ہے۔

انھوں نے چترال کے ضلعی انتظامیہ اور ممبران اسمبلی کے ساتھ ہر طبقہ فکر سے اپیل کی ہے کہ  وہ ان بے ضمیر ایجنڈوں سے چترال کے مذید بے روزگاروں کو جھانسہ سے بچایا جایے ۔ انھوں نے چترال کے عوام سے بھی اپیل کی کہ اس طرح کے ایجنڈوں سے خودکو بچاییں ان کے جھانسے میں انے سے پہلے کم از کم کانفرم کریں آج کی دنیاگلوبل ویلج بن گیی ہے ، سوشل میڈیا کا دور ہے ، کہ جس ویزے کیلے وہ اپلایی کررہے ہیں اسکا کویی بنیاد بھی ہے کہ نہیں لہذا تحقیقات کے بے غیر کسی کو بھی کویی پیسہ نہ دیں۔ تاکہ پیسہ کی ضیاع کے ساتھ پریشانی سے بھی بچ سکیں۔

انھوں نے بتایا کہ درجنوں چترالی بے روزگار دوبیی پہنچ کر انتہایی مصایب کا شکار ہیں ان میں اکثریت ہنر مند نہیں ہیں۔ جبکہ بیرون ملک ہنرمند افراد کو کہیں کھپایا جاسکتا ہے مگر بیغیرہنر کے بیرون ملک آنے والے افراد کو بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جس کی وجہ سے پہلے سے بیرون ملک موجود چترالی باشندے بھی پریشانی سے دوچار ہیں۔ لہذا ان بے ضمیرایجنڈوں سے اپنے عزیزوں کو بچاییے۔

 


شیئر کریں: