Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کا سپوت اور وادی تریچ کا فخر ” مولنا عبد الحیی چترالی”۔ تحریر: حسین احمد

شیئر کریں:

چترال کا سپوت اور وادی تریچ کا فخر ” مولنا عبد الحیی چترالی”۔ تحریر: حسین احمد

یہ سنہ 2007 کی بات ہے کہ جب ہم جامعہ دارالعلوم کراچی میں درجہ متوسطہ کے طالب علم تھے تو فوقانی درجات یعنی سابعہ یا دورہ دورہ حدیث کے ایک طالب علم تھے جن کو ہم مولنا محمد ظاہرشاہ صاحب چترالی رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ اکثر وبیشتر دیکھا کرتے تھے، عربی ادب کے ہمارے استاذ شیخ محمود تیونسی کے ساتھ بھی نظر آتے تھے۔۔۔دیکھنے سے ہی با رعب، شخصیت میں ٹہراو اور سنجیدگی چہرے سے عیاں ہوا کرتی تھی، ہم چھوٹے تھے تو ان سے کوئ بے تکلفی نہیں تھی بلکہ ہم حد درجہ انکا احترام کیا کرتے تھے۔چونکہ مدرسہ کے ماحول میں جونیئرز اپنے سینیئرز کو استاذ کہ کر پکارا کرتے ہیں انکے کے ساتھ بھی ہمارا کچھ ایسا ہی معاملہ تھا، انکی شخصیت کے حوالے سے کچھ زیادہ جان پاتے تھے نہ ہی انکی علمیت اور زبان دانی کے حوالے سے ہمیں کچھ زیادہ معلومات تھیں۔۔البتہ ایک چیز پر ہمیں حسرت ہوا کرتی تھی کہ موصوف مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب زید مجدھم کے معتمد خاص اور لازم ملزوم سمجھے جاتے تھے، جب بھی حضرت مفتی صاحب نماز فجر کے بعد دار العلوم کراچی میں مختلف امور کا جائزہ لینے نکلتے تھے تو ایک شخصیت اُنکے ہمراہ ہوا کرتی تھی، وہ مولنا عبد الحئ چترالی تھے۔۔۔۔بعد میں کچھ شعور اور آگاہی حاصل ہوئی تو اندازہ ہوا کہ مولنا ایک پختہ اور ٹھوس علم رکھنے والے انتہائی باصلاحیت عالم دین ہے، جنہوں نے نہ صرف دینی بلکہ دنیوی تعلیمی میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔۔

۔آپ اپر چترال کے مردم خیز وادی تریچ کے ایک علمی اور صاحب ثروت خاندان کے چشم و چراغ ہے۔۔آپ کے چچا پیر محمد چشتی علوم نقلیہ اور عقلیہ کے شناور بہترین عالم دین تھے۔۔۔۔مولانا عبد الحئ عالم اسلام کی شہرہ آفاق علمی درسگاہ جامعہ دار العلوم کراچی کے فاضل و متخصص ہے، وفاقی اردو یونیورسٹی سے ایم اے عربی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے، دار العلوم کراچی کے ترجمان رسالہ البلاغ عربی کے مستقل لکھاری رہے ہے، متعدد مرتبہ ادارئیے میں انکے مضامین شائع ہو چکے ہیں۔۔۔۔مولنا کی سب سے بڑی خاصیت جو انکو ہم عصروں سے ممتاز کرتی ہے وہ انکی عربی زبان پر دسترس اور ساتھ ساتھ اکابرین کا ان پر اعتماد ہے، عربی زبان پر انکو وہ ملکہ حاصل ہے کہ خوشگوار حیرت ہوتی ہے ماشاءاللہ ۔۔۔۔۔مفتی تقی عثمانی صاحب کی ورلڈ اکنامک فورم میں پیش کردہ انگریزی مقالہ کو عربی میں ترجمہ کرنے کی سعادت مولنا کو حاصل ہے جو کہ اب دار القلم بیروت سے باقاعدہ کتابی شکل میں شائع ہو چکی ہے، مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی صاحب زید مجدھم کی کتاب (کتابت حدیث عہد رسالت میں)کو عربی زبان میں منتقل کرنے کی سعادت بھی مولنا کو حاصل ہوئ ہے جو اب مکتبہ دارالعلوم سے شائع ہوچکی ہے۔۔۔

آپ کی اپنی مستقل تصانیف بھی ہیں، کچھ منصہ شہود پر آچکی ہیں، بعض پر کام جاری ہے، عربی انشاء اور مضمون نگاری پر تصنیف (الرائد فی الحوارات) شائع ہو کر اہل علم سے دادو تحسین وصول کر چکا ہے اسکے علاوہ عربی حوارات کے حوالے سے ایک دوسری کتاب بھی عنقریب منظر عام پر آنے والی ہے، اقراء ایجوکیشن سسٹم کی چھٹی اور ساتویں جماعت کے عربی اور انٹر کالج عربی نصاب میں انکی تالیف کردہ کتاب داخل نصاب ہے۔۔۔۔مولنا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ عالمی ختم نبوت کے امیر حضرت مولنا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے حکم پر مختلف عرب سفراء اور اداروں کو قادیانیوں کے مکروہ عزائم سے آگاہی کے واسطے عربی میں خطوط بھی لکھتے رہے ۔۔۔کچھ عرصہ شہر کراچی میں ایک مؤقر ادارے کے شعبہ عربی سے وابستہ رہے، پھر کاروباری معاملات کی بناء پر چترال شہر منتقل ہوچکے ہیں، جہاں ماشاء اللہ ایک اچھے کاروبار سے منسلک ہے، کاروباری مشاغل اور مصروفیات کے باوجود لکھنے پڑھنے کے دلدادہ ہے، ہر سال نئے آنے والے کتب کی فہرست بنا کر شہر کراچی کے کتب خانوں کی چھان بین کر واکر کتابیں منگوانا مولنا کا معمول ہے۔ایسے لائق فائق نوجوان عالم دین کا چترال میں ہونا یقینا اہلیان چترال کے لیے نعمت خداوندی ہے اور مولنا کی شخصیت بھی ایسی ہے کہ کسی خاص جماعت سے وابستگی نہیں ہے بلکہ ہر ایک کے لیے قابل قبول ہے، چترال کے علمی حلقوں کے حضرات ان سے استفادہ کر سکتے ہیں، خصوصا عربی زبان سے شغف رکھنے والے حضرات اور ادارے ان سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں، ان جیسے قابل رشک لوگوں کے حوالے سے ہی شاعر مشرق نے کہا ہے

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے۔۔

chitraltimes abdul hay chitrali terich 2 chitraltimes abdul hay chitrali terich 3 chitraltimes abdul hay chitrali terich 5 chitraltimes abdul hay chitrali terich 1


شیئر کریں: