Chitral Times

Sep 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

غیر مقید جمہوریت ! – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

Posted on
شیئر کریں:


غیر مقید جمہوریت ! – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

 
 وزیراعظم عمران خان کے خلاف صف بندی کا سر درد مرحلہ اپنے منطقی انجام میں داخل ہوچکا ہے ۔ جمہوری نظام اراکین کو یہ حق دے رہا ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال کریں ، وہیں یہی نظام انہیں اس حق سے روکتا بھی ہے کہ پارٹی پالیسی کے برخلاف کوئی نہیں جا سکتا ۔ اسے فلور کراسنگ ، ہارس ٹریڈنگ اور ضمیرکی بیداری سے لے کر مختلف اوقات میں متعدد القابات سے نوازا جاتا رہا ہے ۔ گو کہ کئی دہائیوں بعد مملکت میں پارلیمانی نظام سے اقتدار کی منتقلی پر امن طریقے سے ہورہی ہے تاہم کسی بھی وزیراعظم کا مدت منصب پورا نہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ ابھی بھی ملک میں نظام جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط کرنے کے لیے آبیاری کی ضرورت ہے۔
حالات کی دگرگونی اور یوں کہئے کہ ہماری بد نصیبی ملاحظہ ہو کہ حالات سے ہر بہی خواہ ِ مملکت کا دل سینے میں دھڑک رہا ہے اور لب پر سلامتی اور خیر طلبی کی دعائیں آرہی ہیں ۔ شاید ایک جانب یوم نجات منایا جائے گا تو دوسری جانب باشعور عوام اس غیر مقید جمہوریت پر نوحہ خواں ہیں جسے ہم نے مغرب کی اندھی تقلید کی رو سے اپنا سیاسی مسلک قرار دیا ، جس کے حصول یا بحالی کے لیے ہم نے وہ ادھم مچایا کہ اس سے اڑا ہوا غبار آج تک ملک کی فضائوں کو گرد آلود کئے ہوئے ہے ، جسے ہمارے ’’مقدسین ‘‘ عین جمہوریت کے مطابق قرار دیتے ہیں۔ نشہ ٔ اقتدار سے انسان میں معقولیت کے ساتھ سوچنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی ، قوت ، کسی رنگ میں ہو ، اس کے یہی نتائج ہوں گے ، وہ جاہ و منصب کی ہو یا پنجہ ٔ فولاد کی ، دولت کی ہو یا محض ذہنی برتری کی ، دفاتری زندگی میں کسی افسر کی ہو یا حاکم کی ، کسی بھی مذہبی پشوائیت کی ہو ، قوت بہرحال قوت ہے اور فساد کی جڑ ، اور اس کا لازمی نتیجہ ظلم ہوتا ہے ، ان سب میں سب سے زیادہ خراب قوت وہ ہے جو اکثریت ، محض اپنی تعداد کے بل بوتے پر ، اقلیت کے خلاف استعمال کرتی ہے۔
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
وزیراعظم عمران خان نے جب بھارت کی خارجہ پالیسی کی مدح سرائی کی اور داد دی تھی تو راقم کے سامنے پنڈت جواہر لال نہرو کی کتاب ’ میری کہانی ‘( جلد دوم ) میں لکھا یہ فقرہ سامنے آگیا ، جس میں کہا گیا کہ ’’ دراصل جمہوری حکومت کے معنی یہ ہیں کہ اکثریت ، اقلیت کو ڈرا کر ، دھمکا کر اپنے قابو میں رکھنا چاہتی ہے‘‘۔ بھارت کی خارجہ پالیسی تو ’ ہندو توا ‘ اور’ آر ایس ایس‘ کے غلاف میں لپیٹی ہوئی انسانیت کا جنازہ نکال رہی ہے۔ یہ کیسی پالیسی ہے کہ جہاں اکثریت نے اقلیتوں کا جینا مرنا دوبھر ہی نہیں بلکہ ناممکن بنا دیا ہے۔ جس کی خارجہ پالیسی میں کسی دوسرے ملک میں متشدد جتھوں کی فنڈنگ کی جاتی ہو ، جس کے ہاتھوں سقوط ڈھاکہ ہوچکا ہو اور شمال مغربی علاقوں کو پاکستان کے جسم سے جدا کرنا چاہتا ہو۔ مغرب کے دیئے گئے جمہوری نظام کا دوسرا بنیادی مسلمہ یہ ہے کہ اکثریت جو کچھ کہے ، اسے بطور حق کے تسلیم کرلیا جائے ، یعنی اس میں غلط اور صحیح ، حق اور باطل معیار یہ ہوتا ہے کہ اکثریت کے ہر فیصلہ کو صحیح اور حق قرار دیا جائے ، یہ دلیل نہ تو منطقی طور پر صحیح ہے اور نہ صداقت پر مبنی ، اگر کسی بات کو لاکھ آدمی بھی صحیح کہہ دیںتو وہ ( محض ان کے ایسا کہنے کی بنا پر ) صحیح نہیں ہوسکتی، فیصلہ وہی صحیح ہوسکتا ہے جو درحقیقت صحیح ہو ، نہ کہ وہ جسے زیادہ لوگ صحیح کہنا شروع کردیں ( جب حقیقت یہ ہے تو پھر ) یوں کیوں نہ کہا جائے کہ جو بات اخلاقی طور پر صحیح ہے تو وہی صحیح ہے ۔
دراصل غیر مقید جمہوریت تباہ کن نتائج پیدا کرتی ہے ، غیر مقید جمہوریت سے مراد ایسا نظام ہے جس میں اکثریت کے ہر فیصلہ کو صحیح اور واجب التسلیم قرار دیا جائے ، یعنی اس کے صحیح اور مبنی برحق ہونے کی دلیل یہ ہو کہ اکثریت ایسا کہتی ہے ۔
اس طرح اسے سمجھا جاسکتا ہے کہ اس میں او ر آمریت میں کوئی فرق نہیں ہوتا ، آمر اپنے ہر فیصلہ کو دوسروں سے منواتا ہے اور وہ ایسا اُس قوت کے بل بوتے پر کراتا ہے جسے اس نے کسی طرح حاصل کرلیا ہوتا ہے بعینہ یہی کچھ اکثریت پارٹی کا لیڈر کرتا ہے اور اس کے پیچھے کثرت ِ رائے کی وہ قوت ہوتی ہے جسے اس نے انتخابات کے ذریعے فراہم کرلیا ہوتا ہے،اس کے برعکس ایک مقید جمہوریت (Controlled Democracy) ہے جس میں کچھ غیر متبدل اصول و ضوابط ہوتے ہیں ، جن کے خلاف کسی کا فیصلہ صحیح نہیں سمجھا جاتا ، خواہ اسے کتنی ہی اکثریت کیوں حاصل نہ ہو ۔ کسی بھی نظام کو کوئی بھی نام دے دیں لیکن شورائیت کا قانون اور نظام کے اندر رہتے ہوئے قوم اپنے معاملات کو باہم مشاورت سے طے کرے ، کسی کو یہ حق حاصل نہ ہو کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز کرے ۔ علامہ اقبالؒ تو پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ،
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
کسی شخص کا اخلاق دیکھنا ہو تو سب سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ اس میں برداشت کتنا ہے۔ غصہ کا آنا انسانی جبلت کا حصہ ہے ، انسان مجموعہ اضداد ہے لیکن غصہ کو کنٹرول کرنے والا ہی سب سے افضل کہلایا جاتا ہے۔ غصہ پر قابو پانے کی ایک تدبیر یہ بھی ہے کہ غصہ کے وقت انسان کچھ نہ بولے اور چپ سادھ لے، آپﷺنے ارشاد فرمایا کہ: جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو خاموش رہے ۔ احتسابی عمل میں اکثریت کی بنا پر کسی کو روکنا اظہار رائے کی آزادی نہیں۔ اس طرح تو اکثریت کی حامل شخصیات کا کبھی بھی احتساب ممکن نہیں ہوسکے گا ۔ کیونکہ یہ عوام کے جذبات و احساسات کی نمائندگی نہیں ۔ شیر شکار مارتا ہے اور اس کے بعد گیدڑ اور کرگس اسے کھانے کے لیے لپک پڑتے ہیں۔ پاکستان کو ایسے گیدڑوں اور کرگسوں سے بچانے کے لیے سوشل ڈیمو کریسی کی جانب آنا ہوگا ۔ ملک میں مفلوک الحالی اور درماندگی کی وجہ سے جوخلفشار اور انتشار پایا جاتا ہے دراصل اُس کے خلاف اٹھنا ہوگا ۔

شیئر کریں: