Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مارچ اور مرڈر آف ہسٹری23- پروفیسرعبدالشکورشاہ

Posted on
شیئر کریں:

مارچ اور مرڈر آف ہسٹری23- پروفیسرعبدالشکورشاہ

پاکستان تاریخ کو قومی مفاد میں بدلنے والا واحد ملک نہیں ہے۔ فلپائن اور بھارت کے علاوہ کچھ دیگر ممالک بھی قومی مفادات کی خاطرتاریخ کے جائز قتل میں شامل ہیں۔ قرار داد لاہور ہو، قرارداد پاکستان، یوم آزادی پاکستان، یوم پاکستان یا کوئی اور دن اورتاریخ، انہیں تبدیل کرنے کی کچھ ٹھوس وجوہات موجود ہیں۔ ہم 23مارچ کو قرار داد لاہور، پاکستان، یوم پاکستان وغیرہ مختلف ناموں سے مناتے ہیں مگر اس  کی اصل روح کو ہم بھول چکے ہیں۔قرارداد لاہور جو بعد میں قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی 23 مارچ 1940 کو پیش کی گئی لیکن اسے منظور 24مارچ کو کیا گیا نہ کے 23مارچ کو۔ یہ بات بھی کافی دلچسپ ہے کہ اس قرارداد کو دو سیشن میں پاس کیا گیا ہے نہ کہ ایک سیشن میں۔ قرارداد 23مارچ کو بنگال کے رہنما جناب فضل الحق صاحب نے پیش کی، اس کے بعد چوہدری خلیق الزمان نے اس کی تائید کی پھر محمد ذولفقار علی خان، سرادار اورنگزیب خان اور سر عبداللہ ہارون نے اس کی حمایت کی اور اجلاس اگلے دن تک موخر کر دیا گیا۔

اگلے دن 24مارچ کوباقی رہنماوں نے اس کی حمایت کی۔ اس کے بعد فلسطین اور خاکسار سانحے پر دو قراردادیں پیش کی گئی اور پھر سب رہنماوں نے متفقہ طور پر قرار داد لاہور کو منظور کیا۔ اگرچہ قرار داد لاہور کو پیش 23مارچ کو کیا گیا تاہم اس کو منظور 24مارچ ہی کو کیا گیا ہے۔ قرارداد لاہور میں پاکستان کا نام قطعا شامل نہ تھا۔ ہندو میڈیا نے طنزیہ یہ نام شامل کیا اور اسے قرار داد پاکستان کے نام سے شائع کیا۔ یہ بلکل ایسے ہی ہے جیسے ہندومیڈیا نے محمد علی جناح کو طنزیہ قائداعظم کے نام سے پکارا تھا۔ مسلمانوں کے لیے قراردادپاکستان کا نام بڑا پر کشش تھا اور انہوں نے اسے قرارداد پاکستان کے نام سے ہی پکارنا شر کر دیا۔ اس قرار داد کے کچھ دیگر دلچسپ پہلو بھی ہیں۔ قرارداد لاہورمیں لفظ ریاست یا ریاستیں استعمال کیا گیا تھایہ بھی کافی بحث طلب ہے۔

البتہ قرارداد کے اصل مسودے میں تو لفظ ریاستیں موجو د تھاتاہم 1941 کو مدارس کے اجلاس میں پیش کیے جانے والے مسودے میں جمع کے بجائے لفظ ریاست موجود تھا۔ کچھ محققین کے مطابق لفظ ریاستیں جمع لکھا جانا ایک کلریکل ٖغلطی تھی جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ ایسا بلکل بھی نہیں تھا۔کچھ رہنما برصغیر میں دوالگ مسلم ریاستوں کے نظریے کے قائل تھے۔ بعض کے بقول لفظ ریاستیں جمع لکھنے سے مراد پاکستان اور ہندوستان کی دوریاستیں تھیں۔ بہرحال بعد کے مسودوں میں لفظ ریاستوں کے بجائے ریاست ہی استعمال کیا گیا ہے۔ لفظ ریاست کے حق میں ایک مضبوط دلیل یہ بھی موجود ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی تقاریر اور تحاریر میں ریاست کا لفظ جمع کے طور پر استعمال نہیں کیا۔ قائداعظم کی تمام تقریروں اور بیانات میں آزادمسلمان ریاست اور آزاد وطن کے الفاظ واحد حالت میں موجود ہیں۔ قرار داد لاہور کو پاکستان کی تاریخ میں فادر دستاویز کا مقام حاصل ہے کیونکہ یہ وہ واحدقرار داد ہے جسے تمام رہنماوں نے متفقہ طور پر منطور کیااور قیام پاکستان کے لیے سنگ میل ثابت ہوئی۔اس قرارداد کی یاد میں مینار پاکستان تعمیر ہو جو 8سالوں میں مکمل کیا گیا۔ قرارداد لاہور کے 450الفاظ مینار پاکستان پر کنندہ کیے ہوئے ہیں ان میں نہ تو پاکستان کا ذکر ہے اور نہ ہی اسلام کا۔ اس قرار داد کا مسودہ محمد ظفراللہ خان نے تیار کیا اور مولانا ظفرعلی خان نے اردو میں اس کا ترجمہ کیا۔

ایسوسی ایٹیڈ پریس آف انڈیا کے مطابق ایک لاکھ کے مجمعے میں بغیرکسی صوتی نظام کے اس قرار داد کو مولوی فضل الحق نے بلند آواز میں پڑھ کر سنایا۔ پاکستان کے پہلے آئین میں پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام دیاگیا۔ پاکستان کا پہلا آئین بھی 23 مارچ 1956کو پاس ہوا۔ اس دن کو تب ریپبلک ڈے یعنی یوم جمہوریہ کا نام دیا گیا۔ 1956 میں ہی آئین کی معطلی اور مارشل لاء کی وجہ سے جمہوریت کو سکندر مرز نے اڑا کر رکھ دیا، یوم جمہوریہ کیسے منایا جاتا۔ اپنی بے شرمی کوچھپانے کے لیے اس کا نام یوم جمہوریہ سے بدل کر یوم پاکستان رکھ دیا گیا۔یہ بات بھی کافی دلچسپ ہے کہ اس قرار داد کو پیش کرنے اور آغاز میں حمایت کرنے والے ارکان میں بنگال کے رہنماء سب سے آگے تھے۔ 23مارچ کو قرارد اد پاکستان، یوم پاکستان یا قرارداد لاہور منانے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ 1940-47کے عرصہ کے دوران قائد اعظم نے اسی دن عوامی اجتماعات منعقد کیے، اسی دن انہوں نے پیغامات دیے اور ریلیاں نکالی گئی۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا 1956کا آئین اگرچہ 23مارچ سے پہلے تیار کر لیا گیا تھا مگر اسے 23مارچ تک لاگو کرنے سے روکا گیا۔

ہندوستان کا آئین بھی 26جنوری 1950 کو تیار نہیں ہوا تھا بلکہ اس تاریخ کو اسے لاگو کیا گیا تیار یہ پہلے ہو چکا تھا۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ 1930 میں اسی تاریخ کو لاہور میں کانگرس نے قرارداد آزادی پیش کی تھی جسے وہ سالہا سال سے یوم آزاد کے طور پر مناتے چلے آرہے تھے۔ اگر بھارت اپنے قومی مفادات کے لیے تواریخ میں ردوبدل کر سکتا ہے تو پاکستان نے بھی قومی مفادات کے لیے 24مارچ کو 23مارچ میں بدل دیا۔ قوم کو اختلاف سے بچانے اور یگانگت کے لیے 23مارچ کی تاریخ طے کی گئی ہے۔اس کے علاوہ بھی کافی تاریخیں ایسی ہی جنہیں تبدیل کیا گیا ہے جس میں سب سے اہم یوم آزاد ی پاکستان کی تاریخ میں تبدیلی ہے۔ بھارت میں 26جنوری کو ہر سال یوم جموریہ منایا جا تا ہے مگر پاکستان میں پہلا یوم جموریہ محض 30ماہ کی قلیل عمر میں وفات پا گیا۔ ایوب خان نے اس یوم جمہوریہ کو یوم پاکستان کے طور سے منانے کا اعلان کیا اور یوں 23مارچ کویوم پاکستان کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔ 1947-56 تک کبھی بھی نہ تو 23مارچ منایا گیا ااور نہ ہی اس دن چھٹی ہوا کر تی تھی۔ یوم آزادی پاکستان کی تاریخ کو بھی قومی مفاد میں تبدیل کیا گیا ہے۔

یہ بات درست ہے کہ ماونٹ بیٹن نے سرکاری طور پر اختیارات 14اگست کو اپنی تقریرکے زریعے پاکستان کے حوالے کر دیے تھے تاہم وہ جسمانی طور پر بیک وقت کراچی اور دہلی میں موجو دنہیں ہو سکتا تھا۔ قانون آزادی ہندوستان کے مطابق دونوں ممالک کو 14-15اگست کی درمیانی رات کو آزاد ہونا تھا۔ اسی بنیاد پر پاکستان میں گورنر ہاوس پر پاکستانی پرچم 15اگست کو بلند کیا گیا۔ قائداعظم اور ان کی کابینہ نے حلف لیا اور یوں اگلے 6سال تک پاکستان 15اگست کو ہی یوم آزاد ی پاکستان منایا جاتا رہا۔ 1954کو بہترین ملکی اور قومی مفاد میں یہ فیصلہ کیا گیاکہ ہم اپنا یوم آزادی 15کئے بجائے 14اگست کو منائیں گے۔اس کی ایک بڑی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ دونون ممالک کے ایک ہی دن یوم آزاد ی منانے سے یہ بات سمجھاتا مشکل تھا یہ ایک ہی دن دونوں ممالک کیسے آزاد ہوئے اور دوسری وجہ بھارت کے ساتھ یوم آذادی منانے سے ہماری تشخص واضع نہیں ہو پاتا تھا۔

 


شیئر کریں: