Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سپریم کورٹ کا آرٹیکل63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پرلارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ

Posted on
شیئر کریں:

سپریم کورٹ کا آرٹیکل63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پرلارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (سی ایم لنکس) سپریم کورٹ نے آرٹیکل63اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پرلارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو صدارتی ریفرنس پر نوٹس جاری کر دیئے۔تفصیلات کے مطابق سسپریم کورٹ میں اسلام آباد میں جلسے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے سماعت کی۔سپریم کورٹ بارکے وکیل منصورعثمانی عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا ریکوزیشن کے بعد 14روز کے اندر اجلاس بلانے کا کہتا ہے، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہم پروسیجرکیاندرنہیں جائیں گے، ہم پارلیمانی پروسیجنگ کیاندرمداخلت نہیں کرناچاہتے۔وکیل منصورعثمانی نے بتایا کہ 8مارچ کوریکوزیشن جمع کرائی، ریکوزیشن کے اندر تحریک عدم اعتماد بھی جمع کرائی، تحریک عدم اعتمادپرنوٹس بھی جاری ہوچکاہے، اسپیکرقومی اسمبلی 14دن کیاندراجلاس بلانیکاپابندہے، 22مارچ کو14روزمکمل ہوتیہیں، موجودہ حالات میں مروجہ طریقہ کارپرعمل نہیں ہو رہا۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اجلاس 22مارچ کی جگہ 25 مارچ کو بلایا گیا ہے، جس پر وکیل نے کہا عدم اعتماد اجلاس میں پیش ہونیکے3دن بعد اور 7روز سے قبل ووٹنگ ہونی ہے،

تمام اراکین کونوٹس جاری ہونیہیں، اسمبلی اجلاس عدم اعتمادپرووٹنگ سیقبل غیرمعینہ مدت تک ملتوی نہیں ہوسکتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ اسمبلی کااندرونی معاملہ ہے،آپ یہ معاملہ اسمبلی کیاندرلڑیں، عدالت ابھی تک اسمبلی کارروائی میں مداخلت پر قائل نہیں ہوئی، عدالت صرف چاہتی ہے کسی کے ووٹ کا حق متاثر نہ ہو، یہ تمام نقاط اسپیکر کے سامنے اٹھائے جاسکتے ہیں۔فاروق نائیک نے اسمبلی اجلاس طلب کرنے کا نوٹس عدالت میں پیش کر دیا اور کہا اسپیکر نے آئین کی خلاف ورزی کرکے آئین شکنی کی، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جن پر آرٹیکل 6لگا ہے پہلے ان پر عمل کرا لیں۔آرٹیکل 6سیمتعلق فاروق ایچ نائیک کی بات چیف جسٹس مسکرا دیئے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 17 سیاسی جماعتیں بنانیکے حوالیسیہے، آرٹیکل 17کے تحت حقوق سیاسی جماعت کیہوتیہیں اور آرٹیکل 95کے تحت ووٹ کا حق سیاسی جماعت کا ہوتا ہے جبکہ آرٹیکل 95ٹو کے تحت رکن کیانفرادی ووٹ کی حیثیت نہیں۔جسٹس منیب اختر نے مزید کہا کہ نواز شریف،بینظیربھٹو کیس میں عدالت آبزرویشن دے چکی ہے، سیاسی جماعت میں شمولیت کے بعد اجتماعی حق تصورکیاجاتاہے۔

 

چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ بار چاہتی ہے کہ ارکان جس کو چاہیے ووٹ ڈالے، بار زیادہ تفصیلات میں گئی توجسٹس منیب اخترکی آبزرویشن رکاوٹ بنیگی، سوال یہی ہے ذاتی چوائس پارٹی مؤقف سے مختلف ہو سکتی ہے یا نہیں؟وکیل سپریم کورٹ بار نے بتایا کہ ارکان اسمبلی کو آزادانہ طور پرووٹ ڈالنیکاحق ہونا چاہیے، جس پر جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہا آئین کی کس شق کیتحت رکن اسمبلی آزادی سے ووٹ ڈال سکتا ہے، جس پر وکیل سپریم کورٹ بار نے مزید بتایا کہ آرٹیکل 91کیتحت ارکان اسپیکرودیگرعہدیداروں کا انتخاب کرتے ہیں، جسٹس منیب اختر نے پھر سوال کیا سپریم کورٹ بار کاکیس آئین کی کس شق کیتحت ہییہ توبتا دیں؟وکیل سپریم کورٹ بار کی جانب سے آرٹیکل 66 کا حوالہ دیا، جس پر جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا آرٹیکل 66 کے تحت ووٹ کا حق کیسے مل گیا؟ آرٹیکل 66 تو پارلیمانی کارروائی کو تحفظ دیتا ہے، ارٹیکل 63 اے کے تحت تو رکن کے ووٹ کا کیس عدالت اسکتا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اپ تو بار کے وکیل ہیں آپکا اس عمل سے کیا تعلق؟ بار ایسوسی ایشن عوامی حقوق کی بات کرے، جس پر وکیل سپریم کورٹ بار نے بتایا کہ تحریک عدم اعتماد بھی عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ آئین کے تحت سب سے مرکزی ادارہ ہے، پارلیمنٹ کا کام آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے،

پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں، آرٹیکل 63 اے پارٹیوں کے حقوق کی بات کرتا ہے، کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا اور عوامی مفاد میں کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے،عوام کا کاروبار زندگی بھی کسی وجہ سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ تحریک عدم اعتماد سے بار کو کیا مسئلہ ہے؟ جسٹس منیب اختر نے بھی استفسار کیا کیا تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں ہونی چاہیے؟سندھ ہاؤس سے متعلق چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا بار بارپوچھ رہیہیں سندھ ہاؤس میں کیاہوا؟ عدالت نے صرف آئین پر عمل کرانا ہے؟ سپریم کورٹ بار کے وکیل تیاری سے نہیں آئے، بار کو سندھ ہاؤس پربات کرتیہوئیخوف کیوں آرہا ہے؟چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بار کو تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے کیا تحفظات ہیں،بار کے وکیل کو سن چکے ہیں اب آئی جی اسلام آباد کو سنیں گے، آئی جی اسلام آباد صاحب کیا دفعہ 144 لگ گئی ہے۔آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ اسلام آباد میں پہلے سے ہی دفعہ 144 نافذ ہے، ریڈ زون کیاطراف دفعہ 144 کا دائرہ بڑھا دیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہارپورٹ کیمطابق5.42 بجے 35سے40 مظاہرین سندھ ہاؤس پہنچے تو آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ مظاہرین جتھے کی صورت میں نہیں آئے تھے، 2 اراکین اسمبلی سمیت 15 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

آئی جی اسلام آباد نے مزید بتایا کہ جے یو آئی نے بھی سندھ ہاؤس جانے کی کوشش کی، بلوچستان ہاؤس کے قریب جے یو آئی کارکنان کوروکا گیا، سندھ ہاؤس واقعہ پر شرمندہ ہیں، جس پرچیف جسٹس نے کہا سندھ ہاؤس واقعہ پولیس کی اتنی ناکامی نظر نہیں آتا۔چیف جسٹس کا ریمارکس میں کہنا تھا کہ اصل چیز اراکین اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کا ہے، ڈی چوک پرماضی قریب میں کچھ ہوا تھاجس کے تاثرات سامنیآئے، ہفتیکو کیس سننے کا مقصد سب کوآئین کیمطابق کام کرنے کاکہناتھا۔اٹارنی جنرل نے عدالت میں یقین دہانی کرائی کہ کوئی رکن پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ ڈالنے جائے تواسیروکانہیں جائے گا اور قومی اسمبلی اجلاس میں کوئی بھی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی، تمام اجلاسوں کوبھی بلارکاوٹ کراناوفاق کی ذمہ داری ہے، سیاسی بیانات اپنی جگہ مگرعملی طورپرکوئی رکاوٹ کھڑی نہیں ہوگی۔اٹارنی جنرل نے کہا سپریم کورٹ بار کی استدعا سے کوئی اختلاف نہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 254 کو شاید غلط انداز میں لیا گیا ہے، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پارلیمانی کارروائی پرعدالت بات نہیں کررہی ورنہ تاخیرکی وجہ بتاتا، بارنیتمام اداروں کوقانون کیمطابق اقدامات کی استدعا کی ہے، بارکی دوسری استدعا امن و امان اور جلسے جلوس کیحوالے سے ہے۔اسمبلی اجلاس کے موقع پر کوئی جتھہ اسمبلی کے باہرنہیں ہوگا،

کسی رکن اسمبلی کوہجوم کیذریعینہیں روکاجائیگا، کئی سیاسی جماعتوں نے بیانات دیے ہیں، پولیس اور متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کردیے ہیں، عوام کواسمبلی اجلاس کے دوران ریڈزون میں داخلیکی اجازت نہیں ہو گی، سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی طاقت پارلیمنٹ میں ظاہر کریں۔عدالت نے سوال کیا کہ کوئی جماعت اجلاس میں مداخلت سیروکیاوراسکارکن چلا جائیتوکیاہوگا؟ اٹارنی جنرل نیبتایا کہ پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ ڈالنے والوں کوروکا نہیں جاسکتا، اس نکتے پر حکومت سے ہدایات کی بھی ضرورت نہیں، پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالنے پرآرٹیکل 63 ایکی کارروائی ہوگی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا سیاسی جماعتیں بتائیں وہ کیا چاہتی ہیں، پولیس کسی رکن اسمبلی پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتی، رکن اسمبلی قانون توڑے گاتوپولیس بھی ایکشن لے گی، عدالت نیسیاسی قیادت میں ثالث کاکرداراداکرناہیتاکہ جمہوریت چلتی رہے، حساس وقت میں مصلحت کے لیے کیس سن رہے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا سندھ ہاؤس پرحملیکا کسی صورت دفاع نہیں کرسکتا، وزیر اعظم کو عدالت کی تشویش سے آگاہ کیا، وزیر اعظم نیکہا پرتشدد مظاہرے کسی صورت برداشت نہیں، ایف آئی آر درج ہو چکی ہے جس کو شکایت ہیمتعلقہ فورم سیرجوع کرے، سندھ ہاوس جیسا واقعہ دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کسی سیاسی جماعت کی وکالت نہیں کروں گا، اپنے عہدے کے تقدس کا ہمیشہ خیال رکھا ہے، او ائی سی کانفرنس کی وجہ سے ریڈ زون حساس ترین علاقہ ہے۔عدالت نے آرٹیکل63ایسیمتعلق صدارتی ریفرنس پرلارجربینچ تشکیل دینیکافیصلہ کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو صدارتی ریفرنس پر نوٹس جاری کر دیئے، چیف جسٹس پاکستان نے کہا صدارتی ریفرنس پر سماعت 24 مارچ کو کریں گے۔

 


شیئر کریں: