Chitral Times

Oct 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

 جے یو آئی نے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر سات ارکان کی بنیادی رکنیت ختم کردی 

شیئر کریں:

 جے یو آئی نے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر دروش کے سات ارکان کی بنیادی رکنیت ختم کردی

چترال (نمایندہ چترال ٹایمز) جمعیت علمائے اسلام نے آنے والی بلدیاتی انتخابات میں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد کرنے پر تحصیل دروش کے سات ارکان کی بنیادی رکنیت ختم کردی جن میں سابق رکن ضلع کونسل مولانا انعام الحق اور ضلعی سالار اعلیٰ صلاح الدین طوفان بھی شامل ہیں۔ جے یو آئی دروش کے جنرل سیکرٹری قاری کاشف جمال کے دستخط سے جاری شدہ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ جے یو آئی کے سات ارکان مولانا انعام الحق، صلاح الدین طوفان، قاضی قسور اللہ قریشی، حافظ شفیع اللہ، مولانا بشیر اکبر، قاری محمد شفیق، نوید اقبال کو پارٹی کے نظم وضبط پامال کرتے ہوئے پارٹی کو شدیدنقصان پہنچانے پر شوکاز جاری کرتے ہوئے انہیں دو دن کی مہلت دی گئی تھی لیکن انہوں نے ایک ہفتے گزرنے کے بعد بھی جواب دینا گوارا نہیں کیا اور نہ ہی اپنی منفی سرگرمیوں سے باز آئے۔

نوٹفیکیشن میں مزید کہا گیا کہ ا س بنا پر ان سات ارکان کی پارٹی کی بنیادی رکنیت سے اخراج ناگزیر ہوگئی تھی جوکہ کھلم کھلا پارٹی کی بغاوت پر اتر آئے اور جے یو آئی کے نامزد امیدوار برائے تحصیل چیرمین شپ کے خلاف کام کی رفتار مزید تیز کردی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دروش میں جے یو آئی کی تحصیل نظم کی اکثریت نے بلدیاتی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے ساتھ دروش تحصیل کی لیول پر اتحاد قائم کیا اور دروش میں سابق ممبر ضلع کونسل حاجی شیر محمد کی حمایت کرنے کا اعلان کردیا۔ سابق ضلع ناظم مغفرت شاہ کی سرتوڑ کوششوں سے طے پاجانے والی اس معاہدے کے مطابق جے یو آئی کا یہ ناراض دھڑا تحصیل چترال میں جماعت اسلامی کے امیدوار وجیہہ الدین کی حمایت کریں گے۔ اس گروپ کے ارکان کا دعویٰ ہے کہ پارٹی کے کارکنان کی اکثریت کی حمایت انہیں حاصل ہے۔ اس سے قبل اس اتحاد کی پاداش میں ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں مولانا عبدالشکور سمیت کئی ایک کو پارٹی کی بنیاد ی رکنیت سے محروم کردیا تھا۔

جے یو آئی کے لیڈر قاضی قسور اللہ قریشی سے رابطہ کرنے پر بتایاکہ وہ اب بھی بدستور جے یوآئی کے رکن ہیں جبکہ موجودہ کابینہ کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے کیونکہ تحصیل دروش کا امیر محمد یحیٰ جے یو آئی کی بنیادی رکنیت خود ہی نہیں رکھتے جس کی وجہ سے ان کی کوئی دستوری اور آئینی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ دروش کے 98فیصد کارکن اور ارکان ان کے ساتھ ہیں اور موجودہ عبوری کابینہ کی خود کوئی حیثیت ہی نہیں تو وہ دوسروں کے خلاف کاروائی کرنے کے مجاز کیسے ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے الیکشن کے بارے میں کہاکہ ان کے نامزد کردہ امیدوار حاجی شیر محمد کی کامیابی کا90فیصد سے ذیادہ امکان ہے۔

 


شیئر کریں: