Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مفتی حنیف عبد المجید ایک تاریخ ساز شخصیت – تحریر : محمد نفیس دانش ۔ شیخوپورہ

Posted on
شیئر کریں:

مفتی حنیف عبد المجید ایک تاریخ ساز شخصیت – تحریر : محمد نفیس دانش ۔ شیخوپورہ

اکیسویں صدی کے بعد اگر دیکھا جائے تو آج کا دور ترقی کی انتہائی منزل پر ہے اور دنیا مزید ترقی کررہی ہے، ہر میدان میں ایک سے بڑھ کر ایک چیز ایجاد ہورہی ہے ۔ ہماری زندگیوں میں اتنی آسائشیں در آئی ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے مگر یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ کیوں نہیں ہورہے، دراصل میرے نزدیک ہمارے ملک میں انحطاط تعلیم کا نہیں بلکہ اخلاقیات کا ہے؛ کیونکہ ہمارے اندر اخلاق برائے نام ہی باقی رہ گیا ہے۔ ہمارے اندر بزرگوں کا احترام رہا، نہ ہی احساس اور ایمانداری کا تو جیسے ہم مفہوم ہی بھول گئے ۔ حلال اور حرام میں فرق کرنا بھی ہمیں اب یاد نہیں رہا۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے درودیوار سے اخلاقی دیوالیہ پن جھلکتا ہے۔ملک میں ہر چیز میں بدعنوانی ، رشوت ، منافقت اور جھوٹ پایاجاتا ہے جومعاشرے کی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ہمارا پورا معاشرہ بے حسی اور لاپروائی کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے ۔ اس سے نکلنا انتہائی مشکل دکھائی دے رہا ہے،لیکن اس نفسا نفسی کے عالم میں دنیا میں کچھ شخصیات ایسی بھی پائی جاتی ہیں،جو تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ اخلاق یافتہ زیادہ ہوتی ہیں اور یہی خوبی ان کو ترقی کی طرف گامزن کرتی ہے، انہی شخصیات میں سے آج آپ کے سامنے میں ایک ایسی شخصیت کا تذکرہ کروں گا جنہوں نے 2006 میں روشنیوں کے شہر کراچی میں مکتب تعلیم القرآن کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کا سب سے بڑا مقصد مساجد، مدارس اور مکاتب قرآنیہ میں ناظرہ قرآن کریم پڑھنے والے بچے اور پڑھانے والے اساتذہ کی تصحیح قرآن مجید کے ساتھ ساتھ اچھا شہری اور اچھا مسلمان بنانے کی فکر تھی ۔اس قافلہ کی ابتدائی شخصیات میں سے عالم با عمل،با وفا حضرت مفتی صادق صاحب ، حافظ ریاض صاحب، شمس الاسلام صاحب اور حافظ رضوان صدیقی صاحب وغیرہکے نام ملتے ہیں جنہوں نے محنت و لگن کے ساتھ ساتھ اپنے اوپر یہ فکر ایسی سنوار کی کہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ خوشبو عصری اداروں میں بھی 2013/14 میں پھیلتی گئی اور پورے پاکستان میں تصحیح قرآن کریم اور تعلیم و تربیت کے حلقے لگنے شروع ہو گئے، معاشرہ میں رہنے والے ہر طبقے پر محنت کرنے کا طریقہ کار علماء کرام کو دن رات سکھایا جانے لگا، ہر طبقہ کے لیے الگ الگ کمیٹی تشکیل دی گئی۔
 بالغان پر محنت کرنے کا نصاب و نظام الگ ، مستورات کا نصاب الگ، بچوں کا الگ، اسکولوں میں بھیجنے والے والدین، پڑھنے والے بچے اور پڑھانے والے اساتذہ کی تربیتی ورکشاپ اور افراد سازی کی الگ سے محنت واہ ماشاءاللہ….!
مکتب کی کارگزاری 2021
 مفتی صادق صاحب اپنے بیان میں ماہ دسمبر 2021 کی کارگزاری بیان کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ اس وقت ملک پاکستان میں الحمد للہ
کل معاونین :390
کل مکاتب:6173
کل اساتذہ کرام:11465
کل طلبا :223550
بالغان مکاتب:1193
مستورات :956
اسکول کی تعداد :488
267: کانظام HODT
تجوید حلقہ :263
 ان کے نظام و نصاب اور طریقہ تعلیم و تربیت کو ایک ساتھ دیکھ کر میں کبھی کبھار تو حیرت کی وادیوں میں غوطہ زن ہو جاتا ہوں کہ صرف بچوں پر ہی محنت نہیں بلکہ جو اہم تین طبقے (بچے، والدین، اساتذہ کرام) ہیں ان تینوں طبقوں پر بہت ہی اچھے انداز میں محنت ہو رہی ہے. ان شاء اللہ ایک نا ایک دن ان حضرات کی محنت ضرور رنگ لائے گی اگرچہ اس کے لیے ہمیں نصف صدی تک انتظار اور صبر کرنا پڑےگا.
مفتی صاحب کی شخصیت کا تعارف کروانا تو سورج کے سامنے شمع جلانے کے مترادف ہے، میری مراد مصنف، محقق علماء کرام کے مربی حضرت مولانا مفتی عبد المجید حنیف صاحب ہیں، جنہوں نے اپنے خلوص اور مشائخ کی دعاؤں کے سبب بہت کم عرصے میں اپنے کام کا تعارف کروایا اور اپنا نام بنا لیا اور بڑی، بڑی پریشانیوں کے سامنے پہاڑ کی طرح مقابلہ کرتے ہوئے آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دے دیا کہ
ﺍﺭﺍﺩﮮ ﺟﻦ ﮐﮯ ﭘﺨﺘﮧ ﮨﻮﮞﻧﻈﺮ ﺟﻦ ﮐﯽﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﮨﻮ
طلاطم ﺧﯿﺰ ﻣﻮﺟﻮﮞ ﺳﮯ ﻭﮦ ﮔﮭﺒﺮﺍﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
اس ادارہ سے میری مستقل وابستگی 2019 میں بطور معاونت کے ہوئی تھی میں اپنی آنکھوں اسی وقت سے مشاہدہ کر رہا ہوں کہ حضرت مفتی حنیف عبد المجید صاحب اخلاص و احتساب، صبروتوکل، زہد و استغناء، ایثار وسخاوت، ادب و حیا، خشوع وخضوع کا پیکر ہیں اور ان اعمال کی ہمہ وقت دعوت وتبلغ بھی کرتے ہیں ……!!
 دنیا پر آخرت کو ترجیح، رضائے الہی اور دیدار کا شوق، نبی اکرم سے محبت کا جذبہ، اعتدال فطرت، سلامتی ذوق، مخلوق پر رحمت و شفقت، کمزوروں کے ساتھ ہمدردی تحمل و بردباری تواضع وخاکساری شجاعت و بہادری خدا کے لیے محبت و نفرت اور اعتدال پسندی کی راہیں ہموار کرنے کا پوری انسانیت کو درس دیتے ہیں ……!!!
سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ برا معاملہ کرنے والے سے عفو درگزر کرنا اور پھر اس کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کی عادت بن الینا اللہ اکبر ..!!
 اپنے شاگردوں اور متعلقہ افراد کو بھی یہی سکھاتے ہیں کہ
 عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
بلکہ پورے عالم اسلام کو یہ دعوت عام دیتے ہیں کہ
یہی آئن فطرت ہے یہی اسلاب فطرت ہے
جو ہے راہِ عمل میں گامزن، محبوب فطرت ہے
اس مارچ کے مہینے میں ایک ماہ کے لیے تجویدی کورس کے لیے مکتب کے مرکزی سنٹر D_4 کراچی میں آیا ہوں اور بہت ہی قریب سے مشاہدہ کر کے ان کی پوری زندگی کے مقصد کا ما حاصل میں نے یہی نوٹ کیا ہے کہ
قدم ہیں راہ الفت میں تومنزل کی ہوس کیسی
یہاں تو عین منزل ہےتھکن سے چور ہو جانا
انہوں نے اپنے اکابر کی دعاؤں سے آج یہ ثابت کر دیا ہے کہ
وہ کونسا عقدہ ہے جو واہ ہو نہیں سکتا
ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
اگر میں یوں کہوں تو یہ مبالعہ نہیں ہوگا کہ ان کے بارے میں تو اکثر علماء کرام یہ حسن ظن رکھتے ہیں کہ
 فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا
بڑی جناب تیری،فیض عام ہے تیرا
 نہاں ہے تیری محبت میں رنگ محبوبی
 بڑی ہے شان ، بڑا احترام ہے تیرا
امیر محترم تو علم و عمل کا گہوارہ ہیں ، دین و یقین کا شہ پارہ ہیں ، فہم و ذکا ء کا مہکارہ ہیں ، حق وبیان کا ناقارہ ہیں ، نور و ضیا کا فوارہ ہیں ، رشد و ہدیٰ کا مینارہ ہیں اور اخلاق و رضا کا امنگ پارہ ہیں ….!
یقین مانیے کہ امیر محترم ایسی شخصیت ہیں ‏‎ جنہوں نے عمر بھر کسی کو نہ اپنے قلم، نہ زبان أور نہ ہی ہاتھ سے ایذا رسائی دی ہے ، ہمیشہ شریعت کے اصولوں کے مطابق حق بات کو حق انداز میں کہنے کا اپنا وتیرہ بنا رکھا ہے.
اس معاشرہ میں مفتی حنیف عبد المجید صاحب جیسے چند گنے چنے لوگ ہمارا آخری اثاثہ ہیں. خدار إن کی قدر پہنچانے اور حفاظت کیجیے گا کیونکہ ایسی شخصیات صدیوں بعد ہی پیدا ہوتی ہیں ۔
تیرا گناہ ہے اقبال، مجلس آرائی
اگرچہ تو ہے مثال زمانہ کم پیوند

شیئر کریں: