Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہندوکش کے دامن سے چروائے کی صدا –  کشتی ڈوبنے لگلی ہے – تحریر عبدالباقی چترالی

شیئر کریں:

ہندوکش کے دامن سے چروائے کی صدا –  کشتی ڈوبنے لگلی ہے – تحریر عبدالباقی چترالی

وہ زندگی میں پہلی بار کشتی میں سوار ہوکر سمندری سفر کا آغاز کیا ۔تو اسے راستے میں آنے والے حالات واقعات کا علم نہیں تھا ۔تاہم تجربہ کار ملاخوں کی موجودگی میں کپتان کو منزل تک پہنچنے کا یقین تھا ۔کیونکہ ملاخ سمندری راستوں اور مشکل ظوفانی حالات کا مقابلہ کرنے کی وسیع تجربہ رکھتے تھے ۔کچھ ہی عرصہ خوشگوار سفر طے کرنے کے بعد ملاخون اور کپتان میں کسی بات پر اختلافات پیدا ہوگئے ۔کپتان کو ملاخوں پر اعتماد نہیں رہا ۔کپتان ملاخوں کو اچانک کشتی کا راستہ بدلنے کا حکم دیا ۔ملاخوں نے بہتر طور پر کپتان کو سمجھنے کی کوشش کیئے۔کہ جس راستے پر آپ کشتی کو لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں یہ راستہ زیادہ خطرناک ہے ۔ایسے راستے میں سمندری طوفان آنے کا خدشہ ہے ۔اور بحری قزاقوں کے حملے کا بھی امکان ہے ۔جس راستے پر ہم اس وقت چل رہے ہیں ہم بآسانی منزل تک پہنچ جائیں گے ۔

لیکن کپتان ملاخوں کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے حکم پر قائم رہا۔ملاخوں نے آنے والے مشکل حالات کا احساس کرتے ہوئے کشتی کپتان کے حوالے کر کے خود کشتی سے اتر گئے۔کپتان کافی سفر طے کرنے کے بعد کشتی کو لے کر ایسے جگہ پر پہنچ گیا جہاں سے نہ آگے سفر جاری رکھا جا سکتا ہے اور کشتی کو واپس لایا جاسکتا ہے ۔سمندر کی موسم بدلنے میں دیر نہیں نگلی اور طوفان آنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ۔تب کپتان کو ملاخوں کے مشورے یاد آنے لگے اور کپتان کو کشتی ڈوبنے کا یقین ہو گیا ۔

اس تنہائی اور پریشانی کے عالم میں کشتی کو بچانے کے لئے کوئی مددگار موجود نہیں تھے ۔کشتی میں موجود چوہوں کو کشتی ڈوبنے کا یقین ہو گیا اس لئے وہ کشتی سے نکل کر سمندر میں چھلانگ لگا رہے ہیں ۔کپتان ان چوہوں کو گھبرانا نہیں کا درس دے رہا ہے ۔مگر چوہے کپتان کے نصیحت کو نظر انداز کرتے ہوئے سمندر میں کود رہے ہیں ۔شاید ان چوہوں کو کشتی میں بلی کی موجودگی کا احساس ہو گیا ہے اس لئے ان کو جان بچانے کی فکر لاحق ہو گئے ہے۔اس تنہائی اور پریشانی کے حالات میں کپتان کشتی کو بچانے کی اپیل کر رہا ہے ۔جو کہ صدا بصحرا ثابت ہو گا ۔کیونکہ کپتان نے اپنے اقتدار کے دوران پارٹی کارکنوں اور ووٹروں کو بدترین مہنگائی ، بےروزگاری اور محرومیوں کے سوا کیا دیا ہے ؟ جو اس مشکل کی گھڑی میں کپتان کی کشتی کو بچانے آئیں گے ۔

اس غریب دشمن حکومت سے غریب عوام نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔
شاید ملک کے غریب مظلوم عوام کی صدآیان بارہ گاہ الہیٰ میں پہنچ گئے ہیں ۔
ظالم حکمرانوں کے زوال کے اثرات نمودار ہونا شروع ہو گیے ہیں۔

اللّٰہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے جو اللّٰہ دینے پر قادر ہے وہ چھین لینے پر بھی قادر ہے ۔ وہ برسوں کا حساب منٹوں میں برابر کر دیتا ہے ۔
اب کشتی کے ملاح دور ساحل میں بیٹھ کر کشتی ڈوبنے کا نظارہ کر رہے ہیں ۔ملاخوں کو بھی کشتی ڈوبنے کا یقین ہو گیا ہے ۔

 


شیئر کریں: