Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایک ہفتہ میں 55 گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرنے کی وجہ سے شرح اموات میں اضافہ کا خدشہ، ڈبلیو ایچ او

Posted on
شیئر کریں:

اسلام آباد(سی ایم لنکس)اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او)نے کہا ہے کہ ایک ہفتہ میں 55 گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرنے کی وجہ سے شرح اموات میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ دوران ہفتہ زیادہ کام کرنے کے نتیجہ میں دماغی امراض اور سٹروک کی شرح میں 35 فیصد جبکہ دل کے امراض کی شرح میں 17 فیصد اضافہ سے اموات کی شرح بڑھ سکتی ہے۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران کام کے اوقات کار میں اضافہ اور تبدیلیوں کے رجحانات پرکی جانے والی تحقیق کے نتائج کے مطابق ایک ہفتہ کے دوران 55 گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرنے کی وجہ سے صحت کے حوالہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ ہم سب کو طویل دورانیہ کے اوقات کار کے حقائق سے آگاہی کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے اموات کی شرح بڑھ سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک ہفتہ میں 55 گھٹنے یا اس سے زیادہ کام کرنے کے نتیجہ میں سٹروک اور دماغی امراض کی شرح میں 35 فیصد جبکہ دل کی بیماریوں کی شرح میں 17 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ 2016کے دوران طویل دورانیہ تک کام کی وجہ سے سٹروک کے باعث 3 لاکھ 98 ہزار جبکہ دل کے امراض سے 3 لاکھ 47 ہزار افراد زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔اسی طرح 2000 تا 2016کے دوران زیادہ کام کے نتیجہ میں دل کے امراض سے ہونے والی اموات کی شرح میں 42 فیصد اور سٹروک سے مرنے والوں کی شرح میں 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں مجموعی آبادی کا 9 فیصد حصہ طویل دورانیہ کیلئے کام پر مجبور ہے جو باعث تشویش ہے۔ عالمی برادری کو چاہئے کہ طویل دورانیہ کے اوقات کار میں کمی کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کو یقینی بنائے تاکہ شرح اموات میں کمی لائی جا سکے۔


شیئر کریں: