Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اگلے مالی سال کے آغاز سے تمام سرکاری محکموں میں ای پروکیورمنٹ سسٹم رائج کرنے کا فیصلہ،

شیئر کریں:

سرکاری ٹھیکوں اور خریداری کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے صوبائی حکومت کا اہم اقدام،
اگلے مالی سال کے آغاز سے تمام سرکاری محکموں میں ای پروکیورمنٹ سسٹم رائج کرنے کا فیصلہ،
ای پروکیورمنٹ سسٹم کے عملی اجراء کے لئے انتظامات کو بروقت حتمی شکل دی جائے، محمود خان

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری ٹھیکوں اور خریداری کے سارے عمل کو ہر ممکن حد تک صاف اور شفاف بنانے کے لئے ایک اہم قدم کے طور پر اگلے مالی سال کے آغاز سے تمام سرکاری محکموں کے ٹھیکوں اور خریداری سے متعلق تمام مراحل اور امور کو آن لائن کرنے کے لئے سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے اس مقصد کے لئے تمام درکار خصوصیات کا حامل جدید طرز کا ایک نیا ای پروکیورمنٹ سسٹم تیار کر لیا ہے جو تمام صوبائی محکموں کی باہمی مشاورت اور سرکاری خریداری کے لئے ان کی مخصوص ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت تمام سرکاری محکموں کے ٹھیکوںاورخریداری کے جملہ امورکو آن لائن کرنے کے لئے ای پروکیورمنٹ سسٹم متعارف کروانے سے متعلق منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا۔ واضح رہے کہ صوبائی حکومت پہلے ہی سے تعمیراتی محکموں میں ٹھیکوں کے لئے ایک محدود پیمانے پر ای بڈنگ اور ای ٹینڈرنگ کا نظام متعارف کراچکی ہے تاہم سرکاری محکموں میں آشیا کی خریداری اور خدمات کے حصول کے لئے روایتی طریقہ کار چل رہا ہے۔ اس ای پروکیورمنٹ سسٹم کے نفاذ سے تمام سرکاری محکموں میں ٹھیکوں کے ساتھ ساتھ آشیا کی خریداری اور خدمات کے حصول کا سارا عمل بھی آن لائن ہوجائے گا جس میں ای ٹینڈرنگ، ای بڈنگ، ای ورک آرڈر، ای پیمنٹ، آن لائن رجسٹریشن اور دیگر امور شامل ہیں۔ نئے مالی سال کے آغاز سے صوبائی حکومت کے تمام سرکاری محکمے ٹھیکوں اور خریداری کے سارے معاملات ای پروکیورمنٹ سسٹم کے تحت انجام دینے کے پابند ہونگے جس کے بعد ای پروکیورمنٹ سسٹم کو صوبائی حکومت کے خود مختار اداروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔

سرکاری ٹھیکوں اور خریداری کے عمل میں زیادہ سے زیادہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے ای پروکیورمنٹ سسٹم کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا ہے کہ اس نظام کے ذریعے سرکاری ٹھیکوں اور خریداری کے عمل میں بدعنوانی کے راستوں کو بند کرنے میں بہت زیادہ مدد ملے گی، تعمیراتی کاموں کے معیار کو یقینی بنایا جاسکے گا اور اس طرح عوام کا پیسہ صحیح معنوں میں عوام پر خرچ ہوسکے گا۔ جملہ سرکاری معاملات میں شفافیت اور میرٹ کو اپنی حکومت کی گڈ گورننس اسٹریٹجی کا سب سے اہم جز قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہ صرف مکمل شفافیت پر یقین رکھتی ہے بلکہ اس مقصد کے لئے شروع دن ہی سے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور ان اقدامات کے خاطرخواہ نتائج سامنے آرہے ہیں۔ نئے ای پروکیورمنٹ سسٹم کو اس سلسلے میں صوبائی حکومت کا ایک بڑا اقدام قرار دیتے ہوئے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اگلے مالی سال کے آغاز سے تمام محکموں میں اس سسٹم کے عملی اجراءکے لئے تمام تر تیاریوں اور لوازمات کو حتمی شکل دی جائے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ وزیر اعلی پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکریٹری خزانہ کے علاوہ دیگر متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ نئے ای پروکیورمنٹ سسٹم کی خصوصیات کے بارے میں اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس سسٹم کے تحت تمام قسم اور نوعیت کے پروکیورمنٹس اور پروکیورمنٹ کے تمام مراحل کا احاطہ کیا گیا ہے جن میں کنٹریکٹرز، سپلائیرز اور کنسلٹنٹس کے لئے آن لائن رجسٹریشن اور ڈیش بورڈ کی سہولت، پروکیورمنٹ کمیٹیوں کی تشکیل، آن لائن بڈ ڈیٹا شیٹ کی تیاری، بڈنگ ڈاکومنٹس کی آن لائن دستیابی، آن لائن بڈز ایوالویشن، ٹیکنیکل اور فنانشل بڈز آن لائن جمع کرانے کی سہولت، آن لائن سکیورٹی جمع کرنے کی سہولت، کامیاب بولی دہندگان کو آن لائن کنٹریکٹ ایوارڈ کرنے کی سہولت، آن لائن شکایات کے اندراج کی سہولت اور دیگر شامل ہیں۔

بعدازاںای پروکیورمنٹ سسٹم کے بارے میں میڈیا کو ربریفنگ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے سرکاری محکموں میں شفافیت کو یقینی بنانے کےلئے وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق اور وزیراعلیٰ محمود خان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ای پروکیورمنٹ سسٹم کا اجراءکیا جارہا ہے جو سرکاری ٹھیکوں اور خریداری کے عمل میں شروع سے لیکر آخر تک ایک خود کار نظام کے تحت کام کرے گااور یہ سسٹم صوبے میں تمام پبلک پروکیورمنٹ کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ای پروکیورمنٹ سسٹم کے تحت خریداری کے سارے عمل کو کاغذوں اور فائلوں سے ڈیجیٹل سسٹم پر منتقل کیا جائے گا اور اس میں انسانی مداخلت کو ممکنہ حد تک ختم کردیا جائے گا۔ محمد علی سیف نے مزید بتایا کہ اس نئے سسٹم سے تمام پبلک پروکیورمنٹس میں شفافیت آئے گی، جعلی سکیورٹی ڈپازٹس اور دستاویزات میں رد و بدل کا کوئی خدشہ نہیں رہے گا اور تمام بولیوں کی پہلے سے متعین معیار کے مطابق خود کار طریقے سے جانچ پڑتا ل ہوگی۔

سوات موٹر وے فیزٹو منصوبے کے حوالے سے مقامی لوگوں کے تمام جائز تحفظات کو دور کیا جائیگا۔وزیراعلیِ

سوات موٹر وے فیزٹو منصوبے کے حوالے سے مقامی لوگوں کے تمام جائز تحفظات کو دور کیا جائیگا۔وزیراعلیِ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ سوات موٹر وے فیزٹو منصوبے کے حوالے سے مقامی لوگوں کے تمام جائز تحفظات کو دور کیا جائیگا اور آبادی، زرعی زمینوں اور باغات کوپہنچنے والے ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے جبکہ منصوبے پر عملدرآمد کے نتیجے میں کٹنے والے ایک درخت کی بجائے پانچ درخت لگائے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سوات قومی جرگہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،جس نے کمشنر ہزارہ ڈویژن ظہیر الاسلام کی سربراہی میں ان سے ملاقات کی اور انہیں سوات موٹر وے فیز ٹو کے نقشے سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوات موٹر وے فیز ٹو علاقے کے اجتماعی مفاد کا منصوبہ ہے اور سوات و ملحقہ علاقوں کی ترقی کا دارومدار اس منصوبے پر ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ علاقے میں سیاحت کے فروغ اور ٹریفک کے مسائل کو مستقل بنیادوںپر حل کرنے کےلئے یہ ایک ناگزیر منصوبہ ہے اور ہم سب نے مل کر اس منصوبے کو کامیاب بنانا ہے۔

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبائی حکومت کی ٹیکنیکل ٹیم جرگے کے ساتھ مل بیٹھ کر مروجہ قواعد و ضوابط کے دائرے میں قابل عمل تجاویز پیش کرے تاکہ اس منصوبے پر عملدرآمد سے مقامی آبادی کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سوات موٹر وے فیز ٹو منصوبے پر عملدرآمد کے لئے انوائرمینٹل ایمپکٹ اسسمنٹ پر کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کا تعلق اسی مٹی سے ہے اور وہ کسی بھی صورت کسی کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس موقع پر جرگے کے شرکاءنے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوات موٹر وے علاقے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کا اہم منصوبہ ہے اور قومی جرگہ اس منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہے۔جرگے نے سوات کے لئے اس اہم منصوبے کی منظوری پر وزیراعلیٰ محمود خان کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ ہر حال میں مکمل ہونا چاہئیے تا ہم مقامی آباد کے منصوبے کے نقشے سے متعلق کچھ تحفظات ہےں جنہیں دور کیا جائے۔ قومی جرگے نے ملاقات کے لئے وقت دینے اور تحفظات کو دور کرنے کے لئے احکامات جاری کرنے پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا اور علاقے کے وسیع تر مفاد میں منصوبے کو کامیاب بنانے کے لئے اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو اعجاز انصاری، ڈپٹی کمشنر سوات جنید خان، ایم ڈی پی کے ایچ اے اور محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔


شیئر کریں: