Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بزمِ درویش۔ سلام ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on
شیئر کریں:

بزمِ درویش ۔ سلام ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

اِس بار زینب دو سال بعد پاکستان آئی تھی وہ اپنے خاوند اوردو بچوں کے ساتھ پچھلے دس سالوں سے متحدہ عرب امارات میں کامیاب خوشگوار زندگی گزار رہی تھی جب بھی پاکستان آتی مُجھ سے ملنے ضرور آتی آج بھی اپنے دو ننھے منے بچوں کے ساتھ آئی تھی مجھے دیکھتے ہی زینب کے چہرے پر قوس قزح کے رنگ بکھر جاتے میری آنکھیں بھی اُس کا چہرہ دیکھ کر روشن ہو جاتیں میں نے حسب معمول اُس کے سر پر ہا تھ پھیرا کیونکہ وہ اِس طرح ادب و احترام کا مجسمہ بن کر سر جھکا کر کھڑی ہو جاتی کہ میرے باطن سے پیار شفقت کے فوارے ابلنا شروع ہو جاتے ہیں اُس کے سر پر ہاتھ پھیر ا اور محبت سے لبریز لہجے میں سوال کرتا بیٹی تم خوش ہو نا؟ تو وہ عقیدت سے بولتی جی باباجان آپ کی دعاؤں سے بہت خوش ہر سانس کے ساتھ اللہ کا شکر اور آپ کو دعائیں دیتی ہوں

خوشی طمانیت سر شاری اُس کے انگ انگ سے پھوٹتی نظر آتی زینب بیٹی کو خوش دیکھ کر میرے قلب و روح بھی کیف کے سمندر میں غوطے لگانے لگتے زندگی نہایت خوبصورت ہو جاتی آج بھی زینب آئی تو ہم نے ڈھیر ساری باتیں کر لی پھر میں نے پوچھا اوکے زینب بیٹی اب تم جاؤ تو وہ مصنوعی غصے سے بولی آپ مُجھ سے جان کیوں چھڑا رہے ہیں میں ہزاروں میل کا سفر کر کے صرف اور صرف آپ سے ملنے آتی ہوں ابھی تو آپ کو جی بھر کر دیکھا بھی نہیں کیسے باپ ہیں آپ بیٹیوں سے اِس طرح کر تے ہیں میں نے نہیں جانا ابھی بہت ساری باتیں تو رہ گئی ہیں آپ لوگوں سے ملیں میں سامنے بیٹھ کر آپ کو دیکھوں گی میں اُن لمحوں کو بہت یاد کر تی ہوں جب سالوں پہلے اپنی خالہ کے ساتھ آپ کے آستانے پر آیا کرتی تھی گھنٹوں بعد باری آتی تھی خالہ بار بار جلدی باری کی ضد کرتی تھیں جبکہ میں زیادہ دیر بیٹھنا چاہتی تھی میں بہانوں سے آپ کے پاس وقت گزارنا چاہتی تھی جبکہ خالہ کے پریشر دینے پر بار ی لے کر چلی جاتی تھی

باباجان آج میرے پاس بہت وقت ہے میرے میاں اپنے کام نپٹاکر مجھے لینے آئیں گے اِس میں ابھی ادھر ہی ہوں آپ کی جان چھوڑنے والی نہیں پھر زینب اپنے دونوں بچوں کے ساتھ جا کر سامنے بینچ پر بیٹھ گئی اُس کے معصوم بچے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے وہ کبھی ایک کے کبھی دوسرے کے پیچھے دوڑ رہی تھی یہ منظر اُس کا اور میرا خواب تھا اُس کو خوش دیکھ کر مجھے سالوں پہلے کی زینب یاد آگئی جب وہ اپنی خالہ کے ہمراہ پہلی بار میرے پاس آئی تھی شروع میں تو خالہ نے بتایا کہ یہ میری بیٹی ہے شادی نہیں ہو رہی تھی جس کی وجہ سے خالہ اور زینب دونوں پریشان تھیں زینب خوش شکل پڑھی لکھی تھی لیکن پھر بھی رشتہ نہیں ہو رہا تھا جب میرے پاس بھی بہت چکر لگا چکیں تو ایک دن خالہ نے مجھے بتایا کے سر بہت سارے لوگ بلکہ تقریبا جو بھی دیکھنے آتا ہے وہ زینب کو پسند کرلیتا ہے لیکن جب میں ایک بات کرتی ہوں تو سب بھاگ جاتے ہیں وہ راز میں نے اِس خط میں لکھ دیا ہے آپ اِس کو پڑھ لئیجیے گا میں جیسے ہی فارغ ہوا تو خط کو پڑھنا شروع خط میں خالہ نے لکھا تھا کہ زینب میری بیٹی نہیں ہے میری بہن کی ہے جس نے جوانی میں لو میرج کی تھی دونوں خاندان اِس شادی پر بلکل بھی تیار نہیں تھے لیکن دونوں نے شدید محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر شادی کر لی اِس شادی پر زینب کے باپ کے بھائی کو بہت غصہ تھا

شروع میں تو زینب کی امی اور اِس کا باپ گھرسے بھاگ گئے جب زینب پیدا ہوئی تو واپس آئے لیکن زینب کے میاں کے چچا کو بہت غصہ تھا جس کی بیٹی سے زینب کے میاں کی شادی ہو نا تھی اُس نے سازش کر کے دونوں کرائے کے قاتلوں سے قتل کرادیا اُس وقت زینب کی عمر صرف چھ ماہ تھی اب زینب کا اِس بھری وسیع وعریض دنیا میں میرے علاوہ کوئی نہ تھا اب زینب کو میں نے اپنی آغوش میں لے لیا جب زینب سکول میں تھی تو کسی نے زینب کو ساری حقیقت بتا دی زینب بہت شاک سے گزری لیکن میری ممتا محبت سے آہستہ آہستہ نارمل ہو گئی اب سر جب بھی رشتہ فائنل ہو نے لگتا ہے تو میں اُن لوگوں کو زینب کی حقیقت بتا دیتی ہوں یا محلے والے بتا دیتے ہیں تو لوگ انکار کر دیتے ہیں خاندان والے بھی زینب کو اچھوت سمجھتے ہیں زینب پڑھی لکھی خوبصورت ہے لیکن والدین کی محبت آسیب بن کر آج بھی زینب کا پیچھا کر رہی ہے سر آپ کو ساری حقیقت بتا دی ہے اب آپ دعا کریں کہ زینب کا رشتہ جلدی اچھی جگہ ہو ں جائے خط میں خالہ نے زینب کی دکھ بھری داستان بیان کر دی تھی اگلی بار جب زینب آئی تو میں نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور میٹھے لہجے میں بو لا زینب آج سے تم میری بیٹی ہو میں ہر حال میں ہر مشکل میں تمہاراساتھ دوں گا یہ میرا مو بائل نمبر ہے اب تم ہر بات مُجھ سے شئیر کر سکتی ہو

اِس طرح میرا زینب سے رشتہ استوار ہوا اِسی دوران میرے پاس ایک لڑکا آیا کر تا تھا جس کے والدین وفات پاچکے تھے اُس نے شادی کی تو بیوی بے وفا نکلی اُس کو چھوڑ کر اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ گئی تو بہت دل گرفتہ ڈپریشن میں میرے پاس آیا کہ میرا محبت سے یقین اٹھ گیا ہے اب میں نے اپنی زندگی خدا کے عشق میں گزارنی ہے میرے ساتھ چند مہینے گزارنے کے بعد جب میرے بہت قریب ہو گیا تو ایک دن میں نے اُس سے کہا تم پڑھے لکھے ہو اچھی نوکری مل سکتی ہے کیوں نہیں کرتے تو بو لا سر کس کے لیے پیسے کماؤ تو میں نے کہا شادی کرلو تو بولا مجھے عورت ذات سے نفرت ہے مجھے کسی پر اعتبار نہیں ہے تو میں نے کہا مُجھ پر اعتبار ہے تو بو لا آپ پر پورا اعتماد ہے تومیں نے زینب کی ساری بات بتا کر کہا اِس سے شادی کر لو پھر میں نے زینب سے ملا بھی دیا دو چار ملاقاتوں کے بعد ہی لڑکا مان گیا تو زینب کی شادی ہو گئی شادی کے بعد دونوں متحدہ عرب امارات شفٹ ہو گئے ایک سال بعد دونوں آئے تو اولاد کی نعمت سے سرفراز ہو چکے تھے لڑکا بہت خوش تھا مجھے ملا اور بولا سر آپ نے میری زندگی کو جنت بنا دیازینب وفادار سگھڑ لڑکی ہے جس نے میری ویران زندگی میں جنت کے رنگ بھر دئیے ہیں

اب جب بھی دونوں پاکستان آتے ہیں تو زینب ایک ہی بات کرتی ہے با با جان میرا اِس بھری دنیا میں کوئی نہیں میں یتیم تھی ساری زندگی بے آسرگی میں گزاری آپ کے پاس آنے کے بعد اللہ نے مجھے باپ کی شفقت پھر میاں کی شکل میں محبت کر نے والا انسان دیا مجھے اللہ تعالی نے جو شاندار زندگی دی ہے اِس میں آپ کی دعائیں شامل ہیں زینب آج بھی دعائیں لینے اور شکرانے کے طور پر آئی تھی میں زینب کو دیکھ دیکھ کر نہال ہو رہا تھا اور خدائے لازوال کا شکر گزار کہ وہ عظیم رب کس طرح ہمیشہ مُجھ فقیر پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے مُجھ سیا ہ کار کی وجہ سے لوگوں میں خوشیاں بانٹتا ہے اِسی دوران زینب کا خاوند آگیا تو میں نے اُس کا کان پیار سے پکڑا اور بولا میری بیٹی کو کبھی تنگ کیا تو تیری خیر نہیں تو وہ بیچارہ ادب سے جھک کر کہنے لگا جناب مُجھے پتہ ہے زینب آپ کی بیٹی ہے تو میں بھی تو آپ کا بیٹا ہوں جو کبھی آپ کو شرمندہ نہیں کرے گا۔

 


شیئر کریں: