Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلی محمود خان کا دورہ کوہاٹ،اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح – تحریر: زار ولی،کاشف ملک

شیئر کریں:

وزیراعلی محمود خان کا دورہ کوہاٹ، اربوں روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح

تحریر: زار ولی، کاشف ملک

صوبائی حکومت جنوبی اضلاع کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، محمود خان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے گزشتہ روز ضلع کوہاٹ کا ایک روزہ دورہ کیا جہاں پر انہوں نے مختلف شعبہ جات میں تقریباً دو ارب روپے کی لاگت سے مکمل شدہ متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا، جن میں کوہاٹ سپورٹس کمپلیکس ، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالجز بلی ٹنگ اور استرزئی، ریسکیو سب اسٹیشن شکر درہ، 32 کلومیٹر طویل جواکی روڈ کی کشادگی، ٹائپ ڈی ہسپتال جواکی، 6.5 کلومیٹر عباس چوک تا درہ ٹنل سڑک کی بحالی،گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول نمبر 4 کے علاوہ دیگر منصوبے شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے نو قائم شدہ تحصیل گمبٹ کے لئے عمارت کی تعمیر کے منصوبے کا سنگ بنیاد بھی رکھا جو 29 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے احساس پروگرام کے تحت ضلع کوہاٹ کے مستحق خاندانوں میں احساس کفالت کارڈز کی تقسیم کا اجراءبھی کیا جس کے تحت کوہاٹ کے ہزاروں خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

chitraltimes cm kpk mahmod khan kohat visit 3
وزیراعلیٰ نے 26 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے کھیلوں کی جدیدسہولیات سے آراستہ کوہاٹ سپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کیا جو کوہاٹ کے نوجوانوں کے لئے موجودہ حکومت کا ایک تحفہ اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے کے لئے ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ مذکورہ سپورٹس کمپلیکس میں کھیلوں کی دیگر سہولیات کے علاوہ سوئمنگ پول، جاگنگ ٹریک ، جمنازیم ، ہاکی ٹرف اور کلائمبنگ وال بھی نصب کئے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ نے 32 کلومیٹر طویل جواکی گوزدرہ سڑک کی کشادگی کے منصوبے کا افتتاح بھی کیا ہے جو 83 کروڑ روپے کی خطیر لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔ مذکورہ سڑک کی چیدہ چیدہ خصوصیات پر نظر ڈالی جائے تو سڑک کی مجموعی لمبائی 32 کلومیٹر ہے جس کی بلیک ٹاپ چوڑائی 6 میٹر، ڈرین کی لمبائی 8 کلومیٹر جبکہ 12 کلومیٹر حفاظتی دیوار بھی تعمیر کی گئی ہے اسی سڑک پر ایک پل بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ یقینا اس منصوبے سے شہریوں کو آمد و رفت کی سہولیات میسر آنے کے علاوہ شہریوں کا وقت بھی بچت ہوگا اور ٹریفک کے ہموار بہاو ¿ کو یقینی بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ محمود خان نے حال ہی میں بحال کی گئی ساڑھے چھ کلومیٹر عباس چوک تا درہ ٹنل سڑک کا بھی افتتاح کیا جبکہ یہ منصوبہ ساڑھے 22 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔ ان منصوبوں کے علاوہ محمود خان نے کوہاٹ میں دو گرلز ڈگری کالجز کا بھی افتتاح کیا جن میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج بلی ٹنگ اور استرزئی شامل ہیں۔ یہ دونوں منصوبے 44کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے مکمل کئے گئے ہیں۔ڈگر کالج استرزئی 23کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے جس میں دو فلورپر مشتمل اکیڈیمک بلاک، سٹوڈنٹس ہاسٹل، ایگزامنیشن ہال، لیکچرر ہاسٹل، کیفٹیریا سمیت دیگر ضروری تعمیر ات شامل ہیں۔

chitraltimes cm kpk mahmod khan kohat visit 4

اس کے علاوہ مذکورہ کالج میں سٹوڈنٹس کے لئے مختلف کھیلوں کی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہےں۔ اسی طرح ڈگری کالج بلی ٹنگ 21 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے اور اس کالج کو تمام سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج درہ آدم خیل میں 9 کروڑ روپے کا تعمیراتی کام کیا گیا ہے جس میںآڈیٹوریم ہال، ہاسٹل بلڈنگ کی تعمیر اور سولرائزیشن وغیرہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں دو کروڑ 80 لاکھ روپے کی لاگت سے گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 4 کو ہائیر سیکنڈری میں اپگریڈ کیا گیا ہے۔ ان منصوبوں کی تفصیل بتانے کا مقصد قارئین کے گوش گزار کرانا ہے کہ اگر ایک طرف صوبائی حکومت صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کے دعوے کر رہی ہے تو دوسری جانب عملی اقدامات بھی اٹھائے جارہے ہیں اگر ہم تعلیم کے شعبے کی بہتری کے بارے میں بات کر یں تو حکومت اس شعبے میں بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے اگر ایک طرف صوبے میں پہلے سے قائم سکولوں اور کالجوں کو درکارسٹاف سمیت دیگر ضروریات کو پورا کیاجارہا ہے تو دوسری تو دوسری طرف نئے سکولوں اور کالجوں کے قیام کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ خوش آئند بات تو یہ ہے کہ حکومت صوبے کے تمام اضلاع میںآبادی اور ضروریات کے مطابق سکولز و کالجز تعمیر کر رہی ہے اور خواتین کے لئے تعلیم کے حصول کے یکساں مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔

chitraltimes cm kpk mahmod khan kohat visit 6

ضلع کوہاٹ میں نئے گرلز کالجز کے قیام کی ضرورت کو کافی عرصے سے محسوس کیا جارہا تھا، جس کوموجودہ صوبائی حکومت نے پورا کرکے کوہاٹ کے عوام کے ساتھ کیا گیا ایک اور وعدہ پوراکردیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اپنے دورے کے موقع پر جن ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا ہے ان میں ریسکیو اسٹیشن شکردرہ بھی شامل ہے۔ مذکورہ ریسکیو اسٹیشن 3 کروڑ 60 لاکھ روپے کی لاگت سے قائم کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت شہریوں کو ریسکیو خدمات کی فراہمی مقامی سطح پر فراہم کرنے کے لئے تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر ریسکیو اسٹیشنز قائم کرنے کے لئے اقدامات کررہی ہے جو قابل ستائش ہے اور شکر درہ میں ریسکیو اسٹیشن کا قیام اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کوہاٹ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی اضلاع کے لئے اربوں روپے مالیت کے متعدد میگا منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے اور ان اضلاع کو ترقی دینے اور لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے 276 ارب روپے مالیت کا پشاور ڈی آئی خان موٹروے منصوبہ شروع کر رہے ہیں جس کی تکمیل سے ان اضلاع کے لوگوں کی تقدیر بدل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پشاور ڈی آئی خان موٹر وے سی پیک کا ویسٹرن روٹ بنے گااور تجارت کو خوب فروغ ملے گا۔ محمود خان نے کہا کہ چشمہ رائٹ بنک لفٹ کینال (CRBC)منصوبے پر بھی اسی دور حکومت میں عملی کام کا آغاز کیا جائے گا اور اس کی تکمیل سے جنوبی اضلاع کی لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی کو زیر کاشت لاکر صوبے کی فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حکومت گیس اور تیل کے پیداواری اضلاع کے رائلٹی فنڈزانہی اضلاع کے عوام پر ہی خرچ کر رہی ہے اور اسی رائلٹی کے پیسے سے پیداواری اضلاع میں مختلف سیکٹرز میں ترقیاتی کام کئے جارہے ہیں۔

chitraltimes cm kpk mahmod khan kohat visit 7
اگر ضلع کوہاٹ کے لئے صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ترقیاتی منصوبوں کا سرسری جائزہ لیا جائے تو رواں سال کے ترقیاتی پروگرام میں مختلف شعبوں میں اربوں روپے مالیت کے منصوبے شامل کئے گئے ہیں۔ صحت کے شعبے میں متعدد منصوبے رکھے گئے ہیں جن میں دو ارب روپے سے زائد مالیت کے کوہاٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے قیام کا منصوبہ، ایک ارب روپے کی لاگت سے لیاقت میموریل ہسپتال کی تعمیر نو، 27 کروڑ روپے کی لاگت سے سول ہسپتال شکردرہ کی اپگریڈیشن وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح مواصلات کے شعبے میں دو ارب روپے سے زائد مالیت کے کڑپہ تا شکردرہ 35 کلومیٹر سڑک کی بہتری و بحالی، 1.4 ارب روپے کی لاگت سے گلشن آباد تا جنانا مل سڑک کی بہتری و بحالی اورجنانا مل تا کوہاٹ یونیورسٹی اولڈ بنوں روڈ کی ڈوئیلائزیشن، 1.3 ارب روپے کی لاگت سے 24 کلومیٹر صوبائی ہائی وے کے شیرکوٹ ہنگو سیکشن کی ڈوئیلائزیشن کے علاوہ دیگر اہم منصوبے شامل ہیں۔ آبنوشی کے شعبے میں دریائے سندھ سے ویلج رحمان آباد شکردرہ اور دیگر ملحقہ دیہاتوں کو پانی کی فراہمی کے لئے ڈیڑھ ارب روپے کا منصوبہ شامل کیا گیا ہے جس کی تکمیل سے مذکورہ علاقے میں پانی کی کمی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو جائے گا۔ ضلع کوہاٹ میں کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے درہ آدم خیل میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کا منصوبہ رکھا گیا ہے جس کی تکمیل سے لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ چونکہ ضلع کوہاٹ کا شمار بھی گیس کے پیداواری اضلاع میں ہوتا ہے تو تیل اور گیس کی رائلٹی کی مدمیں کوہاٹ کے لئے 1.3 ارب روپے کی لاگت سے کوہاٹ ایریا ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے نام سے ایک منصوبہ ترقیاتی پروگرام میں رکھا گیا ہے جس کے تحت مختلف شعبوں میں ترقیاتی اسکیموں پر کام جاری ہے۔

chitraltimes cm kpk mahmod khan kohat visit 11

chitraltimes cm kpk mahmod khan kohat visit 12

chitraltimes cm kpk mahmod khan kohat visit 14


شیئر کریں: