Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں معدنیات کو دوبارہ بلاک بنانا چترال کے عوام پر سراسر ظلم و زیادتی ہے ۔ سرتاج احمد

Posted on
شیئر کریں:

چترال میں معدنیات کو دوبارہ بلاک بنانا چترال کے عوام پر سراسر ظلم و زیادتی ہے۔سرتاج احمد

 

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) فیڈریشن آف پاکستان چیمبر ز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ریجنل آفس خیبر پختونخوا کے کوارڈینیٹر سرتاج احمد خان کی قیادت میں چترال چیمبر آف کامرس کا ایک وفد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے معدنیات عارف احمد زئی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی ۔ وفد میں چترال چیمبر آف کامرس کے سنئیر نائب صدر لیاقت علی، نائب صدر حاجی فضل محمود، نوشاد علی وغیرہ پر مشتمل تھا۔ اس موقع پر کوارڈینیٹر ایف پی سی سی آئی سرتاج احمدخان نے بتایا کہ گزشتہ آٹھ سالوں سے چترال میں معدنیات کو پندرہ بلاک میں تقسیم کی گئی تھیں اور اس عرصے میں ان پر کوئی بھی کام نہیں ہوا۔ تاہم فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اور چترال کے عوامی نمائندگاں کے مطالبے پر صوبائی حکومت اور محکمہ معدنیات نے بلاک ختم کئے تھے ۔ اس کے صرف چار مہینے بعد بلاک دوبارہ بحال ہوئے ہیں جبکہ محکمہ معدنیات سے چترال میں چھ سو سے زائد لوگوں نے لیزیں کی ہے جس کی وجہ سے حکومت کے خزانے میں کافی رقم بھی جمع ہوئی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ معدنیات کو بلاک بنانا چترالی عوام پر ظلم ہے کیونکہ ستر سالوں میں اب لواری ٹنل کھلنے اور چترال میں سڑکوں پہ کام شروع ہونے سے یہاں کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی کہ اب چترال میں چترال میں کاروبار کے مواقع پیدا ہونگے جس سے بے روزگاری اور غربت میں خاتمہ ہوگا اور چترال کے مقامی سرمایہ کار مائننگ کرکے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں آگئے تھے اور چترال چھوٹے مقامی سرمایہ کاربھی لیز کررہے تھے مگر اب دوبارہ بلاک بنانا چترال کے عوام پر سراسر ظلم و زیادتی ہے ۔اور بلاک ختم کرنے کے بعد معدنیات کے شعبے میں جو سرمایہ کاری شروع ہوئی تھی وہ بھی ختم ہونے کے چانسز ہے ۔ اس موقع پر کواڈینیٹر سرتاج احمد خان اور چترال چیمبر آف کامرس کے سنئیر نائب صدر لیاقت علی خان نے مشیر کو بریفنگ دی اور ان کے سامنے مندرجہ ذیل شرائط رکھے گئے ۔

پہلا یہ کہ فی الفور چترال میں معدنیات کے بلاک ختم کردیا جائے ۔ دوسرا مطالبہ یہ رکھا گیا کہ اگر بالفرض بلاک بنانا ناگزیر ہوگیا ہے تو بلاک بننے سے قبل چترال کے جتنے لوگوں نے لیز کی ہے وہ لیز ان کے نام کر دیا جائے ۔ تیسرا مطالبہ یہ رکھا گیا کہ حکومت بلاک بننے کے بعد چترال کو ملنے والے فوائد اور چترالیوں کے حقوق واضح کردیں کہ اس سے چترال کی کس طرح ترقی ہوگی اور چترالیوں کو کیا کیا فوائد ملیں گے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ معدنیات کے حوالے سے جو کمیٹی بننے جارہی ہے اس میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس کو بھی نمائندگی دی جائے ۔

مشیر معدنیات کا کہنا تھا کہ شروع میں جب بلاک بنائے گئے تھے تو اس وقت معدنیات کے حوالے سے کوئی ڈیٹا ہمارے پاس موجود نہیں تھا اب جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے میں پورے صوبے کے معدنیات کا سروے کیا جارہا ہے۔ ایف پی سی سی آئی وفد نے کے مطالبے پر انہوں نے بتایا کہ چترال کو بھی جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے سروے میں شامل کیا گیا ہے جن کی ذمہ داری چترال سمیت صوبے بھر میں سروے کرکے معدنیات کی نشاندھی کرنا ہے ۔اس مرتبہ بلاک بننے سے معدنیات کے شعبے میں خاطر خواہ سرمایہ کاری آنے کی امید ہے جس سے صوبے میں ترقی کا نیا دور آئے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتا یا کہ بلاک ختم کرنے کے حوالے سے آپ کا مطالبہ جائز ہے جس سے میں بھی اتفا ق کرتا ہوں اور اس حوالے سے میں آپ کے تحفظات سے وزیر اعلیٰ محمود خان اور صوبائی حکومت کو بھی آگاہ کرونگا۔ انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل عوامی مفادات کو دیکھا جائے گا اور اسٹیک ہولڈرز کوبھی اعتماد میں لیا جائے گا۔۔ انہوں نے فیڈریشن آف پاکستان کے مطالبے سے اتفاق کرتے ہوئے اتھارٹی اور بورڈ میں فیڈریشن اور ایسوسی ایشن کے نمائندے کو شامل کیا جائے ۔ اور ساتھ ہی چترال کے حوالے سے جتنے بھی جائز مطالبات اٹھائے گئے ہیں ان پر بھی جلد عمل درآمد ہوگا۔

چترال میں معدنیات کو دوبارہ بلاک بنانا چترال کے عوام پر سراسر ظلم و زیادتی ہے۔سرتاج احمد


شیئر کریں: