Chitral Times

Oct 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

یوسف کی محبت دیدہ یعقوب سے پوچھ – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

Posted on
شیئر کریں:

یوسف کی محبت دیدہ یعقوب سے پوچھ  –  قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شام کے سفر سے واپسی پر حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے دور دراز وادی میں ایک خیمہ دیکھا ، حسب معمول آپ تحقیق ِ احوال کے لیے خیمہ میں گئے تو وہاں ایک بڑھیا نظر آئی ، بغیر بتائے کہ آپ ؓ کون ہیں ، اس سے پوچھا کہ اس کا کیا حال ہے ؟ اس نے شکایت کی ’ حکومت ‘ کی طرف سے خبر گیری نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے اسے تکلیف ہے ۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا کہ تم نے حکومت تک اپنی تکلیف کی اطلاع نہیں پہنچائی تو پھر خلیفہ ؓ کو اتنی دور سے تمہارا حال کیسے معلوم ہوسکتا ہے ؟ ، بڑھیا نے کہا کہ جب ( حضرت) عمر ؓ کو رعایا کا حال نہیں معلوم تو پھر خلافت کیوں کرتا ہے ؟۔ ریاست مدینہ کے خلیفہؓ دوم اس واقعہ کو اکثر دہرایا اور کہا کرتے تھے کہ مجھے اس حقیقت سے اس بڑھیا نے باخبر کیا کہ خلافت ( ریاست ) کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ یہ واقعہ بھی مشہور زمانہ ہے کہ حضرت عمر ؓ جب ریاست مدینہ کی حدود سے تین میل دور قائم خیمہ میں بچوں کے رونے کے حالات سے واقف ہوئے تو اپنی کمر پر سامان لاد کر اس جھونپڑی تک خود اس لیے گئے کہ اس بوجھ کو کوئی قیامت کے دن نہیں اٹھائے گا ، انہیں ؓ خود اٹھانا ہوگا ،ا نہوں ؓ نے بچوں کے لیے خود چولہا جھونکا ، کھانا تیار ہوا ، بچوں نے کھایا پیا اور کھیلنے کودنے لگے ، بچوں کی والدہ جو ان ؓ کو نہیں جانتی تھی ، اس نے کہا کہ امیر المومنین ؓ بننے کے قابل تم ہو ، نہ کہ ( حضرت ) عمر ؓ ۔ امیر المومنین جب بھی اس واقعہ کو یاد کیا کرتے تو آنکھوں میں آنسو ڈبڈیا آیاکرتے ، انہیں تو مطمئن ہوجانا چاہیے کہ سامان ملازم کے بجائے خود ؓ پہنچایا لیکن انہیں ؓ احساس ہوتا کہ جب مجھ ؓ سے پوچھا جائے گا کہ اُن بچوں کو اتنا وقت کیوں بھوکا رہنا پڑا تو کیا جواب دوں گا۔ ان گنت واقعات میں ایک سبق سب کے لیے یکساں ہے کہ ’حکومت‘ کا تاج ہر بوالہوس کے سر پر راست آسکتا ہے لیکن ریاست ( خلافت ) کا بوجھ ہر کندھا نہیں اٹھا سکتا۔

ملک خداداد پاکستان پر شدت پسندی اور دہشت گردی کا کڑا دور پھر گذر رہا ہے اور بد خواہوں نے اس سر زمین کی تباہی کے لیے جو مذموم منصوبے باندھ رکھے ہیں ، انہی خاسر و نامراد کرنے کے سعی جا رہی ہیں۔ درحقیقت بڑھتے سیاسی عدم استحکام نے نہتے عوام سے ان کی جان اور مال کی سلامتی کا گوشہ یا ان کی خوشحالیوں اور ترقیوں کا ذریعہ چھین لیا ہے ۔ مضبوط متحد پاکستان کے ہونے کا امر بجائے خویش کچھ کم گراں قدر نہیں ، دنیا میں امن و سلامتی کی ضمانت اور بہبودیوں اور صرفہ الحالیوں کی کفالت ایک بڑی نعمت ہے اور اس نعمت پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے ، ہمارے نزدیک پاکستا ن اس سے کہیں زیادہ عزیز تر ہے ، کیونکہ اس کے تصورات کے مطابق یہی وہ سرزمین ہے جہاں ہمیں یہ امکانی قوت حاصل ہے کہ ریاست مدینہ کا وہ نظام پھر سے مشہود صورت میں سامنے لے آئیں جو نوع انسانی کی فلاح و سعادت کا موجب ہے اور جس کی عدم موجودگی سے انسانیت اس قدر ٹھوکریں کھا رہی ہے ۔ جب ہم ریاست مدینہ کے اصل امین ؓ کے کردار و افعال کی سیرت کا مطالعہ کرتے وقت اپنے قرب و جوار نظر دوڑاتے ہیں تو جیسے کلیجہ منہ کو آجاتا ہے کہ کیا مصور پاکستان علامہ اقبالؒ نے یہ خواب دیکھا تھا اور 1940میں الہ آباد کے مقام پر موجودہ پاکستان کا’یہ ‘ تصور پیش کیا تھا تو شرم سے نظریں اور گردنیں جھک جاتی ہیں۔

محب الوطن پاکستانیوں کو یقین ہے کہ مملکت کی سرزمین عزیز ترین متاع حیات ہے کہ اسی خاک سے وہ اس شجر کے پھلنے پھولنے کی توقعات رکھتا ہے ۔ پھر یہ حقیقت ہے کہ جو شے جس قدر زیادہ عزیز ہوتی ہے اسی قدر اس کی حفاظت کا فکر زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ مملکت میں شدت پسندی کی تازہ لہر کی کئی بنیادی وجوہ میں ایک وجہ یہ بھی سمجھی جاتی ہے کہ ’ سیز فائر ‘ کے نام پر دہشت گردوں نے اپنی جڑوں کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز رکھی اور اُس سر زمین کے استعمال کو اب بھی اپنی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جہاں چار دہائیوں سے دنیا کی دو سپر پاور کے خلاف مسلح مزاحمت کی گئی ۔ بڑے دکھے دل کے ساتھ جب ہم ملک کی داخلی کمزوریوں کی طرف نشان دہی کراتے ہیں تو چشم پوشی نہ کرنے کا واحد مقصد یہی ہوتا ہے کہ کشتی کا سوراخ صرف ملاحوں کا نقصان نہیں کرتا بلکہ کشتی کے تمام مسافروں کے بھی جان لیوا ہوتا ہے ۔ اس لیے جو مسافر کشتی میں سوراخ ہوتے دیکھ کر اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ اس سے میرا کیا بگڑے گا ، کشتی خراب ہوتی ہے تو نقصان ملاحوں کا ہے تو اس زیادہ نادان کوئی نہیں اور جب صورت یہ ہو کہ وہی مسافر اور ملاح ہوں تو پھر ایسے وقت میں اغماض اور خاموشی نادانی ہی نہیں جرم بن جاتی ہے۔

احساس ہونا چاہیے کہ داخلی کمزوریوں کو تنقیدی نگاہ سے پرکھنا ہے تاکہ مرض کا علاج شروع ہی میں ہوجائے۔ اب بھی کچھ زیادہ دیرنہیں ہوئی۔ تاہم المیہ ہے کراچی سے خیبر اور کوئٹہ سے لاہور ، جہاں جی چاہے چلے جایئے ، سفر میں ، حضر میں ، شہروں میں ، بستیوں میں ، جنگلوں میں ، پہاڑوں میں ، دفاتر میں ، بازاروں میں ، گھرو ں میں ، محلفوں میں ، خلوتوں میں ، جلوتوں میں، ریلوں میں ، لاریوں میں ، سڑکوں ،گلیوں میں ، کسی مقام پر جایئے اور کسی سے بات کیجئے آپ کو بالعموم ہر شخص نالاں و گریاں دکھائی دے گا کہ ظلم ، ناانصافی ، رشوت ستانی ، بددیانتی ، اعزہ پروری ، اقربا نوازی ، بد اخلاقی ، بے حیائی عام ہوگئی ہے ، جہاں بھی انسانوں کا انسان سے واسطہ پڑتا ہے ، کوئی معاملہ بھی اصول اور قانون کے ماتحت طے نہیں پاتا بلکہ فروعی مفادپرستیوں اور شخصی مصلحت کوشیوں کے مطابق فیصل ہوتا ہے۔مراعات کی خرید و فروخت علی الاعلان ہوتی ہے ۔جو چیز علی الاعلان بکتی نہیں وہ اندھیری کوٹھڑیوں میں بلیک مارکیٹ کی سیاہ چادر کے نیچے فروخت ہوتی ہے۔ قومی دولت لٹنے پر کہرام برپا ہونے باوجود پہاڑ کے پہاڑ نہایت صفائی سے ہضم کرادیئے جاتے ہیں ۔یہ باتیں ہر شخص کی زبان پر عام ہے ، بس ارباب ِ اختیار کو اپنے محلات سے نکل کر بڑھیا کی جونپڑی کا رخ کرنا ہوگا ۔


شیئر کریں: