Chitral Times

Oct 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خواتین ڈے – گل عدن 

Posted on
شیئر کریں:

خواتین ڈے -گل عدن

خواتین ڈے پر خواتین کے خلاف لکھنا آپ قارئین کو کس قدر برا لگ سکتا ہے اس کا مجھے اندازہ تو ہے لیکن پھر بھی میں ہمیشہ کیطرح خود کو خواتین کے خلاف لکھنے پر مجبور پا رہی ہوں ۔اسکا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ میں خواتین کے مسائل اور مجبوریوں سے انجان یا انکاری ہوں ۔ہاں البتہ  عورت مارچ کے نام پر پچھلے چند سالوں سے جس طرح خواتین ڈے پاکستان میں  منایا جارہاہے اسے سامنے رکھ کے بحیثیت ایک مسلمان عورت کے میں اس بے ہودہ مذاق کا حصہ نہیں بننا چاہتی ۔ اور ویسے بھی ہمارے حقوق کے لیے لکھنے والے اور ہمارے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلنے والے پاکستان میں بہت زیادہ ہیں لیکن افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ آپ کا سڑک پر آنا بھی آپکو کوئی حق نہیں دلا رہا ۔ اور اسکی وجہ یہ ہے کہ عورت پر ہونے والی ہر ظلم کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہے۔ وراثت میں بیٹی/بہن  کو اسکا حق نہ دینے والے باپ/ بھائی  کی تربیت بھی تو کھبی ایک ماں نے کی ہے ۔ سڑک پڑ کسی غیر عورت کی عزت لوٹنے والے بھی تو کسی مائی کے لال ہیں ۔مینار پاکستان کے وہ چار سو درندے اگر کسی کو یاد ہیں ان کو بھی ماں کے مرتبے پے  فائز عورتوں نے جنم دئے تھے ۔ اگر ملک کے کسی بھی کونے میں عورت پر ظلم ہورہا ہے تو اس میں قصور ہم عورتوں کا ہی ہے ۔ہم نے ہی تفریق کا بیج بویا ہے ۔نانی کی عزت اور دادی کی توہین بھی ایک ماں ہی سکھاتی ہے ۔ اکثر گھروں میں یہ باتیں ہوتی ہیں کے فلاں کے گھر بہو منہوس ثابت ہوئی ہے سننے میں ہمیں یہ باتیں اچھی نہیں لگتیں مگر ایک حدیث سے ثابت ہے کہ نحوست تین چیزوں میں پائی جاتی ہیں ۔عورت-گھر اور گھوڑے میں ۔
اب گھوڑے کے بارے میں فی الحال  بات نہیں کرتے لیکن نحوست آخرکار کس بلا کا نام ہے؟ مجھے جتنا  سمجھ آیا ہے میرے خیال میں ہر وہ عورت جو ضدی اور جھگڑالو طبیعت کی ہو،  بدمزاج ہو ‘ منحوس ہے۔ مہمانوں کو دیکھ کر منہ بنانے والی چاہے ماں ہے بیٹی ہے بہو ہے یا بیوی ہے منہوس ہے ۔رشتوں کو توڑنے والی ‘ بھائی بہنوں کو ایک دوسرے سے بد ظن کرنے والی عورت منحوس ہے ۔  اور جس جس گھر میں ایسی عورت موجود ہے ہر وہ گھر منہوس ہے ۔چاہے ایسا گھر عرب کے پاک سرزمین پر ہی کیوں نہ ہو ۔سوچنے کی بات یہ ہےکہ ہم ہر سال خواتین ڈے پر کاری ہونے والی، وراثت سے محروم ہو نے والی بیٹیوں،جہیز تعلیم تحفظ غرض ہر مسئلے پر تو  آواز بھی   اٹھا سکتے ہیں، مارچ کر سکتے ہیں اور قانون بھی بنا سکتے ہیں لیکن ہر گھر میں ہر روز اپنے ہی برے مزاج کے ہاتھوں نا صرف اپنی بلکہ دوسروں کی زندگی بھی جہنم بنانے والی عورت کے لئے کیا کرسکتے ہیں۔؟؟ اگر 30 فیصد خواتین روایات کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں تو باقی 70 فیصد خواتین تو اپنے ہی مزاج کے برزخ میں جل رہی ہیں ۔اے کاش کے اکیسویں صدی کی  عورت اس برزخ سے خود کو اور اپنے ساتھ چلنے والوں کو رہائی دلا سکے۔

شیئر کریں: