Chitral Times

Oct 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مہنگائی پر قابو پانے کیلئے بہت بڑی سبسڈی دے رہے ہیں، 2 کروڑ خاندان احساس رعایت راشن سکیم سے مستفید ہوں گے.وزیراعظم عمران خان

شیئر کریں:

مہنگائی پر قابو پانے کیلئے بہت بڑی سبسڈی دے رہے ہیں، 2 کروڑ خاندان احساس رعایت راشن سکیم سے مستفید ہوں گے
وزیراعظم عمران خان کا احساس رعایت راشن سکیم کے اجرا کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مہنگائی کی لہر پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں ہے، پاکستان اس وقت بھی سستا ملک ہے، مہنگائی پر قابو پانے کیلئے بہت بڑی سبسڈی دے رہے ہیں، ٹیکس وصولی بڑھی تو پٹرول، ڈیزل اور بجلی سستی کر دی، 2 کروڑ خاندان احساس رعایت راشن سکیم سے مستفید ہوں گے، رجسٹرڈ افراد کو آٹا، گھی اور دالیں 30 فیصد سستی ملیں گی، لڑکیوں کو تعلیم دیئے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا، رواں ماہ کے آخر تک سندھ کے سوا ہر صوبے میں ہیلتھ انشورنس کی سہولت مل جائے گی، کمزور طبقہ کو ترقی کے عمل میں شامل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں احساس رعایت راشن سکیم کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انسانیت کا درد رکھنے والا شخص ہی فلاحی کام کر سکتا ہے، انسانیت کی خدمت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، موجودہ حکومت نے ملک کی تاریخ کا بہت بڑا احساس پروگرام شروع کیا ہے جو مدینہ کی ریاست کے روڈ میپ کا حصہ ہے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ جو طبقہ ترقی میں پیچھے رہ گیا ہے اسے ترقی کے عمل میں شامل کیا جائے،مدینہ کی ریاست میں سب سے پہلے یہی کام کیا گیا تھا اور بیت المال سے غریبوں کی مدد کی جاتی تھی، مدینہ کی ریاست کی بنیاد قانون کی بالادستی، نچلے طبقہ کو اوپر اٹھانا اور مافیاز کو قانون کے تابع بنانے پر رکھی گئی تھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ کورونا سے دنیا میں بہت تباہی ہوئی، لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار بند ہو گئے، امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی غریبوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، دہاڑی دار مزدوروں کی آمدن بند ہو گئی تھی،اس وقت ہم نے احساس پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کی مالی معاونت کی، عالمی بینک نے بھی احساس پروگرام کو دنیا میں تین چار بڑے پروگراموں میں شمار کیا ہے، اکانومسٹ کے سروے میں یہ بتایا گیا کہ پاکستان کی حکومت نے نہ صرف معیشت کو سنبھالا دیا بلکہ لوگوں کو بھی کورونا کے اثرات سے بچائے رکھا۔وزیراعظم نے کہا کہ احساس پروگرام کا 98 فیصد پیسہ خواتین کو مل رہا ہے، خواتین کے حقوق کی یہاں بڑی باتیں کی جاتی ہیں، جب تک لڑکیوں کو تعلیم نہیں دی جاتی اور ماؤں کی مالی معاونت نہیں کی جاتی تاکہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکیں، تب تک ملک ترقی نہیں کر سکتا، تعلیم سب سے زیادہ ضروری ہے، خواندہ ماں ہی سارے خاندان کو آگے لے کر چلتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ سکولوں سے جو بچے باہر ہیں یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے، ماضی میں اس طرف توجہ نہیں دی گئی، اب سکولوں میں داخلے کیلئے لڑکوں اور لڑکیوں کو وظائف دیئے جا رہے ہیں جبکہ لڑکیوں کو تو لڑکوں سے زیادہ وظیفہ ملتا ہے تاکہ وہ تعلیم کی طرف راغب ہوں۔انہوں نے کہا کہ خوراک کی کمی کی وجہ سے بچوں کی صحیح پرورش اور افزائش نہیں ہوتی، اس پر بھی پہلے کسی نے توجہ نہیں دی، اب ہم ہر ضلع میں یہ سکیم شروع کر رہے ہیں، جیسے جیسے ٹیکس وصولی بڑھے گی فنڈز بھی بڑھاتے جائیں گے، اگر ٹیکس وصولی نہ بڑھتی تو پٹرول اور ڈیزل 10 روپے اور بجلی 5 روپے سستی نہ دے پاتے، ہماری پوری کوشش ہے کہ ٹیکس وصولی میں اضافہ ہو تو کمزور طبقہ پر اور زیادہ خرچ کریں، ماں اور بچے کو پوری خوراک ملنی چاہیے تاکہ وہ صحت مند رہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ احساس راشن پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ غربت کے اثرات سے لوگوں کو محفوظ رکھا جا سکے، صرف پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں مہنگائی کی لہر ہے، پاکستان اس وقت سستا ملک ہے، متحدہ عرب امارات اور دبئی جہاں سے تیل نکلتا ہے ان کی نسبت بھی ہم سستا ڈیزل اور پٹرول دے رہے ہیں، پاکستان میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمت برصغیر میں سب سے کم ہے، ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں اور اسی سے مہنگائی ہوتی ہے،موجودہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کیلئے بہت بڑی سبسڈی دے رہی ہے، 2 کروڑ خاندان احساس راشن سکیم سے مستفید ہوں گے، رجسٹرڈ افراد کو کریانہ سٹورز اور یوٹیلٹی سٹورز سے آٹا، گھی اور دالیں 30 فیصد سستی ملیں گی اور اس سے مہنگائی کا بوجھ کم ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ بھی ایک بہت بڑا منصوبہ ہے، سندھ کے سوا ہر صوبے میں رواں ماہ کے آخر تک ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے کی ہیلتھ انشورنس ملے گی اور غریب خاندان پرائیویٹ ہسپتالوں سمیت کسی بھی ہسپتال سے علاج کرا سکتے ہیں، ایک نجی ہسپتال میں ہیلتھ کارڈ پر ہارٹ ٹرانسپلانٹ بھی کیا گیا ہے،امیر ممالک میں بھی یہ سہولت میسر نہیں ہے اور یہی اقدام مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست کا ہے، ساری دنیا میں فلاحی ریاست کا تصور مدینہ کی ریاست سے لیا گیا ہے لیکن بدقسمتی سے بہت کم مسلمان ممالک اس طرح کی فلاحی ریاست کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے احساس پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کی مالی معاونت پر ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔

 

احساس رعایت راشن سکیم کے تحت 9.2 ملین خاندانوں کو مرحلہ وار رجسٹریشن کی جا رہی ہے،سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ اور احساس پروگرام کی چیئرپرسن سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ احساس رعایت راشن سکیم کے تحت 9.2 ملین خاندانوں کو مرحلہ وار رجسٹریشن کی جا رہی ہے جنہیں آٹا، دالیں اور خوردنی تیل و گھی پر ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی جائے گی، احساس پروگرام کامیابی سے تین سال مکمل کر چکا ہے، احساس راشن رعایت سکیم کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے 106 ارب روپے کی ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ان خیالات کااظہارانہوں نے پیر کو احساس رعایت راشن سکیم کے اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ احساس راشن پروگرام کے تحت کورونا کے دوران ملک کی نصف کے قریب آبادی کو 12 ہزار روپے دیئے گئے۔ حکومت نے کورونا کے دوران دن رات عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام جاری رکھا۔ احساس پروگرام کا 98 فیصد بجٹ خواتین کو جاتا ہے۔ یہ پروگرام کامیابی سے تین سال مکمل کرچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک کروڑ 80 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، بدین میں یہ شرح 82 فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ احساس تعلیمی وظائف پروگرام سکولوں میں انرولمنٹ کے لئے اہم ذریعہ ہے، اس کے لئے حکومت نے پورا نظام وضع کیاہے، ایک کروڑ بچوں کو اس پروگرام کے تحت سکولوں میں داخل کریں گے، 70 لاکھ بچوں کو اب تک سکولوں میں بھجوا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 40 فیصد بجے سٹنٹنگ کاشکار ہیں، وزیراعظم نے اپنے پہلے خطاب میں اس مسئلہ کی نشاندہی کی تھی، حکومت احساس نشوونما سنٹر کھول رہی ہے، خواتین اور لڑکیوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اور پاکستان واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کا وظیفہ لڑکوں سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ احساس رعایت راشن سکیم وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر شروع کی گئی ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے 106 ارب روپے سے یہ پروگرام شروع کیاجا رہا ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی تھی کہ سبسڈی ٹارگٹڈ ہونی چاہیے اور صرف ضرورت مند طبقے کو اس کا فائدہ ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لئے 4 ہزار یوٹیلٹی سٹورز پر ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ 10 لاکھ کریانہ سٹوروں کو بھی اس میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس وقت 9.2 ملین خاندانوں کی مرحلہ وارجسٹریشن کی جا رہی ہے۔ آٹے پر 22 روپے، دالوں پر 55 روپے اور خوردنی تیل اور گھی پر 105 روپے فی کلو سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک میں ایسا نظام 10 سال میں وضع کیا گیا جبکہ ہم نے 6 ماہ میں کام شروع کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں سے بھی اپیل کرتی ہوں کہ وہ احساس رعایت راشن سکیم میں شامل ہوں تاکہ وہاں کے عوام بھی مستفید ہو سکیں۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ تحصیلوں میں احساس ون ونڈو سنٹرز کھولے جا رہے ہیں۔ ماڈل پناہ گاہوں کی تعمیر بھی اسی پروگرام کا حصہ ہیں۔

 


شیئر کریں: