Chitral Times

Oct 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا-تبدیلی یا تباہی-تحریر عبدالباقی چترالی

شیئر کریں:

2018 کے انتخابات میں جن لوگوں نے تبدیلی کے دل خوش کن نعروں اور جزباتی تقریروں سے متاثر ہو کر تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا ۔ وہ لوگ اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ملک میں بڑے تبدیلی لانے میں کامیاب ہو جائے گا ۔جیسے بےروزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے ۔اور مہنگائی میں کمی لانے سے غریب عوام کی معاشی حالت بہتر ہو جائے گی ۔پی ٹی آئی کی قیادت اپنے انقلابی مہم کے دوران عوام سے جو وعدے کئے تھے ۔کہ پی ٹی آئی کی قیادت اقتدار میں آکر بےروزگار نوجوانوں کے لئے ایک کروڑ نوکریوں کا بندوبست کرےگا اور بے گھر افراد کے لئے پچاس لاکھ گھر تعمیر کرےگا۔پی ٹی آئی حکومت گزشتہ 4 سالوں میں اپنے ناقص حکمرانی کی وجہ سے اپنے ووٹروں سے کئے گئے کوئی وعدہ پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔موجودہ حکومت کے تین سالہ کارکردگی سے پی ٹی آئی کے کارکنان اور ووٹرز ناامید اور مایوس ہو چکے ہیں۔اس کے واضح اثرات خیبر پختونخوا کے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں عیاں ہو چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے جن اضلاع میں پہلے مرحلے کے جو انتخابات ہو گئے ہیں وہ تحریک انصاف کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔جہان سے تحریک انصاف کو قومی انتخابات میں پہلی بار کامیابی ملی تھی۔اور صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔خیبر پختونخوا میں 8 سالہ حکمرانی کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں بری طرح شکست سے دو چار ہونا پڑا،جو کہ حکمران جماعت کے لئے صور اسرافیل سے کم نہیں۔
حکمران جماعت اب بھی اپنے طرز حکمرانی میں تبدیلی لانے کے لئے عوامی مسائل کی طرف توجہ دینے کے بجائے عوام کو گھرانا نہیں کا نصیحت کررہا ہے۔جبکہ مہنگائی کی وجہ سے عوام کا چیخ وپکار حکمرانوں کو سنائی نہیں دے رہا ہے۔جب مہنگائی سے متاثر بھوکے اور پریشان حال عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے۔تب حکمرانوں،وزیروں اور مشیروں کو مہنگائی نظر آجائے گا۔اور ان کو معلوم بھی ہو جائے گا کہ مہنگائی کیا چیز ہے اور اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں۔مگر اس وقت پل کے اوپر سے پانی گزر چکا ہو گا۔2013 کے انتخابات میں ظاہر ہوئے۔پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ حکمرانی کے بعد تین صوبوں سے ذلت آمیز شکست سے دو چار ہونا پڑا۔پیپلزپارٹی خود کو چاروں صوبوں کی نمائندہ تصور کرتی تھی۔بیڈ گورننس اور بد ترین مہنگائی کی وجہ سے تین صوبوں میں ان کے پارٹی کا مکمل صفایا ہوگیا،اور وہ صرف سندھی جماعت بن کر رہ گئے ۔موجودہ حکومت کی ناقض کارکردگی کی وجہ سے عوام پریشانی اور مصیبت کا سامنا کر رہا ہے ۔آگر تحریک انصاف کی حکومت اپنے موجودہ کارکردگی بہتر نہ بنایا اور مہنگائی کا سونا اس طرح جاری رہا تو پی ٹی آئی کا حشر بھی پیپلز پارٹی سے بدتر ہونے کا امکان ہے۔موجودہ حکومت اپنے پانچ سالہ اقتدار میں ملک میں  انتقامی سیاست شروع کیا ہوا ہے۔جو آنے والے وقتوں میں پی ٹی آئی کی قیادت کے لئے مصیبت اور پریشانی کا باعث بن سکتا ہے ۔جبکہ موجودہ حکمراں جماعت ملک سے لوٹ گئے۔دولت لانے کا وعدہ خاک میں مل گیا ہے۔چور ڈاکو لٹیرے کہ کر جن افراد کے خلاف کارروائی کی گئی تھی،ابھی تک ان ملکی خزانہ لوٹنے والوں سے ایک پائی بھی برآمد کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔موجودہ حکمران عوام کو سادہ زندگی گزارنے کی نصحیت کر رہے ہیں، خود محلات میں عیش وعشرت کے زندگی گزار رہے ہیں۔ان حکمرانوں کے کتے بھی جراثیم کش پانی پیتے ہیں اور ڈبل روٹی سے نشتے کرتے ہیں،جبکہ ملک کے غریب عوام کو دو وقت سکھی روٹی بھی میسر نہیں۔ریاست مدینہ کا درس دینے والوں کو شرم آنے چائیے کہ ملک میں غریب لوگ مہنگائی اور بےروزگاری کی وجہ سے خودکشیوں پر مجبور ہو چکے ہیں۔اور حکمران عیاشیوں میں مصروف ہیں۔کیا ریاست مدینہ میں ایسا ہوتا ہے؟
     (اشغار)
    ضمیر بیچ کر آئی ایم ایف کے سامنےجھولی پھلا دیتا ہے۔
قوم کے منہ سے نوالہ چھین کر ترقی کا نعرہ لگا لیتا ہے۔
دن رات چینی چور کا شور مچا لیتا ہے۔
اگلے ہی دن چینی چوروں کو سینے سے لگا لیتا ہے۔

شیئر کریں: