Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر کا تعین کرنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا قانون سازی کی ہدایت

Posted on
شیئر کریں:

اسلام آباد( چترال ٹایمز رپورٹ)اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر کا تعین کرنے کیلئے قانون سازی کی ہدایت کردی۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بہت سے دیگر اسلامی ممالک نے شادی کیلئے کم سے کم عمر کے تعین کیلئے قانون سازی کر رکھی ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کم عمری کی شادی سے متعلق کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی معاون بیرسٹر ظفر اللہ خان کے مطابق نکاح کی کم سے کم عمر کے حوالے سے قوانین غیر واضح ہیں۔ عدالتی معاون نے قرآن کی سورۃ النساء کا حوالہ دیا جس میں شادی کیلئے بالغ ہونے کے ساتھ عقلمندی سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھنا بھی ضروری ہے۔ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کے تحت سولہ سال سے کم عمر لڑکی کو نکاح میں دینا جرم قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اٹھارہ سال سے زائد عمر کی لڑکی بغیر ولی نکاح کر سکتی ہے۔ حنفی مکتبہ فکر کے تحت شادی کیلئے لڑکی کی کم سے کم عمر سترہ سال ہے۔ عدالت نیحکومت ان تمام صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے لڑکیوں کی شادی کیلئے کم سے کم عمر کے تعین کیلئے قانون سازی کرنے کی ہدایت کی ہے۔گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ممتاز بی بی کی جانب سے اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے دائردرخواست پر تحریری فیصلہ میں اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کی شادی کو غیر قانونی معاہدہ قرار دیا تھا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی مرضی سے آزادنہ شادی بھی نہیں کرسکتی جب کہ ورثا بھی جسمانی تعلق والا کوئی معاہدہ نہیں کراسکتے۔ بلوغت کی عمر اٹھارہ سال ہی ہے محض جسمانی تبدیلیوں پر اٹھارہ سال سے قبل قانونی طور پر بلوغت نہیں ہوتی تاہم جسٹس بابر ستار نے بھی مسلم فیملی لاز آرڈیننس میں ابہام کے ضمن میں یہ معاملہ کابینہ ڈویڑن اور پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

 

خلع پر بیوی کو وصول شدہ حق مہر مکمل طور پر واپس کرنا ہوگا، وفاقی شرعی عدالت

اسلام آباد(سی ایم لنکس)خلع حاصل ہونے پر بیوی کو وصول شدہ حق مہر مکمل طور پر واپس کرنا ہوگا، وفاقی شرعی عدالت نے فیصلہ دے دیا۔ فیصلے کے مطابق خلع کی صورت میں بیوی کوحق مہر کا پچیس فیصد واپس کرنے کا قانون غیرشرعی قرار دیدیا گیا۔فیصلے کا اعلان وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس نور محمد مسکان زئی، جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین ایم شیخ نے کیا۔ فیصلے میں شرعی عدالت نے پنجاب فیملی کورٹ کی دفعہ دس اور ذیلی دفعہ پانچ اور چھ میں 2015 کی ترامیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے خواتین کو ہدایت کی ہے کہ وہ حق مہر اپنے شوہروں کو واپس کر دیں جن سے وہ خلع کی مد میں طلاق لینا چاہتی ہیں۔اسلامی عدالت نے مزید کہا ہے کہ اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو چھوڑ دیتا ہے تو اسے اس کا حق مہر ادا کرنا ہو گا.عدالت کا فیصلہ یکم مئی 2022 سے لاگو ہو گا. اس سے پہلے عدالت نے یہ فیصلہ چار مردوں کی درخواستوں کی سماعت کے بعد دیا، جنہیں ان کی سابقہ بیویوں کی جانب سے خلع لینے کے بعد حق مہر حاصل کرنے کیلئے قانونی چارہ چوئی کی جارہی تھی۔


شیئر کریں: