Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

رمضان کی تیاری کیسے کریں؟ – انعم توصیف، کراچی

شیئر کریں:

رمضان المبارک کی آمد بس چند روز کی مسافت پر ہے۔ یہ اللہ پاک کا تحفہ ہے جو امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ مہینہ مہمان ہے جو ہمارے گھر آتا ہے لیکن میں کہتی ہوں رمضان تو مہمان نہیں ہے۔ یہ تو ہر سال اللہ کے حکم سے آتا ہی رہے گا۔ جب تک دنیا قائم رہے گی یہ مہینہ آئے گا۔ مہمان تو ہم ہیں جو آج ہیں اور کل جانے ہم کہاں ہوں گے؟ بلکہ ہمیں اگلے پل کا ہی نہیں پتا کہ ہم سانس لے سکیں گے یا ہماری زندگی کی مدت تمام ہوجائے گی۔ گذشہ برس کتنے لوگ ہمارے ساتھ اس ماہ مبارک میں حیات تھے۔ جو اب رضائے الٰہی سے منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں۔ کیا ان کے جانے سے یہ مہینہ اس سال نہیں آئے گا؟ کیا ان کی وجہ سے یہ مہینہ ہمارے گھروں کا راستہ نہیں دیکھے گا؟ ایسا نہیں ہے یہ ماہ مبارک اب بھی اللہ کی مرضی سے اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ ہم پر انتیس یا تیس دنوں کے لیے سایہ فگن رہے گا۔

ہم اس کے لیے تیاری یہ سوچ کر کریں کہ اگر یہ ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو تو ہم اس کو ویسے گزار لیں جیسے گزار کر ہمارا دل مطمئن ہو جائے کہ اب اگر مر بھی جائیں تو ہماری قبر کو اس رمضان میں کی گئی عبادتیں اور نیکیاں روشن و معطر کردیں گی۔ صفائی نصف ایمان ہے۔ پورا سال ہی ہمیں اپنے گھروں کو صاف ستھرا رکھنا چاہیے لیکن ہمارے ہاں رواج بھی ہے اور ضرورت بھی کہہ لیں کہ رمضان المبارک سے پہلے گھروں کو صاف کیا جاتا ہے۔ کیونکہ رمضان کا پورا مہینہ دیگر کاموں سے فرصت میسر نہیں اتی اور نہ ہی شدید گرمی کے روزوں میں اتنی ہمت ہوتی ہے کہ ہم گھر کی تفصیلی صفائی کرسکیں۔ اس لیے گھر کی ایسی صفائی کہ جالے جھاڑنا، الماریوں کے اندر کی صفائی، پیڑ پودوں کی کٹائی، پردوں کی دھلائی وغیرہ غرض ہر قسم کے کونے کھدروں کو صاف کیا جائے۔ یہ سب کام گھر کی عورتوں کی ہی ذمہ داری نہیں۔ مرد حضرات کے پاس بھی اگر وقت ہو تو وہ لازمی خواتین کی مدد کریں۔ گھر بناتی عورت ضرور ہے۔ اس کے لیے گھر سے باہر محنت مرد مزدوری مرد کرتا ہے لیکن رہتے وہ دونوں ہی ہیں۔ لہذا یہ کام دونوں کی ہی زمہ داری ہے۔ آپ پیار محبت سے یہ کام کریں گے تو آپ کے بچوں کو بھی اس سے بہت اچھا سبق ملے گا۔ 

رمضان المبارک میں ہمارے ہاں کھانے کے معمولات بالکل بدل جاتے ہیں۔ کوئی کتنا ہی سمجھالے لیکن جن لوازمات کے ہم عادی ہوچکے ہیں ان کو چھوڑنا مشکل بلکہ ناممکن سا ہے۔ پکوڑے سموسے یہ چیزیں عام طور پر ہر گھر میں کھائی جاتی ہیں۔ ان کے ساتھ چٹنیاں کھانا بھی فرض ہے۔ تو یہ ساری چٹنیاں جن کے بغیر ہمارا کھانا پورا نہیں ہوتا۔ ان کو پہلے سے ہی بنا کر محفوظ کرلیں۔ ان کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے اس میں سرکہ کو بھی بطور جز شامل کرلیں۔ گھر میں ہی سموسے، رول اور کباب بنا کر فریز کرلیجیے تاکہ حفظان صحت کے اصولوں پر بھی با آسانی عمل کیا جاسکے۔ نیت یہ بھی کیجیے یہ سب ہم اکیلے نہیں کھائیں گے کسی نہ کسی ضرورت مند کو اپنے ساتھ کھانے میں ضرور شامل کریں گے۔ ان شاءاللہ نیت کریں گے تو رب برکت بھی دے گا۔ کھانے پینے سب اپنی جگہ لیکن رمضان کے مہینے کا مقصد تزکیہ نفس ہے۔ اب نفس پر اگر ہم ایک دم سے اتنی سختی کریں کہ ہم اس کو باور کرائیں کہ رمضان کا مہینہ آرہا ہے اس میں عبادت اتنی کرنی ہے کہ خود کو تھکا لینا ہے۔

ایک بات ذہن میں رکھیں ہم ایک دم سے اپنے نفس پہ اتنی مشقت ڈالیں گے تو رمضان کے بعد وہ تھک ہار کر دوبارہ اس ہی ڈگر پہ لوٹ آئے گا۔ اس کو تسکین پہلی روش اختیار کرکے ہی ملے گی۔ خود کو بدلنا ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ خود میں تبدیلی لانی ہوگی۔ جو تبدیلی بتدریج آتی ہے وہ ہمیشہ رہتی ہے۔ کوئی بھی ایک بری عادت چھوڑنے کا تہیہ کرلیں۔ اس کو چھوڑنے کے لیے دعا بھی کریں۔ غصہ، غیبت، چغلی، ٹوہ میں رہنا، جھوٹ بولنا یا کوئی بھی ایسی عادت جو آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو نقصان پہنچاتی ہے۔ آپ کے ارد گرد رہنے والوں خصوصا آپ کے گھر والوں کی تکلیف کا باعث بنتی ہو اس کو ترک کرنے کی کوشش کریں۔ نماز تو رمضان کے علاوہ بھی فرض ہے۔ رمضان میں ہر نیک عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ اس ماہ یہ کوشش کریں کہ نماز وقت پہ ادا تو ہو لیکن ساتھ ہی نماز میں جو آپ پڑھ رہے ہیں اس کے معنی سمجھیے، یاد کیجیے۔

جو سورتیں آپ نماز میں پڑھتے ہیں ان کا ترجمہ اور تفسیر لازمی پڑھیے۔ ایک دم سے نہیں۔ آرام آرام سے اطمینان کے ساتھ۔ روزانہ بس آدھا گھنٹہ اس کام کے لیے وقف کیجیے۔ آدھا گھنٹہ نہیں تو بیس منٹ ہی نکال لیجیے۔ بیس دن میں آپ ان شاءاللہ نماز کو معنی کے ساتھ سمجھ کر پڑھنے لگیں گے۔رمضان المبارک کے مہینے سے قرآن پاک کو خصوصی نسبت ہے۔ کلام اللہ اس ہی مہینہ میں لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر نازل کیا گیا۔ قرآن پاک کی تلاوت ہی نہیں اس کو سمجھنا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔ اس کے سمجھنے میں سراسر ہمارا پی فائدہ ہے۔ جہاں اس کو سمجھنے سے اللہ پاک خوش ہوگا وہیں ہمیں زندگی کے ہر معاملے میں رہنمائی ملے گی۔ قرآن پاک کی جہاں آپ دس سورتیں ترجمے اور تفسیر کے ساتھ پڑھیں گے وہیں تھوڑی سی مزید ہمت بھی کیجیے گا۔ خود سے پڑھیں یا کسی استاد سے لیکن پڑھیے۔ اگر آپ تلاوت قرآن پاک کے عادی نہیں ہیں تو ہمت کیجیے دو صفحات، پاؤ پارہ جو بھی با آسانی پڑھ سکیں وہ پڑھیے اور پھر پڑھتے ہی جائیے یعنی رمضان ختم ہونے کے بعد بھی پڑھیے۔

یہ سب کام کرنے رمضان میں ہیں لیکن اپنی ذہن سازی رمضان سے پہلے کرنی ہے۔ اس لیے یہ سب چیزیں، یہ منصوبہ بندی رمضان کی تیاری میں ہی شمار ہوگی۔ نیت کرلیں کہ آپ کو روز کم از کم ایک نیکی کرنی ہے جس کا تعلق حقوق العباد سے ہو۔ ہر کام کے لیے وقت مقرر کریں۔ سوشل میڈیا سے تعلق رکھیں گے تو اس حد تک کہ آپ کے روزے پہ اس کا برا اثر نہ پڑے۔ ایسا ممکن نہیں کہ ہم بالکل ہی سب چھوڑ کر بیٹھ جائیں۔ کرنے والے ایسا کرتے بھی ہیں لیکن ہم عمومی بات کر رہے ہیں۔ اس ماہ میں لوگ نیکیوں کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ کوشش کریں اگر آپ کوئی بات یا پیغام لوگوں تک پہنچانا چاہیں تو اس ماہ میں پہنچائیں لیکن بات مختصر اور پر اثر ہو۔ تاکہ لوگ توجہ دیں۔ واٹس ایپ اسٹیٹس پہ کوئی اچھی بات بات، کوئی نیک اور مختصر عمل کرنے کی ترغیب دے دیجیے۔  یہ چند باتیں ہیں جن کو کرنے کا ارادہ آپ ابھی سے کرلیجیے۔ ابھی سے نیت کریں گے تو ہی رمضان تک عمل کرسکیں گے۔ تمام امت مسلمہ کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔


شیئر کریں: