Chitral Times

Oct 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہندوکش کے دامن سے چرواہا کی صدا- گھبرانا نہیں- تحریر عبدالباقی چترالی

شیئر کریں:

ہندوکش کے دامن سے چرواہا کی صدا- گھبرانا نہیں- تحریر عبدالباقی چترالی

گزشتہ تین سالوں سے ملک کا سربراہ ،مشیر اور وزیر مسلسل قوم کو تقریریں سنا رہے ہیں ۔اگر کوئی ملک دل خوش کن نعروں اور جزباتی تقریروں سے ترقی کرتا ہے تو اس وقت ہمارے ملک ترقیافتہ ملکوں کے صفوں میں شامل ہوتا۔ملک کے عوام موجودہ حکمرانوں کے خشک تقریروں اور جھوٹے وعدوں سے تنگ آ چکے ہیں ۔مہنگائی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے ، حکمران مہنگائی کو قابو کرنے کے بجائے مزید مہنگائی کر رہے ہیں ۔جبکہ ملک کے غریب عوام پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔آنے والے وقتوں میں مزید مہنگائی ملک کے غریب عوام کے لئے ناقابل برداشت ہو گا۔اور عوام کے لئے گھروں میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔مہنگائی سے پریشان حال عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے تو حکمرانوں کے لئے ملک میں آمن آمان برقرار رکھنا دشوار ہو جائے گا ۔

موجودہ حکومت گزشتہ تین سالوں میں عوام سے کیے گئے ایسا کوئی وعدہ پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔مہنگائی کی وجہ سے ملک کے غریب عوام کی چیخ و پکار حکمرانوں کو سنائی نہیں دے رہا ہے ۔ملک کے غریب عوام مہنگائی کے ہاتھوں اتنے بد حال ہو چکے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو دو وقت کا کھانا نہیں کھلا سکتے ۔بیمار ہونے کی صورت میں ادویات مہنگا ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کا علاج معالجہ نہیں کر سکتے ہیں ۔حکومت کے مشیر اور وزیر کہ دوسرے ملکوں کے مثال دیتے ہیں۔ان ملکوں کے مقابلے ہمارے ملک میں مہنگائی کم ہے کرایہ کے مشیر یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے ان ملکوں میں لوگوں کی ماہانہ آمدنی کتنی ہے؟جبکہ ہمارے ملک میں ایک مزدور یا سرکاری ملازم کو ماہانہ کتنی تحنخواہ ملتی ہے؟ موجودہ بڑھتی ہوئی مہنگائی حکمرانوں کے غلط فیصلوں اور ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔

مستقبل میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔کیونکہ آئی ایم ایف کی دباؤ کی وجہ سے پٹرول ، بجلی اور گیس کے نرخ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔جبکہ حکومت مہنگائی کو قابو کرنے کے بجائے اپوزیشن جماعتوں کی مسلسل کردار کشی میں لگا ہوا ہے۔ موجودہ مہنگائی کو بھی اپوزیشن جماعتوں کی کارستانی قرار دے رہی ہے۔حکمران جماعت تین سال تقریروں اور جھوٹے وعدوں کے سہارے گزار دیا ہے۔اپ مہنگائی کے خلاف کوئی ٹھوس عملی اقدام اٹھانا چاہیے تاکہ ملک کے غریب عوام کو مہنگائی سے نجات مل سکے۔ملک اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہو چکا ہے ۔موجودہ حکومت کے معاشی ٹیم میں اتنی اہلیت نہیں ہے کہ وہ ملک کے عوام کو بدترین مہنگائی سے نجات دلا سکے۔کیونکہ حکومت کے معاشی ٹیم میں اکثر کرایہ کے ماہرین موجود ہیں۔ان کا نہ ملک سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ عوامی مسائل کا احساس ہے۔ان کو اپنی مفادات عزیز ہیں۔

جن لوگوں نے تبدیلی کے دلفریب نعروں اور جزباتی تقریروں سے متاثر ہو کر کپتان کو ووٹ دیا تھا۔اب وہ لوگ بچھتا رہے ہیں۔اب بچھتانے سے کیا فائدہ؟ تبدیلی آئی مہنگائی لائی ہے، عوام کو گھبرانا نہیں ، یہ مہنگائی نہیں مہنگائی آنے والی ہے، گھبرانا نہیں۔ موجودہ مہنگائی سے نجات حاصل کرنے کے لیے کراچی سے چترال تک تمام غریب عوام کو گھروں سے باہر آنا چاہیے۔ بے تحاشا مہنگائی اور بےروزگاری کی وجہ سے گھروں میں رہنا مشکل ہو چکا ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ بھی ان لوگوں کی مدد کرتا ہےجو اپنے مدد آپ کرتے ہیں۔اس وقت گھرانوں میں بھیٹہ کر مہنگائی کا رونا رونے سے نہ مہنگائی میں کمی آئے گی اور نہ ہی روزگار ملے گا ۔لہذا ملکی آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ملک کے غریب عوام کو خود ہی متحد ہو کر اپنے حقوق کے لئے جہدوجہد کرنا پڑے گا۔اس وقت ملک میں جماعت اسلامی کے سوآ تمام اپوزیشن جماعتیں تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔اور عوام کو دھوکے دے رہے ہیں ۔اس وقت جماعت اسلامی وہ واحد جماعت ہے جو مہنگائی کے خلاف غریب عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔اس کا سیاسی اثر حلقہ محدود ہونے کی وجہ سے ابھی تک وہ مہنگائی کے خلاف کوئی بڑے تحریک چلانے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔


شیئر کریں: