Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں زراعت – پروفیسر رحمت کریم بیگ

شیئر کریں:

جس کھیت سے دھقان کو میسرنہیں روزی – اس کھیت کے ہر خوشہء گندم کو جلادو

چترال ایک پہاڑی ملک ہے،یہاں زراعت کے لئے کفالت کی حد تک زرعی زمین بہت کم لوگوں کے پاس ہے،چترال کے بیشمار پہاڑ اس کی اصل وجہ ہیں، جہاں جہاں ہموار زمین اور پانی دستیاب ہے وہاں چترال کے ہر فرد نے ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے، یہاں لوگ زرعی فصلوں کے ساتھ پھلدار پودے لگانے کے بہت شوقین ہیں ہر گھرانے کے آس پاس آ پ کو پھلد ار درخت دیکھائی دیں گے اور گرمی میں ہر قسم کے پھل بھی، لوگوں میں یہ شوق قدرتی ہے، بعض زیادہ زمین کے مالک لوگ تو اچھے اچھے باغات لگاتے ہیں جو گو رزین کہلاتا ہے جس میں طرح طرح کے پھلد ار درخت ہوتے ہیں یہ گورزین گھر کے ساتھ ملحق بنائے جاتے ہیں اور ان کا پھل دراندازوں سے محفوظ ہوجاتا ہے، ان کا پھل وقتی استعمال کے بعد خشک کرکے سردی کے مہینوں کے لئے اکھٹا کیا جاتا ہے، گورزین سے باہر پھلدار اور غیر پھلدار درخت لگانیکا رواج بھی ہے ایسے درختوں کے جھنڈ کو ؛،کوچ، کہا جاتا ہے اور وہاں سے سردیوں کے لئے جلانے کی لکڑی اکھٹی کی جاتی ہے اس طرح یہ لوگ اپنی زمینوں سے پھل اور کھانا پکانے کے لئے لکڑی جمع کر لیتے ہیں یہ زمانہء قدیم سے رواج پاکر آج تک قائم ہے مگر آج کل لوگ اس معاملے میں کمزور ہوگئے ہیں نوجوان اتنی محنت نہیں کرتے جتنا ہمارے باپ دادے کیا کرتے تھے اس لئے ہماری ثقافت کا یہ پہلو زوال پزیر ہے۔

چترال میں زراعت کی اس پہلو کے ساتھ لوگوں کی دلچسپی کو دیکھ کر زراعت کا محکمہ قائم کیا گیا اور اس محکمے نے پھلدار پودوں کی طرف زیادہ توجہ دی اس سلسلے میں جس شخص نے انقلابی قدم اٹھایا اس کا یہاں زکر نہ کرنا زیادتی ہوگی،یہ مخلص شخصیت چترال موردیر کے مرحوم سیف الملوک تھے جو یونیورسٹی سے زراعت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد چترال میں زراعت کے محکمہ کے سربراہ بنائے گئے تھے اور ان کی انتھک کوششوں سے چترال اور بونی میں نرسریاں قائم کی گئیں جن سے لوگوں کو پودے تقسیم کئے جاتے تھے، چونکہ ان دنوں چترال میں جیپ ایبل روڈ نہیں تھے اس لئے یہ پودے قریبی دیہات کے لوگ ہی اٹھا کر لے جاتے تھے اور دور دراز کے لوگ اس کار خیر سے با خبر نہ تھے مگر اب سڑکوں کی وجہ سے دور مقامات کے لوگ بھی ان پودوں سے فائدہ اٹھانے لگے ہیں۔ان پودوں میں سیب، خوبانی، الوچے، بادام، چیری،اڑو وغیرہ نمایاں ہیں، چترال میں چیری کو محکمہ زراعت ہی نے ترقی دیکر شہرت بخشی ہے۔

محکمہ زراعت کی اس اقدام سے بعض لوگوں نے سبق حاصل کیا اور اپنی اپنی زمینوں پر نرسریاں بنانی شروع کی اور آج بازار میں بکنے والی ان پودوں میں بیشتر زاتی نرسریوں کے مالکان کے پودے بکثرت مل جاتے ہیں، میں نے شندور کے پار پھنڈ ار سے نیچے کے علاقوں میں بادام کے پودے اور بادام کی بڑی پیداوار کا مشاہدہ کیا ہے اور ان لوگوں کا بیاں ہے کہ بادام بہت نفع بخش پودا ہے اس لئے میری گزارش چترال والوں سے یہی ہے کہ یہاں اور وہاں کے موسمی حالات تقریبا یکسان ہے اس لئے چترال میں بھی بادام کی نرسریاں زیادہ مقدار میں لگاے جائیں تا کہ لوگوں کی نقد آ مدنی کا زریعہ بن سکیں اس کی اچھی قیمت مل جاتی ہے اور یہ نہایت پسندیدہ خشک میوہ ہے۔


شیئر کریں: