Chitral Times

Oct 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تبدیلی سرکار اورشاہرائے نیلم کے نام کی تبدیلی-پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

تبدیلی سرکار اورشاہرائے نیلم کے نام کی تبدیلی-پروفیسرعبدالشکورشاہ

سڑکیں ملکی معیشت کی شریانیں تصور کی جاتی ہیں جن کے سبب معاشی نبض رواں رہتی ہے۔دشوار گزار سڑک اکثر ایک خوبصورت منزل تک پہنچاتی ہے۔نیلم ویلی روڈ بھی اپنی کم کشادگی، دشوار گزاری،خطرنک موڑوں اور چڑھائیوں کے بعد ہمیں ارضی جنت کے ان حسین و جمیل نظاروں تک پہنچاتی ہے جنہیں دیکھ کر عقل دھنگ رہ جاتی ہے۔ ارضی جنت کشمیر میں وادی نیلم کی تاریخی اور واحد سڑک نیلم ویلی روڈقومی شناخت کی علامت ہے جس کا نام تبدیل کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔آج تک کشمیر میں تاریخ کشمیر پڑھانے کی توفیق تو نصیب نہیں ہوئی، کشمیری مقامی زبانوں کو لازمی تو درکنا ر اختیاری مضمون کا درجہ دینے کی ہمت تو نہیں ہوئی، آج تک مقامی صنعتوں کے فروغ اور مقامی جنگلات، نباتات، قیمتی جڑی بوٹیوں اور معدنیات کے تحفظ کی توفیق نہیں ہوئی بلکہ نیلم کے سیاحتی مقامات کی لیز ہو یا نیلم کی روڈ ان دونوں معاملوں میں ہم اتنی تیزی سے کام کرتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ نیلم ویلی روڈ پورے ضلع کی شناخت کی علامت اور ہماری پہچان ہے۔ اہلیان نیلم اپنی اس شناخت کو مسخ کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے۔ ہمارے لیے جناب کے ایچ خورشید صاحب انتہائی قابل احترام ہیں۔

دکھ کی بات یہ ہے نیلم ویلی روڈ کا نام تبدیل کرکے کے ایچ خورشید روڈ رکھنے کی منصوبہ بندی بنیادی طور پر جناب کے ایچ خورشید مرحوم کی شخصیت کو متنازعہ بنانا ہے۔ بے شمار سرکاری سکولز، ہسپتال اور دیگر سرکاری عمارتیں اور پل موجود ہیں جنہیں جناب کے ایچ خورشید صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے نام کیا جا سکتا ہے۔مگر اس کام کے لیے نیلم ویلی روڈ کا انتخاب کسی حیرت سے کم نہیں ہے۔ آخر ہر مہم کے لیے نیلم ویلی کا انتخاب ہی کیوں کیا جاتا ہے؟ پاکستان سے ایک فرد کو اٹھا کر نیلم ویلی میں الیکشن لڑوانا، نیلم ویلی کے سفید رقبہ جات کی لیز اور نیلامی، بیرونی افراد کے نام زمینوں کی منتقلی، گیسٹ ہاوسسزکی تعمیر اور انتظامیہ کی ملی بھگت سے وادی کے مختلف مقامات پر وزیروں مشیروں کے دوستوں کے لیے زمینوں کی خریداری وغیرہ سب ایسے عوامل ہیں جنہوں نے وادی نیلم کے لوگوں بالخصوص نوجوانوں کو محوحیرت میں ڈال دیا ہے۔مانا کے ایچ خورشید مرحوم نے نیلم ویلی روڈ کی تعمیر میں کردار ادا کیا مگر عوامی نوعیت کے اس منصوبے میں بہت سے دیگر افراد کا بھی حصہ ہے جنہیں نظر انداز کر کے صرف ایک فرد کے سر سہراباندھنا خیانت ہے۔

وزیر لوکل گورنمنٹ اگر جناب کے ایچ خورشید صاحب کو واقعی خراج تحسین پیش کرنے میں مخلص ہیں تو مظفرآباد سی ایم ایچ چوک کو اپنے والد گرامی کے نام کرنے کے بجائے جناب کے ایچ خورشید کے نام سے منسوب کر دیتے۔ میں حیران ہوں جناب نے نیلم ویلی کے لوگوں کو وہاں کے چند مفاد پرستوں کے کہنے پر اتنے بے بس سمجھ لیا کے نیلم کی عوام اور نیلم سے منتخب ایم ایل ایز علماء مشائخ کی سیٹ پر حکومتی ایم ایل اے، پارلیمانی سیکرٹری، امور نوجوانان اور جیل خانہ جات کی نشست پر براجمان جناب پیر مظہر سعید شاہ صاحب سے مشاورت کیے بغیر احکامات صادر فرما دیے۔ عزت مآب مانا کے آپ بر سر اقتدار ہیں اور اقتدار کے دن بہت تیزی سے گزر جاتے ہیں۔ عجب جمہوریت ہے جس عوام نے اپنے ووٹوں کے زریعے اپنے منتخب نمائندے اسمبلیوں تک اس لیے تو نہیں پہنچائے کے ایک وزیرنہ تو عوام کے جذبات، احساسات اور شناخت اور ان کے منتخب کردہ نمائندوں کو اعتماد میں لیے بغیر نیلم کی شناخت بدلنے کا پروانہ جاری کر دے۔

اس سے بھی بڑا تعجب اس بات پہ ہے کے ہمارے وادی نیلم سے اس وقت 3ایم ایل ایز اسمبلی میں موجود ہیں مگر کسی نے اس معاملے پر آواز بلند نہیں کی۔اگر ان منتخب کردہ نمائندوں کو اس عوام کی شناخت کھو جانے پر فرق نہیں پڑتا تو ایسے نمائندے غاصب، مفاد پرست، ان الوقت اور منافق ہیں جو الیکشن کے دوران عوام عوام کرتے نہیں تھکتے اور اسمبلیوں میں پینچ کر حکومت کے گن گاتے اور ان کے غلط اقدامات پر اپنے مفادات کی خاطر چپ سادھ لیتے ہیں۔ نیلم ویلی روڈ کے نام کی تبدیلی اہل نیلم کو کسی صورت قبول نہیں ہے۔ ہم ہر فورم پر بھر پور احتجاج کریں گے اور ضروت پڑنے پر عدالت جانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ نیلم ویلی روڈ نام کی تبدیلی کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ایک بظاہر وجہ یہ ہے کہ نیلم کی عوام نے ضلع نیلم کے دونوں حلقوں سے تختی سرکار کا صفایاکیا۔ اپر حلقے سے ن لیگ جبکہ لوئر حلقے سے پی پی جیتی۔ اب مہنگائی خان اور ان کی پارٹی ضلع نیلم کی عوام کے جمہوری فیصلے کا انتقام لینے کے لیے نیلم کی شناخت کے درپے ہے۔

چلیں یہ بھی مان لیتے ہیں جناب کے ایچ خورشید صاحب نے سڑک بنوائی تو کوئی بھی سربراہ ریاست یا وزیر سڑک اپنی جیب سے نہیں بنواتا بلکہ عوامی ٹیکسوں کے پیسوں سے بنواتا ہے اور یہ کوئی احسان نہیں ہے یہ عوام کا بنیادی حق ہے۔ یوں لگتا ہے نیازی سرکاری کشمیر کو عبوری صوبہ بنانے کے منصوبے کے لیے آزمائشی فائر کر رہی ہے تاکہ عوامی ردعمل چیک کیا جا سکے۔ کے ایچ خورشید صاحب نے سڑک بنوائی تو اس لیے ان کا حق ہے یہ سڑک ان کے نام کر دی جائے پھر تو ضلع نیلم کا نام ضلع مفتی منصور الرحمان، اپر اور لوئر حلقوں کو حلقہ شاہ غلام قادر، آزادجموں و کشمیر نیلم کیمپس کا نام میاں وحید کیمپس، الحاج گل خاندان انجینئرز اینڈ ڈاکٹرز، ترقیاتی ادارہ نیلم کا نام میاں غلام رسول ترقیاتی ادارہ رکھ لیا جائے۔ عوامی جذبات اور قومی شناخت کی پرواہ نہ کرنے والے کسی صورت بھی لیڈر کہلوانے کے قابل نہیں ہیں۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران نیلم ویلی سیاحت کا مرکز بن چکی ہے۔ یہ وادی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ سالانہ جنگلات، معدنیات، قیمتی جڑی بوٹیوں اور سیاحت کے زریعے ملکی معیشت کی چکی چلانے میں اول نمبر پر ہے۔ نیلم روڈ کے نام کی تبدیلی سے سیاحت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور سیاحوں کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی کیونکہ ہر سال ہزاروں سیاح وادی نیلم سیر کے لیے آتے ہیں۔ سیاحت کی وجہ سے نیلم ویلی روڈ قومی شاخت کے ساتھ ساتھ وادی کی پہچان بن چکی ہے جس کے نام کی تبدیلی سے سیاسی، معاشی، سیاحتی، تاریخی، ثقافتی اور نفسیاتی نقصانات ہوں گے۔

سیاسی لحاظ سے عوامی غیظ و غضب حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرے گاجو کہ فیڈرل گورنمنٹ کے سہارے چلنے والی اس حکومت کے لیے شدید نقصان کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ اس اقدام سے حکومتی پارٹی ایک ضلع سے اپنی ساکھ مکمل طور پر کھو بیٹھے گی جہاں سے اسے پہلے ہی شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا ہے وہاں مستقبل میں مزید بری کارکردگی ان کا مقدر ہو گی۔ اب انٹرنیٹ کا زمانہ ہے اور سیاح نیویگیشن کے زریعے راستہ تلاش کرتے ہیں۔ نیلم ویلی روڈ  نیوگیشن پر موجود ہے اور سیاح اس سے کافی آشنا ہیں۔نیلم ویلی روڈ نام خورشید الحسن خورشید کی نسبت زیادہ آسان اور عام فہم ہے۔کشن گھاٹی، دراوہ کی ارتقائی تبدیلیوں کی چکی میں پستے پستے نیلم کا نام پایا ہے جو آسان فہم، ذہن نشین، ادائیگی میں سہل اور اس کی لفظی ادائیگی بھی آسان ہے۔ نام کی تبدیلی نہ صرف مقامی افراد کے لیے لسانی مشکل کا باعث بنے گی بلکہ عزت مآب جناب کے ایچ خورشید صاحب کے نام کے بگڑاو کا سبب بھی بنے گی جس کی وجہ سے خراج تحسین تضحیک میں بدل جائے گا۔ دریائے نیلم، وادی نیلم اور شاہرائے نیلم میں ایک وزن، مماثلت، خوبصورتی، دلکشی اور یکجہتی جیسی خوبیان موجود ہیں۔ شاہرائے نیلم کو خورشید الحسن خورشید کے نام پر منسوب کرنے سے نہ صرف یہ وزن، مماثلت، خوبصورتی، دلکشی اور یکجہتی تیس نیس ہو جائے گی بلکہ وادی نیلم اور دریائے نیلم کی شناخت بھی خطرے میں پڑے جائے گی۔ کل کوئی حکومت وادی نیلم اور دریائے نیلم کا نام بھی تبدیل کرنے کا پروانہ جاری کر دے تو پوری وادی کی سالہا سال کی تاریخ، ثقافت اور شناخت معدوم ہو جائے گی۔

مشہور قومی سیاحتی مقامات مری، چترال، ناران کاغان، ہنزہ،سوات اور گلگت بلتستان کی طرح کشمیر میں وادی نیلم سب سے مشہور سیاحتی وادی ہے اور اس وادی کی واحد سڑک شاہرائے نیلم ہے۔ نیلم ایک معروف سیاحتی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اہمیت کا حامل ہے جس کا ثبوت مختلف رسائل، جرائد، سیاحتی پیجز، گائیڈز، مقالہ جات، تحقیقی نگارشات، تصانیف اور تواریخ میں درج ہے۔ شاہرئے نیلم کے نام کی تبدیلی تو ہمیں وادی نیلم میں تیزی سے پھلتی پھولتی سیاحت کے ساتھ ایک ضد اور عناد محسوس ہوتی ہے تاکہ سیاحوں کے لیے آسانی کے بجائے مشکلات پیدا کی جائیں۔ گوگل نیوگیٹر خورشید الحسن خورشید روڈ تلاش کرتے کرتے کہیں سیاحوں کو جنگلات میں گم نہ کر دے۔ شاہرائے نیلم کے نام کی تبدیلی کی وجہ سے سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا ہے ملکی سلامتی، بقاء،علاقائی بھائی چارے، سیاسی بردباری کو شدید خطرات درپیش ہیں۔ اگر اس عمل کو واپس نہ لیا گیا تو یہ کہنا بعید از قیاس نہیں ہو گا عوام میں غم و غصہ کے ساتھ حکومت مخالف جذبات جو مہنگائی اور دیگر مسائل کی وجہ سے جھلس رہے ہیں کسی شعلے کی صورت نہ اختیار کر لیں۔

جناب کے ایچ خورشید صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پہلے ہی خورشید آباد سب ڈویژن، خورشید نیشنل لائبریری اور خورشید حال قائم ہو چکے ہیں۔ حکومت وقت دانشمندی کا مظاہرہ کر تے ہوئے جناب کے ایچ خورشید کے نام پر کوئی ادارہ، سکول، کالج، یونیورسٹی کیمپس یا ہسپتال منسو ب کرے جو ان کے شایان شان ہے۔اگرعلاقائی زبانی الفاظ کی ادائیکی کا تجزیہ کیا جائے تو مقامی افراد بہت کم نام درست تلفظ کے ساتھ ادا کر تے ہیں۔ یہ ایک لسانی المیہ ہے کہ وادی نیلم کے اکثر لوگ نام کو توڑمروڑ کر یا ردوبدل کے ساتھ استعمال کر تے ہیں جیسا کہ رشید کو رشیدہ، خورشید کو خورشیدہ یا کورشیدہ، حسن کو حسنا، جمیل کو جمیلہ وغیرہ۔مقامی سطح پر لسانی تجزیہ کی بنیاد پر محترم جناب کے ایچ خورشید صاحب کا نام بگاڑا جائے اور خورشید الحسن روڈ کو رشیدہ یا کورشید، رشیدو روڈ وغیرہ بولا جائے تو یہ بہت دکھ کی بات ہو گی۔نیلم ویلی روڑ اس قسم کی توڑ مروڑ کے امکانات کم ہیں اور کبھی کسی کو غلط انداز میں بولتے نہیں پایا گیا۔ حکومت وقت  غالب عوامی جذبات، احساسات، علاقائی تاریخ، وابستگی، ثقافت، شناخت اور متذکرہ بالا دیگر محرکات کو مد نظر رکھتے ہوئے نام کی تبدیلی کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے اپنے آپ کو عوام امنگوں کی ترجمان ثابت کرے۔


شیئر کریں: