Chitral Times

Sep 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہندوکُش کے دامن سے چرواہے کی صدا ۔ چترال میں بلدیاتی انتخابات کا آغاز ۔ عبدالباقی چترالی

شیئر کریں:

ہندوکُش کے دامن سے چرواہے کی صدا ۔ چترال میں بلدیاتی انتخابات کا آغاز ۔ عبدالباقی چترالی

چترال میں بلدیاتی انتخابات کا آغاز ہوگیا ہے۔لوئر اور اپر چترال میں سیاسی جماعتیں تحصیل کونسل اور ویلج کونسلوں کے لیے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرادئیے۔ تحصیل کونسلوں اور ویلج کونسلوں میں بڑی تعداد میں آزاد امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں۔ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں مذہبی جماعتوں نے اتحاد کرکے بلدیاتی انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ موجودہ بلدیاتی انتخابات میں مذہبی جماعتیں اتحاد قائم کرنے میں بُری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ موجودہ حالات میں مذہبی جماعتوں کے لیے اتحاد کے بغیر کامیابی ممکن دیکھائی نہیں دے رہی ہے۔ مذہبی جماعتوں کے نمائندوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے امیدواروں کے لیے مشکلات پیش آرہے ہیں۔ ایم این اے اور ایم پی اے کی ناقص کارکردگی کا خمیازہ مذہبی جماعتوں کو بھگتنا پڑے گا۔موجودہ ایم پے اے چترال کی سیاسی تاریخ میں ناکام ترین ایم پی اے ثابت ہوئے ہیں۔

موجودہ ایم پی اے کی ناتجربہ کاری، نااہلی اور اقرباء پروری کی وجہ سے جے یو آئی کی قیادت، کارکنان اور ووٹر سب شرمندہ ہیں۔اپر چترال میں جے یو آئی کی طرف سے تحصیل موڑکھو کے چئیرمین کے لیے پارٹی کے نائب امیر جناب مولانا فتح الباری صاحب کو پارٹی ٹکٹ دیا گیا ہے۔ مولانا فتح الباری عرصہ دراز سے لوئر چترال کے علاقہ سنگور میں مستقل رہائش پذیر ہیں۔ ضلع سے بارہ رہائش پذیر شخص کو پارٹی ٹکٹ دینے پر جے یو آئی کے کارکنوں اور ووٹروں میں شدید ناراضگی اور مایوسی پھیلی ہوئی ہے اور پارٹی کے اندر اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔ اس کا واضح ثبوت مولانا خادم الرحمن کا وائرل شدہ ویڈیو ہے۔ اس ویڈیو میں مولانا خادم الرحمن صاحب آنسو بہا کر پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ضلع سے باہر رہنے والے شخص کو پارٹی ٹکٹ دینے پر شدید احتجاج کرتا ہوا دیکھائی دے رہے ہیں۔ 2013 کے قومی انتخابات میں بھی جے یو آئی کی پارٹی قیادت نے زمینی حقائق اور ضلعی عہدیداروں کے مشوروں کو نظرانداز کرکے اسلام آباد میں رہائش پذیر شخص کو ٹکٹ دیا تھا۔

اس غلط فیصلے کی وجہ سے پارٹی میں شدید اختلافات پیدا ہوئے تھے جس کی وجہ سے صوبائی کا امیدوار بری طرح ناکام ہوکر تیسرے پوزیشن پر آئے تھے۔ مولانا فتح الباری صاحب ضلع سے باہر رہائش پذیر ہونے کی وجہ اپر چترال کے عوامی مسائل سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں اور عوام کے مزاج سے بھی ناآشنا ہیں۔ ان وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے جے یو آئی کے امیدوار کی کامیابی ممکن دیکھائی نہیں دے رہا ہے۔ اپر چترال میں تحصیل کونسل موڑکھو کے لیے جماعت اسلامی کے امیدوار مولانا جاوید حسین صاحب ہیں جوکہ جماعت اسلامی اپر چترال کے امیر بھی ہیں۔اگرچہ اپر چترال میں جماعت اسلامی کا ووٹ بنک نہ ہونے کے برابر ہے لیکن مولانا جاوید حسین صاحب اس سے پہلے ڈسٹرکٹ ممبر رہ چکا ہے۔ نوجوان ہردلعزیز شخصیت کا مالک ہے۔ جاوید حسین اپنے ذاتی تعلقات اور اثر و رسوخ کی وجہ سے تحصیل کونسل موڑکھو کے لیے مضبوط امیدوار خیال کیا جاتا ہے۔

برادری کا بھرپور تعاون بھی اسے حاصل ہے۔ 2015 میں موڑکھو میں جو تباہ کُن سیلاب آیا تھااُس وقت مولانا جاوید حسین بطور ڈسٹرکٹ ممبر سیلاب زدگان کی بھرپور خدمت انجام دیا تھا جس کی وجہ سے موڑکھو کے عوام میں اس کے لیے ہمدردی پائی جاتی ہے۔ تحصیل کونسل کی سیٹ جیتنے کا امکان موجود ہے۔ حکمران پارٹی پی ٹی آئی کا نامزد امیدوار جمشید صاحب کا تعلق تورکھو سے ہے۔ وہ پہلی بار کسی عوامی عہدے کے لیے منظر عام پر آئے ہیں۔نوجوان سماجی کارکن ہے، عوامی مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ حکمران پارٹی میں ہونے کی وجہ سے ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرسکتے ہیں۔ لیکن پی ٹی آئی کی آٹھ سالہ دورِ حکومت میں اپر چترال کو مسلسل نظر انداز کردیا گیا ہے۔ اس کا واضح ثبوت چارسالوں تک وزیر اعلیٰ کا اپر چترال کا دورہ نہ کرنا ہے۔ اپر چترال کو ضلع کا درجہ دے کر اس کے لیے کوئی ترقیاتی فنڈ جاری نہیں کیے گئے ہیں اور نہ ہی ان چار سالوں میں ضلعی دفاتر کا قیام عمل میں آیا ہے۔پی ٹی آئی کی حکومت میں بدترین مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے حکومت کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔اس وجہ سے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے تحصیل کونسل موڑکھو کے لیے مستنصر الدین صاحب کو نامزد کیا گیا ہے۔وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ با شعور نوجوان ہیں اور اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی یتیم ہو چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار تحصیل کونسل کے صرف ایک سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوا ہے۔ موڑکھو میں مذہبی جماعتوں کا اثر و نفوذ زیادہ ہونے کی وجہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کی کامیابی مشکل نظر آرہی ہے۔


تحصیل مستوج میں مذہبی جماعتوں نے تحصیل کونسل کے لیے اپنے امیدوار کھڑے نہیں کیے ہیں۔ جے یو آئی نے مسلم لیگ نون کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ مسلم لیگ نون اور جے یو آئی کا اتحاد کیا رنگ لائے گا؟ اور اس کا انجام کیا ہوگا؟ یہ آنے والے وقت میں معلوم ہوجائے گا۔تحصیل مستوج میں تحصیل کونسل کے لیے پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نون کے امیدواروں کے درمیان مقابلے کا امکان ہے۔ بیار تحصیل کونسل میں پیپلز پارٹی کا پلہ بھاری دیکھائی دے رہا ہے۔حکمران جماعت پی ٹی آئی کے امیدواروں کو لوئر اور اپر چترال میں عوام کی طرف سے سخت ردعمل کا سامنا کرنے کا امکان ہے کیونکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت گزشتہ آٹھ سالوں سے چترالی عوام کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کر رہی ہے۔ خاص کر لوئر چترال میں مسلم لیگ نون کے اقتدار میں منظور شدہ گیس پلانٹس منصوبے کو ختم کرکے چترالی عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کی ہے۔اس وجہ سے چترالی عوام میں پی ٹی آئی حکومت کے خلاف سخت ناراضگی پائی جاتی ہے اور پی ٹی آئی کا بلدیاتی انتخابات میں پشاور جیسا حشر ہونے کا قوی امکان ہے۔تحصیل مستوج میں مسلم لیگ نون کی طرف سے تحصیل کونسل کا امیدوار پرویز لال معروف سماجی کارکن ہیں۔ تحریک حقوق اپر چترال کے پلیٹ فارم سے اپر چترال کے مسائل حل کرنے کے لیے کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ پرویز لال حال ہی میں مسلم لیگ نون میں شامل ہوکر تحصیل کونسل کا ٹکٹ حاصل کیا ہے اور انھیں برادری کا تعاون بھی حاصل ہے۔مگر مسلم لیگ نون کی پارٹی اپر چترال میں فعال اور منظم نہ ہونے کی وجہ سے انتخابی مہم کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

۱۲ فروری ۲۲۰۲


شیئر کریں: