Chitral Times

Oct 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے مشہور شاعر اور ادیب عنایت اللّٰہ اسیر کی کتاب: ژیر غست؛ کی تقریب رونمائی – تحریر:اشتیاق چترالی

شیئر کریں:


کسی بھی زبان کی ترویج و اشاعت اور پذیرائی میں وہاں کے مقامی ادباء،شعراء اور قلم کاروں کا ایک اہم رول ہوتا ہے اور یقیناّ یہ آگے جاکے کامیابیوں اور کامرانیوں کا ثمر ضرور کاٹے گی کہ جس سے ہماری پیاری زبان کہوار کو مزید درجہ ملے گا جس سے اس کی شیرینی اور لطافت سے دوسرے لوگ بھی محظوظ ہونگے۔چترال کے اندر بھی اس ذمہ داری کی بحسن وخوبی انجام دہی کی طرف ہمارے شعراء جس خلوص اور محبت سے گامزن ہیں یقیناّ ان کا یہ عمل لائق صد تحسین ہے۔
چترال سے تعلق رکھنے والے مشہور شاعر،ادیب جو بیک وقت استاد، سوشل ورکر،مقررومربی،سماجی کارکن کے علاوہ دیگر خوبیوں اور صلاحیتوں کے بھی مالک ہیں وہیں پہ قلم کاری کا ہنر پت بھی خوب دسترس رکھتے ہیں۔چترال اور یہاں کے مسائل پر آہ و فغان بلند کرنے اور ان کو منظر عام پر لاکر حل کرنے کیلئے جس جدوجہد میں برسر و پیکار ہیں اس میں اپنی کتاب کو اپنا ہم رکاب بنانے کیلئے اس کا نام بھی :ژیرغست؛ رکھ دیا۔


اس کتاب کی تقریب رونمائی آیون کے مقامی سکول میں منعقد ہوا۔ تقریب کو جس خوبصورتی سے وہاں کے مقامی تنظیم :انجمن شمع فروزان؛ نے ترتیب دیا تھا وہ بھی قابل داد ہے۔
صاحب کتاب ویسے تو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں جو آج سے نصف صدی قبل اسٹیج پہ آکے اپنے کلام سنانے شروع کئے اور ہنوز اس کام کو بحسن و خوبی انجام دہی کی جانب گامزن ہیں۔


موصوف نے اس کتاب میں حمد،نعت،نظم،غزل،اسلامی اقدار کے فروغ،علاقائی اور قومی سطح پر وطن سے محبت کا درس،علاقائی،قومی،نسلی، مذہبی تعصب سے پاک معاشرے کی بنیاد کے علاوہ دیگر اہم امور زیر بحث لائے ہیں یقیناّ یہ ان کی دین سے محبت،اللّٰہ کی وحدانیت، مملکت خداداد سے محبت،کہوار ادب سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔دیگر موضوعات میں اخلاقی اقدار کی پامالی،تعلیم کے اہمیت، تربیت پر زور، مذہبی ہم آہنگی، سیاست میں تقسیم در تقسیم کی روش،قبیلوں میں تقسیم کی مخالفت ایسے موضوعات ہیں کہ جن پر جس خوبصورتی سے روشنی ڈالی ہے وہ ان کے دل میں موجود درد کو عیاں کرتی ہے اس کے علاوہ فکری مطابقت میں تقسیم،خودداری،غیرت کا پیغام،خلیفہ،غریب بچے کی فریاد،پاک چین دوستی،مرثیہ خالد بن ولی،مزدور شہری کی فریاد بھی اس کا آہم جزو ہیں جس میں کہوار کے علاوہ ہماری قومی زبان کے نظم بھی شامل ہیں جو ان کی قومی زبان سے محبت کا بھی مظہر ہے۔


اس کی رونمائی کی تقریب آیون کے ایک مقامی سکول میں منعقد کی گئی جس کے مہمان خصوصی انجمن ترقی کہوار کے مرکزی صدر شہزادہ تنویر الملک تھے اور محفل کی صدارت صدارتی ایوارڈ یافتہ معروف شاعر محمد عرفان عرفان نے کی۔اس کے علاوہ آیون سے تعلق رکھنے والے معززین اور نوجوان شعرائے کرام نے بھی تقریب میں شرکت کی اورمہمان شعراء میں مشہور شاعر افضل اللّٰہ افضل،سعید الرحمٰن سعیدی اور حسنین زین شامل تھے۔
اسٹیج کی ذمہ داری انجمن شمع فروزان آیون کے صدر عبدالصمد اور صفی اللّٰہ آسی صاحب نے انجام دئے۔آسی صاحب نے جس خوبصورت انداز میں کتاب پر اپنا مقالہ پیش کیا یقین جانئے اس کے بعد مزید کچھ لکھنے کی جسارت سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔انھوں نے جس احسن انداز میں اس کتاب پر روشنی ڈالی سن کے دل باغ باغ ہو گیا جس سے صاحب کتاب کے دل کو بھی تسکین ملنا فطری امر ہے اور آخر میں انھوں نے صاحب کتاب کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین بھی پیش کیا۔


مہمان خصوصی شہزادہ تنویر الملک نے کتاب کی چھپائی کے حوالے سے مسائل اور صاحب کتاب کی کہوار ادب اور شاعری کیلئے خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اس طرح کے کہوار آدب کیلئے خدمات کی سرپرستی کا بھی آعادہ کیا۔صدر مجلس جو صاحب کتاب کے دیرینہ ساتھیوں میں بھی شامل ہیں نے زبردست الفاظ میں خراج تحسین کے پھول نچھاور کئے۔


عنایت اللّٰہ صاحب نے اپنے خطاب میں انجمن ترقی کہوار کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا کہ جنھوں نے اس کتاب کی اشاعت کو ممکن بنایا اور منظر عام لانے اور اس میں مزید نکھار لانے کے عزم کا اعادہ کیا۔اپنے خطاب میں ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مملکت خداداد پاکستان کی تعمیر و ترقی میں نوجوانوں کا اہم رول ہے جس کو اگر نوجوان پہچان لیں تو یہ چترال کے لئے ہی نہیں پورے ملک کے لئے خدمات کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کو جنم دے گی۔نوجوانوں پر انھوں نے زور دیا کہ موجودہ پر فتن دور میں ان کو حالات سے خوف کھانے اور گھبرانے کی چندان ضرورت نہیں ہے وہ اسلامی احکامات اور پیغمبر اسلام محمد الرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی سمیٹ سکتے ہیں اور پہلے مسلمان پھر ہر شعبہ ہائے زندگی میں نام کما سکتے ہیں۔اس کے بعد اس تقریب کو منعقد کرنے پر شمع فروزان کے ذمہ داران کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ان کے اعزاز میں زبردست پروگرام ترتیب دئے اور گزشتہ دس سالوں سے یہ تنظیم کسی بھی علاقائی تعصب،سیاسی ومذہبی تعصب سے پاک ہو کر اصلاح معاشرہ کی جانب جس انداز سے برسر پیکار ہیں اس پر اس تنظیم کے ذمہ داران اور اکابرین بھی داد و تحسین کے مستحق ہیں اور ان کی دس سالہ کارکردگی کا کیک بھی کاٹا گیا۔


اس پروگرام کا آخری حصہ مشاعرے پر مشتمل تھا آیون سے اور آیون سے باہر سے آنے والے شعراء جن میں قابل ذکر افضل اللّٰہ افضل، سعید الرحمٰن سعیدی اور نوجوان شاعر حسنین زین نے شرکت کی۔اس کے علاوہ عبدالحسیب حسیب،صدرالدین صدر،طاہر شادان کے علاوہ دوسرے شعرائے کرام نے اپنے اپنے کلام پیش کئے اور شرکاء محفل سے داد سمیٹے،خصوصاّ نوجوان شاعر حسنین زین نے اپنے کلام میں محفل کے رونق کو چار چاند لگا دئے جن کی شعری مجموعوں میں جس حقیقت پسندی اور ان کے اوپر گزرے ہوئے حالات کی منظر کشی کی گئی ہوتی ہے وہ صدائے صد آفرین ہے اور وہ وقت بھی دور نہیں جب اعلٰی پائے کے اخلاق سے مزین یہ نوجوان اپنے کردار اور اپنے شعری مجموعوں سے اس دیس کے نوجوانوں کے دلوں میں راج کریں گے۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کے پروگرامات سے جہاں کہوار زبان کی ترویج کے عمل کو مہمیز ملے گی وہیں پہ نوجوانوں کے اندر اپنے ملک اور چترال خصوصاّ اپنی زبان سے محبت اور لگاو بھی مزید بڑھے گی اور ان کے اندر ایک نیا جوش اور ولولہ جنم لے گی جو آگے جا کر ان کی کامیابی اور علاقے کی عالمی افق پر سرخروئی کا باعث بنے گا۔


شیئر کریں: